ایک اور گواہی

ایک اور گواہی
ایک اور گواہی

  

مجھے معلوم نہیں ہے کہ جب جسٹس یا چیف جسٹس کسی بھی کیس میں دوران سماعت کوئی ریمارکس دیتے ہیں تو ان کی کیا قانونی حیثیت ہوتی ہے،فیصلے کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہوتا ہے یا وہ محض اخلاقی نوعیت کے جملے ہوتے ہیں،مگر مجھے یہ معلوم ہے کہ جب بھی کوئی معزز جج دورانِ سماعت کچھ ریمارکس دیتے ہیں تو وہ جملے ہر دو فریق کے لئے نقصان دہ یا فائدہ مند ضرور ہوتے ہیں اور عوامی سطح پر ان کا بہت چرچا ہوتا ہے۔مثال کے طور پر نواز شریف کے کیس میں ایک معزز جج صاحب نے ریمارکس دیتے ہوئے’’گاڈ فادر‘‘ کی ترکیب استعمال کی۔ ان جج صاحب کے یہ جملے ہر ایک کی زبان پر ناچنے لگے۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین نے اِس جملے کو بہت انجوائے کیا۔۔۔ اور کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی نواز شریف کو گاڈ فادر کے جملے کی نوک پر رکھ دیا۔ یہ دوسری بات ہے کہ جب فیصلہ آیا تو نواز شریف کو ’’گاڈ فادر‘‘ ثابت نہ کیا جا سکا اور محض ’’فادر‘‘ ہونے کی بنا پر نااہل قرار دے دیا گیا، یعنی کہا گیا ہے،چونکہ آپ بیٹے کے ملازم تھے، تنخواہ آپ نے نہیں لی،مگر چونکہ آپ ’’باپ‘‘ تھے، لے بھی سکتے تھے؟اس’’گاڈ فادر‘‘ کے لفظ نے نواز شریف کو ذہنی طور پر اِس قدر زچ کیا کہ آخر ایک دن انہوں نے عدالت کے احاطے میں کھڑے ہو کر اخبار نویسوں سے کہا۔۔۔ مَیں کیسا گارڈ فادر ہوں جو مسلسل عدالت میں پیش ہو رہا ہے، کیا ’’گارڈ فادر‘‘ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں؟انہی معززجج نے نواز شریف کے بعد جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے بارے میں کہا۔۔۔ مُلک بھر میں کوئی صادق وامین نہیں ہے، ماسوائے سراج الحق کے۔۔۔ گو کہ بعد میں انہوں نے اپنے اس جملے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ جملے نہیں کہنے چاہئے تھے،مگر سراج الحق صاحب نے یہ جملے اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے ایک بڑے سیاسی اجتماع میں کہا اب تو اس ’’فقیر‘‘ کے لئے عدالت نے بھی لفظ صادق و امین استعمال کیا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ مُلک بھر میں اس فقیر کے سوا کوئی دوسرا صادق و امین نہیں ہے، تو قوم کو سوچنا چاہئے کہ وہ کن لوگوں کے پیچھے بھاگتی رہتی ہے۔

ابھی گزشتہ روز ہمارے مقبول چیف جسٹس نے فرمایا ہے کہ الیکشن بالکل ٹھیک چل رہے تھے، صورتِ حال بہت اچھی تھی، بہت پُرامن ماحول تھا،مگر اچانک گڑ بڑ ہو گئی۔بقول چیف جسٹس کے انہوں نے تین بار چیف الیکشن کمیشن کو فون کیا،مگر انہوں نے میرا فون نہیں سنا۔۔۔ تو کیا چیف الیکشن کمشنر سوئے ہوئے تھے۔مجھے معلوم ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے یہ الفاظ دُکھی دِل کے ساتھ کہے ہیں، کیونکہ زیر سماعت کیس کے دوران انہوں نے فیصلے میں چیف الیکشن کمشنر کے کردار کے حوالے سے کوئی بات نہیں لکھی، مگر ان کے یہ جملے اخلاقی طور پر الیکشن کمیشن کے کردار پر ایک ’’طمانچہ‘‘ ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں اگر دھاندلی اور الیکشن کمیشن کی نااہلی پر سوال اُٹھا رہی ہیں تووہ کوئی غلط بھی نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کی نااہلی اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، مُلک بھر میں الیکشن کمیشن کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جا رہی ہیں۔پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اپوزیشن تو اپوزیشن حکومت بنانے والی جماعت بھی دھاندلی کے حوالے سے سینیٹ میں سوال اُٹھا چکی ہے۔۔۔ چیف جسٹس نے بھی سوال اُٹھا دیا ہے، تو کیا اب بھی کوئی شک باقی ہے کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن کے حوالے سے اپنا کردار درست طور پر ادا نہیں کیا۔ان سے غلطیاں ہوئیں اور ایسی بھاری بھاری غلطیاں ہوئیں کہ انہیں ہر فورم پر ’’جواب‘‘ دینا چاہئے۔

