متحدہ حزبِ اختلاف یا حزبِ فساد ؟؟؟

متحدہ حزبِ اختلاف یا حزبِ فساد ؟؟؟
متحدہ حزبِ اختلاف یا حزبِ فساد ؟؟؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج کل حزبِ اختلاف کچھ زیادہ ہی متحد نظر آرہی ہے۔ جس ایجنڈے پر یہ لوگ متحد ہوئے ہیں ، وہ کسی صورت میں بھی ملک وقوم کی خیرخواہی کا نہیں بلکہ سیاسی مافیا کے ہی مفاد میں ہے۔ یہ منفی ایجنڈا ڈسکس کرنے سے پہلے ان نام نہاد متفق لوگوں کے ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ یہ وہی لوگ آج متحد ہوگئے ہیں نا جن میں سے ایک مولانا فضل الرحمٰن کو بے نظیر کی حکمرانی جائز نہیں لگتی تھی کیونکہ وہ عورت تھی۔ مگر آج یہ موصوف محترمہ شیریں رحمان کے ساتھ مل کر شریعت نافذ کرنے کیلیے فکرمند ہیں۔ ان ہی لوگوں میں سے ایک شہباز شریف بھی ہیں جو آصف زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کیلیے بے قرار تھے۔ اور ان ہی کے بھائی نواز شریف نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی جعلی اور نازیبا تصاویر پبلک کروائی تھیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ رائج الوقت انتخابی نظام کا دفاع کیا۔ بقول عمران خان " جس الیکشن کمیشن پر حزبِ اختلاف سراپا احتجاج ہے وہ تو ہے ہی انہی کا بنایا ہوا۔ تو پوچھنا یہ تھا کہ اگر انتخابات جیت جانے میں کامیاب ہوتے تو کیا تب بھی اسی الیکشن کمیشن کے خلاف کوئی احتجاج کرتے؟؟؟ ہرگز نہیں !!! آج یہ لوگ صرف اپنی شکست کا غم غلط کرنے کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ کل تک نظام میں خرابیوں اور اصلاحات کی ضرورت کے لیے آواز اٹھانے والوں کو اپنا دشمن سمجھنے والے آج انہی خرابیوں کی خود نشاندہی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں تو محض اپنی شکست کا غم غلط کرنے کیلیے۔ کل تک احتجاج اور دھرنوں کی سیاست کرنے والے طاہرالقادری اور عمران خان پر طنز کے تیر چلانے والے آج خود کیوں احتجاج کررہے ہیں ؟؟؟ یعنی دوسرے احتجاج کریں تو ملکی استحکام کے خلاف سازش اور خود احتجاج کریں تو ملک کے لیے ناگزیر , یہ کیا معمہ ہے حضور ؟؟؟

اصل میں یہ لوگ صرف پی ٹی آئی کی ٹانگیں کھینچنے کیلیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا ایجنڈا صرف یہ ہے کہ نا خود کھیلیں گے نا دوسروں کو کھیلنے دیں گے۔ دراصل چونکہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی تھی کہ عمران خان کو کامیابی ملے تو آج اسی انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے یہ مہرے گلیوں اور سڑکوں پر عمران خان کی شاندار کامیابی پر تڑپ تڑپ کر اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ عمران خان پر جو لوگ الزامات عائد کرتے رہتے ہیں کہ ان کی پشت پناہی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے , چاہے یہ بات درست ہو یا غلط۔ تاہم مولانا فضل الرحمٰن کی پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف زہر افشانی یہ ثابت کرنے کیلیے کافی ہے کہ حزبِ فساد کے پیچھے ضرور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہے۔ پوری قوم نے اس مرتبہ جشنِ آزادی پرجوش انداز میں منایا۔ اور افواج پاکستان سے اپنی لازوال محبت کا بھی بھرانداز میں اظہار کرکے خود کو ایک زندہ قوم ثابت کیا۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ لوگ خود اس نظام کے سہولت کار تھے۔ ان کا احتجاج کسی قسم کی اصلاح احوال کیلیے نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی طویل عرصہ تک برسراقتدار رہ چکی ہیں۔ اپنے ادوارِ حکومت میں دونوں جماعتوں نے کبھی انتخابی نظام میں کسی خرابی کی نشاندہی کرنے یا کسی قسم کی اصلاح احوال کی زحمت نہیں کی۔ ایسے مطالبات کرنے والوں کے احتجاج اور دھرنوں کا بھی ہمیشہ مذاق اڑایا۔ اگر کبھی پاکستان میں نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کیلیے اصلاحات ہوئیں تو پوری ذمہ داری سے کہہ سکتی ہوں کہ موجودہ حزبِ فساد میں شامل لوگوں کے ہاتھ سے تو ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ انتخابات کے روز آر ٹی ایس سسٹم میں اچانک خرابی کی نشاندہی میڈیا میں کافی دن سے ہورہی ہے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ ایک سازش تھی , جس کے پیچھے مبینہ طور پر حزبِ فساد کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ آر ٹی ایس سسٹم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ دراصل پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری یاکم کرنے کی سازش تھی , کیونکہ عین آخری وقت پر اچانک مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی کامیاب نشستوں میں اضافہ ایک مشکوک عمل دکھائی دیتا ہے۔

جہاں تک الیکشن کمیشن کا تعلق ہے تو وہ ابھی تک متنازعہ حلقوں میں دوبارہ گنتی کیلیے درخواستیں پوری دیانتداری سے نمٹائی ہیں جوکہ اطمینان بخش ہے۔ اس کے باوجود حزبِ فساد کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے۔ جس میں ہم نے دیکھا کہ ن لیگ اور پی پی پی کے ٹکٹ پرایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑکرہارنے اورجیتنے والے بھی اکھٹے احتجاج کرتے نظرآئے ۔ کیا کوئی دانشور سمجھائیگا کہ یہ احتجاج کس کے خلاف تھا ؟؟؟کیا یہ احتجاج کے نام پر قوم کے ساتھ سنگین مذاق نہیں ؟؟؟

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