طالبان نےازبکستان کا دورہ ، وزیرخارجہ سے ملاقات

طالبان نےازبکستان کا دورہ ، وزیرخارجہ سے ملاقات
طالبان نےازبکستان کا دورہ ، وزیرخارجہ سے ملاقات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قطر (ڈیلی پاکستان آن لائن)افغان طالبان کے ایک وفد نے ازبکستان کے اپنے دورے میں ازبکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ تاہم ماہرین اس دورے کو طالبان کی ایک غیر معمولی سفارتی مہم بھی قرار دے رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ازبک اور طالبان ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے وفد کی قیادت اس شدت پسند تنظیم کے سیاسی شعبے کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی کر رہے تھے۔ طالبان نے جمعے کو ختم ہونے والے اپنے اس چار روزہ دورے میں ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیولوو اور افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی اسمعتیلا ارگیشوو سے بھی ملاقات کی۔

قطر میں طالبان کے دفتر کے ایک ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ اس دوران متعدد موضوعات پر جامع مذاکرات ہوئے، جن میں غیر ملکی دستوں کے انخلاء سے لے کر ازبکستان کے تعاون سے چلنے والے ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں افغانستان میں ریلوے اور توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

شاہین کے مطابق اس موقع پر ازبک حکام نے اُن علاقوں کی سلامتی کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا، جن میں یہ ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، اس موقع پر افغانستان میں مصالحت اور غیر ملکی دستوں کے انخلاء جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ازبک وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے مختصر سے بیان کے مطابق،فریقین نے افغانستان میں امن عمل کے امکانات پر غور کیا۔ ماہرین کے مطابق طالبان وفد کا یہ دورہ خطے میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی ایک کوشش بھی ہے۔مارچ میں ازبک صدر شوکت مرزییف نے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کی خاطر طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران طالبان روس کے ساتھ ساتھ ازبکستان کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان کے خیال میں طالبان اسلامک اسٹیٹ کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف ایک فصیل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکا کا الزام ہے کہ روس طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی