مستقبل کی عدلیہ مقتل میں کھڑی تھی!

مستقبل کی عدلیہ مقتل میں کھڑی تھی!
مستقبل کی عدلیہ مقتل میں کھڑی تھی!

  

پاکستان کی تاریخ کا یہ حادثہ کتنا خوفناک اور دہشت ناک تھا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے۔ اس وحشت ناک حملے نے پورے پاکستان پر سکتہ طاری کردیاتھا۔

اس کی گونج میں انسانی جسموں کے ٹکڑے اڑ رہے تھے، عدل گاہ پر سکتہ طاری ہوگیا تھا۔ یہ وکلا کی کربلا بن گئی تھی، لاشیں بکھری پڑی تھیں، زندگی کے چراغ بجھ رہے تھے، اس دہشت گردی نے ڈاکٹروں کو خوفزدہ کردیا تھا۔ یہ ایک فطری خوف تھا یہ ایک منظم منصوبہ بندی کے بعد کیاگیا تھا۔ حکومت ہر ایسے حادثہ کے بعد سراسیمہ نظر آتی ہے اور عجیب وغریب دلائل دینا شروع کرتی ہے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنا اس کا شیوہ نہیں رہا۔ حملہ کرنے والوں نے جہاں چاہا وہاں حملہ کیا اور اپنا ہدف پورا کیا۔ وہ اپنے ہدف پر بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچے ہیں۔ یہ معاشرے کی کریم تھی قابل اور لائق ترین انسانی گروہ تھا۔ یہ بلوچستان کا مستقبل تھا، جس کو مقتل میں گھیرا گیا۔ یہ ایک کاری ضرب تھی، جو حکومت کو لگائی گئی تھی۔ اس کو جس پہلو سے بھی دیکھیں حکومت کی ناکامی جھلکتی ہے۔ بے بسی نظر آتی ہے۔ انصاف کی وکالت کرنے والوں کی زندگیوں کے چراغ گل کئے ۔کیا بے بسی کا منظر تھا ،اس ایک حملے نے کتنے گہرے گھاؤ لگائے، کتنے گھروں کو اجاڑ دیا۔8 اگست کا سورج خون آلود نظر آیا کسے معلوم تھا کہ اس کی صبح میں موت کا کھیل کھیلا جانے والا تھا۔ کوئٹہ کی وادی نے اپنی پوری تاریخ میں ایسا منظر نہ دیکھا ہو گا، بلکہ پورے پاکستان میں ایسا مقتل نہ دیکھا ہوگا۔ کوئٹہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک بے بس انسانوں کی چیخوں سے گونج رہا تھا۔ ماؤں بہنوں اور بیویوں کی صدائیں دور تک سنی گئیں۔ بے بسی کا منظر دل دھلانے والا تھا۔ ایک نواب کے گھر کے ماتم کدہ کو ابھی تک فراموش نہیں کرسکا ہوں۔

