ایم کیو ایم کے استعفے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی یا حکومت اور رینجرز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش

ایم کیو ایم کے استعفے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی یا حکومت اور رینجرز پر دباؤ ...

  

تجزیہ : شہباز اکمل جندران

  کیا حکومت ایم کیو ایم پر پابندی لگانے جارہی ہے۔اور استعفے ، خود کو سیاسی موت مرنے سے بچانے کی ایک حکمت عملی ہے یا متحدہ نے یہ قدم حقیقی معنوں میں حکومت اور رینجرز پر دباؤڈالنے کے لیے اٹھایا ہے۔پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002کے تحت بیرونی امداد لینے،ملکی سالمیت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے یا دہشت گردی میں ملوث سیاسی جماعت پر پابندی کی صورت ایسی جماعت کے صرف وہی افراد ،آئندہ الیکشن لڑنے کی چار سالہ پابندی سے بچ سکتے ہیں۔ جو پابندی عائد ہونے سے قبل پارٹی سے اعلانیہ طورپر مستعفی ہوجائیں۔یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفے قبول ہوتے ہیں یا پی ٹی آئی کی طرح انہیں بھی وقت دیا جاتا ہے۔بہر صورت ایم کیوایم کی یہ نئی پیش رفت عوامی حلقوں کا موضوع بن گئی ہے۔گزشتہ روز دن بھر میں ایم کیوایم کے اراکین پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی کے ممبران کے استعفوں کی خبریں میڈیا کی زینت بنی رہیں۔ سینٹ میں ایم کیو ایم کی 8سیٹیں ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں 24اور سندھ اسمبلی میں 51سیٹیں ہیں۔ایم کیوایم نے بظاہر تو استعفے کراچی میں رینجرز آپریشن کے خلاف بطور احتجاج دیئے ہیں۔متحدہ نے یہ قدم حقیقی معنوں میں حکومت اور رینجرز پر دباؤ ڈالنے کے لیے اٹھایا ہے یا بات کچھ اور ہے۔ اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرسکتا ہے۔موجودہ حالات میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ متحدہ نے یہ قدم مستقبل میں سیاسی احتیاط کے طورپر اٹھایا ہوں۔ کیونکہ الطا ف حسین کی جماعت پر بھارت سے فنڈز حاصل کرنے ،ملکی ساکھ کو نقصان پہنچانے ،بھارت اور نیٹو کو پاکستان میں مداخلت کے لیے دعوت دینے کے الزامات ہیں۔بھارت سے مالی امداد لینے کے الزامات بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں عائد کئے ہیں۔جبکہ موخر الذکر کا تذکرہ خود الطاف حسین کی تقاریر میں پایا گیا ہے۔ ایسے میں ان میں سے ایک بھی الزام ثابت ہواتو وفاقی حکومت کے اختیار میں ہوگاکہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002کے سیکشن ہے۔ تو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002کے باب تین ، آرٹیکل 15 کے ذیلی آرٹیکل 1کے تحت وفاقی حکومت ایم کیو ایم پر پابندی عائد کرسکتی ہے جس کا فیصلہ سپریم کورٹ کریگی۔وفاقی حکومت پابندی عائد کرنے کے بعد آرٹیکل 15(2)کے تحت 15دنوں کے اندر ریفرنس تیار کرکے سپریم کورٹ کو ارسال کریگی۔اور سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔اسی طرح مذکورہ قانون کے آرٹیکل(1) 16کے تحت حکومت کی طرف سے تحلیل کی جانے والی سیاسی جماعت کے قومی وصوبائی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین اسمبلیوں یا سینٹ کی باقی مدت کے لیے نااہل قرار پائینگے ۔جبکہ آرٹیکل 16(2)کے تحت نااہل قرار پانے والے اراکان آئندہ چار برسوں کے لیے الیکشن میں حصہ بھی نہیں لے پائینگے۔البتہ ایسے ممبران جو سیاسی جماعت پر پابندی سے قبل اعلانیہ طورپرمستعفی ہوجائیں۔وہ الیکشن لڑنے کی پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔یہ باتیں بھی موضوع بحث ہیں کہ ایم کیو ایم کے استعفے قبول ہوتے ہیں یا نہیں ۔ایم کیوا یم نے یہ قدم کیوں اٹھایا اوراس کے پس پردہ محرکات کیا ہیں۔

مزید :

تجزیہ -