الیکشن کمیشن کو سب سے پہلے اپوزیشن کی جماعتوں کو مطمئن کرنا چاہئے،کیونکہ یہ لوگ سڑکوں پر نکل چکے ہیں،ابھی یہ لوگ ٹھنڈے ماحول میں اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں، مگر آنے والے دِنوں میں اس میں گرمی بڑھے گی، جلسے جلوس ہوں گے،نئی حکومت کے لئے سیاسی مخالفت بڑھے گی اور مُلک میں سیاسی انتشار میں اضافہ ہو گا۔۔۔سو اِس حوالے سے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن جماعتوں کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے، ان تمام حلقوں میں دوبارہ گنتی کرائے جہاں جہاں اعتراض اٹھائے جا رہے ہیں۔ جناب چیف جسٹس بھی اگر مناسب سمجھیں تو الیکشن کمیشن سے اِس حوالے سے ’’جواب‘‘ طلب ضرور کریں کہ اگر انہوں نے مُلک کے چیف جسٹس کا تین بار فون نہیں سنا یا بعد میں رابطہ نہیں کیا تو اس کی کیا وجہ تھی۔۔۔؟ آخر ایسی کیا ’’مصروفیات‘‘ تھیں کہ انہوں نے مُلک کے چیف جسٹس کا فون بھی سننا گوارا نہ کیا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ان لوگوں نے چیف جسٹس کے فون کو کوئی اہمیت نہیں دی،تو پھر کسی بھی حلقے کے امیدوار کی بات انہوں نے کیسے سنی ہو گی؟اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ الیکشن کمیشن کے کردار کو کسی مناسب فورم پر ضرور اٹھائے، ان کے پاس جتنے بھی ثبوت ہیں وہاں پیش کریں۔۔۔ کیونکہ الیکشن کمیشن نے جس ’’تکنیکی‘‘ انداز میں الیکشن کرائے ہیں،اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ بھی ان کے ’’تکنیکی‘‘ انداز کو سامنے لائے۔مجھے یاد آیا کہ گزشتہ روز اپوزیشن کی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دیا، جس میں صرف تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔۔۔ اور یہ دھرنا یا احتجاج قیادت کی سطح پر تھا،اس میں عام لوگوں کو شرکت کے لئے نہیں کہا گیا تھا،مگر پھر بھی لوگوں کی اچھی خاصی تعداد وہاں موجود تھی، مگر شہباز شریف موجود نہیں تھے۔یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر کوئی اٹھا رہا ہے کہ وہاں شہباز شریف کیوں نہیں آئے؟ اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) کے لیڈروں کے بیانات بھی آپس میں میل نہیں کھاتے۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف اپوزیشن کی سیاست کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں، نجانے ان کی کیا مجبوریاں ہیں کہ وہ کچھ تھکے تھکے سے نظر آتے ہیں۔ان کے خطابات میں وہ ’’مائیک توڑ‘‘ قسم کا جذبہ نظر نہیں آتا،حالانکہ اس وقت ’’ہوش‘‘ اور ’’جوش‘‘ کو آپس میں ’’رلانے ملانے‘‘کی ضرورت ہے۔۔۔ یعنی بے شک ’’ہوش‘‘ سے کام لیں، مگر جوش کی جگہ تو جوش سے کام لیں گے کہ نہیں؟

مزید :

رائے -کالم -