اس دن نتھا سنگھ اسٹریٹ پر دوستوں کے ساتھ نیشنل لیبر فیڈریشن میں خوش گپیوں میں محو تھا کہ اچانک نواب بگٹی بہت تیزی سے گاڑی چلاتے ہوئے گزر گئے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ نواب بگٹی اتنی تیزی سے کیوں گزرے ہیں؟ چند لمحوں بعد اس حصہ میں دکانیں بند ہونا شروع ہوگئیں۔ باہر نکلا تو علم ہوا کہ نواب کا بیٹا قتل ہو گیا۔ ایک خوف کا سناٹا چھاگیا تھا، نواب کا سب سے چھوٹا بیٹا سلال قتل ہوگیا تھا۔ یہ نواب بگٹی کے مستقبل کا سنہرا خواب تھا، جو خون میں ڈوب گیاتھا۔ نواب کا جانشین زندگی کی بازی ہارگیا تھا۔ نواب سے ایک زمانہ کا تعلق تھا، دفتر سے نکلا، اب مغرب کا وقت ہوچلا تھا تسلی دینے کے لئے نواب بگٹی کی گلی میں داخل ہوا تو قدم رک گئے۔ نواب بگٹی کے گھر سے عورتوں کی دلدوز صدائے احتجاج کا رنگ ایسا تھا کہ دل بے قابو ہوگیا ۔ بہنوں اور بیوی کی رونے کی آواز وں میں ایسا درد تھا کہ دل بھر آیا اور بڑی مشکل سے آنسوؤں پر قابو پا سکا اور حوصلہ نہ تھا کہ نواب کو حوصلہ دیتا ،لوٹ آیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک اور ایسا ہی منظر میری نگاہو ں کے سامنے تھا۔ موبائل پر فون آیا کہ آپ کی گلی میں ایک نوجوان لڑکا قتل ہوگیا۔ دل دھک سے رہ گیا۔خیال آیا کہ میرا بیٹا نہ ہو جلدی گھر پہنچا تو گلی میں رش تھا میرا ہمسایہ جو ایک غریب نوجوان تھا۔ اس کی جوائنٹ روڈ پر پان کی دکان تھی۔ اس کے والد سے اچھے تعلقات تھے۔ اس کے گھر کے قریب پہنچا تو عورتوں کی رونے کی آوازیں اتنی زور دار تھیں اور اس میں درد و بے بسی اپنے عروج پر تھی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ گھر کسی نواب کا ہو یا خاک بسر نوجوان کا ہو درد اور غم یکساں ہوتا ہے۔ دونوں طرف بے بسی نظر آتی ہے۔ نواب کی بے بسی اور مزدور کے بیٹے کی بے بسی یکساں نظر آئی۔ مجھے اندازہ ہے کہ جس جس گھر میں معزز وکلاء کی لاشیں گئی ہوں گی ،ہر گھر میں ایک کربلا بپا ہوئی ہوگی۔ ماؤں کے دلوں پر کیا گزری ہو گی۔ بیٹیوں کے دل خون ہوگئے ہوں گے۔ بیویاں بے بسی کی تصویر بن گئی ہوں گی۔ ماں باپ کی نگاہوں میں اندھیرا چھا گیا ہو گا۔ خوبصورت مستقبل بے جان جسموں کے ساتھ پڑے ہوں گے۔ موت نے انہیں گھر لوٹنے نہیں دیا۔ ہنسی خوشی اپنے اپنے گھروں سے اپنے پیاروں سے رخصت ہوگئے ہوں گے۔ ایک دست قاتل نے کتنے بچوں کویتیم کر دیا۔ بیواؤں میں اضافہ کر دیا۔ کوئٹہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک غم کے سائے پھیل گئے تھے۔ ہرقبیلہ زخم خوردہ تھا۔ پورا ملک سوگوار تھا۔ مذہبی پارٹیاں، سیاسی پارٹیاں اور ان کے سربراہ ہرگھر پر گئے۔ دانشور وکلاء تاجر برادری صحافی برادری سارے اس غم میں شریک تھے۔ گہما گہمی تھی ،مگر غم کئے ہوئے تھے افسردگی چھائی ہوئی تھی غصہ بھی تھا، لیکن دشمن پس پردہ تھا صرف اس کی پرچھائیں گھومتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ایک ہیولاتھا جو کبھی نظر آتا اور کبھی اوجھل ہوتا ہاتھ نہ آتا انتقام کی خواہش تھی، لیکن دشمن نظر نہیں آرہا تھا ایسی بے بسی ہزارہ قبیلہ کی ہوتی جب لاشیں ان کے گھروں میں جاتیں، قبرستان بے گناہ انسانوں سے آباد ہوگئے ہیں ہر قبرستان میں شہداء کی قبریں نظر آتی ہیں اکثر وبیشتر وکلاء سے قریبی تعلقات تھے کورٹ جاتا تو ان سے ملاقاتیں ہوتیں۔

وکلاء تحریک میں انہیں کوئٹہ سے دور تک چھوڑنے گیا ہوں پھر وہ لوٹ آتے ،مگر اب ایسے گئے ہیں کہ لوٹ نہیں سکیں گے۔ وہ سب ہماری دنیا سے چلے گئے ہیں اور شہر خموشاں میں جا بسے ہیں۔

اپنے اس کالم کو حضرت علیؓ کے ایک اہم خطبے کے بعض حصوں کو قارئین کی نذر کرتا ہوں آپ غور کریں گے کہ اپنے وقت کے امام نے کیا کہا یہ خطبہ انسان کی زندگی کی ناپائیداری کی داستان سناتا ہے۔ یہ کیسا منظر ہوگا جب قریب ترین رشتہ داروں نے اپنے ہاتھوں سے اپنوں کو خاک کے سپرد کیا ہوگا ۔جانے والوں کو علم نہ ہوگا کہ ان کے چاہنے والوں پر کیا قیامت گزری ہوگی۔

حضرت علیؓ نے فرمایا:

’’اب ان کی واپسی کا کوئی منتظر نہیں ظاہر میں حاضر ہیں اور درگور ہیں اور قید سامنے ہی ہے، لیکن مجالس میں حاضر نہیں ہوسکتے ہیں پہلے آپس میں میل جول رکھتے تھے اب جدا ہیں ان کے شہر و دیار گنگ اور خاموش ہوگئے ہیں ،لیکن انہوں نے جام مرگ پی لیا ہے ان کی گویائی گونگے پن سے، شنوائی بہرے پن سے تبدیل ہوگئی اہل گورستان ایسے ہمسائے ہیں جو ایک دوسرے سے کوئی ربط نہیں رکھتے ایسے دوست ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں بھائی بندی کے اسباب منقطع ہوگئے ہیں حالانکہ یہ سب مجمع ہیں، لیکن اکیلے اکیلے ہیں اگرچہ آپس میں دوست تھے ،لیکن مہچور ہیں یہ لوگ نہ دن کو پہچانتے ہیں نہ رات کو ان میں ہر ایک نے جس شب کوچ کیا تھا وہ ان کے لئے ہمیشگی کا زمانہ تھا اگر رات تھی تو اب اس کا دن نہیں آئے گا اور اگر دن تھا تو اب اس کی رات نہیں آئے گی وہ شگفتہ اور شادات چہرے زشت اور بدنما ہوگئے نرم ونازک بدن خاک ہوگئے اب بدن پر جامہ کہنہ(کفن) پارہ پارہ ہے۔ ہماری خاموش منزلیں (قبریں) ویران ہوتی جارہی ہیں جس کے باعث ہمارا اندام نازک، روئے خوش آب ورنگ زشت بدنما ہوگیااور ہماری موت قیام دراز تر ہوگئی ہے۔ اس زمین نے کیسے کیسے معزز اور خوش نما خوبصورت اجسام کوکھا لیا ہے۔ جو غم کے وقت بھی خوش رہتے تھے ناگاہ زمانہ نے ان کی مسرت آمیز زندگی کو اپنے کانٹوں سے چھلنی کردیا موت نے بہت قریب سے ان پر نگاہ قہر ڈالی اور موت کی آغوش میں چلے گئے۔

اگر اسرار کے پردے تمہاری آنکھوں سے ہٹادیئے جائیں تو تم دیکھوگے کہ وہ تمہیں عجیب حالت میں نظر آئیں گے ان کے کانوں کو زیر زمین جانوروں نے کاٹ پیٹ کر رکھ دیا ہے وہ اب بالکل بے بہرہ ہیں ان کی آنکھوں میں مٹی کا سرمہ گھلا ہوا ہے اور سرکی ہڈیوں میں پیوست ہوکر رہ گئی ہے ان کے ہر عضو بدن پر کُہنگی طاری ہوئی رہتی ہے۔ نہ ان کے دل ہیں کہ نالہ وفریاد کرسکیں، یقیناًمردے عبرت کے لئے زیادہ لائق ہیں نہ کہ سبب اختیار ان کا نظارہ کرکے تواضع و فروتنی اختیار کرنا خرد مندی ہے نہ کہ اسے وسیلہ فخرو ارجمندی بنانا‘‘۔

یہ خطبہ انتہائی اہم ہے اور موت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ جب وکلاء اپنے صدر کو دیکھنے جارہے تھے تو کسے معلوم تھا کہ وہ موت کے منہ میں جارہے ہیں اور اگر بلال کاسی کو قوت گویائی حاصل ہوتی تو وہ چیخ چیخ کر کہتا دوست مت آؤ مت آؤ رک جاؤ، موت کا مہیب شکنجہ تمہارا منتظر ہے، لیکن موت تو قوت گویائی کو سلب کرچکی ہوتی ہے درجنوں وکلاء اپنے صدر کے پاس چلے گئے ، یہ دنیا عبرت کی جاہ ہے اس سے سبق حاصل کرو ہم سب کے لئے ایک عظیم تر عدالت منتظر ہے اور ہم سب کو اس کا حساب دینا ہوگا وہاں کوئی P-L-Dکام نہیں آئیگی اس عدالت کے فیصلہ اور قلم کے بعد کوئی دوسری عدالت نہیں ہوگی۔ 8 اگست کا حادثہ اور المیہ ہمارے لئے سبق کے کئی پہلو دکھاتا ہے کیا ہم اس کے بعد سنبھلے ہیں۔ 8 اگست کے شہداء کو اللہ تعالیٰ اپنے دامن رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے (آمین)

مزید :

کالم -