کوئی پاکستانی کشمیر پر سودے بازی برداشت نہیں کرے گا،نالائق وزیراعظم کے غلط فیصلے کی وجہ سےکشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے:بلاول بھٹو زرداری

کوئی پاکستانی کشمیر پر سودے بازی برداشت نہیں کرے گا،نالائق وزیراعظم کے غلط ...
کوئی پاکستانی کشمیر پر سودے بازی برداشت نہیں کرے گا،نالائق وزیراعظم کے غلط فیصلے کی وجہ سےکشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے:بلاول بھٹو زرداری

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت مسٗلہ کشمیر کو سنجیدگی سے لے،ہم ہر مسئلے پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر نہیں،انتہا پسند مودی کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے ،ہم صرف پیغاموں پر نہیں چل سکتے بلکہ ہمیں عملی اقدام کرنا ہوں گے، ہمیں کشمیریوں کیلئے جنگ بھی لڑنی پڑے تو لڑیں گے لیکن ہمارے حکمران قومی یکجہتی کو ختم کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں، پاکستانی عوام ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی، حکومت کی کشمیر کے معاملے پر کوئی حکمت عملی نہیں ہے،کوئی پاکستانی کشمیر پر سودے بازی برداشت نہیں کرے گا، تمام پاکستانی کشمیر کے مسئلے پر متحد ہیں، مودی نے کشمیر پر تاریخی حملہ کیا ہے، نالائق وزیراعظم کے غلط فیصلے کی وجہ سےکشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے، کسی ایک نالائق وزیر اعظم کے باعث کشمیر پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے،حکمران  اتنے چھوٹے لوگ ہیں کہ درخواست کے باوجود بھی آصف زرداری کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی۔

نجی ٹی وی کے مطابق  اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےبلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہمودی نے نہ صرف عالمی قانون کی خلاف ورزی کی بلکہ بھارت کے آئین کی بھی خلاف ورزی کی ہے,ہم حقوق دیتے ہیں اور مودی حقوق چھینتا ہے,ہم مودی کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور آخری وقت تک لڑتے رہیں گے.انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ اپنے بیان سے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اگر وزیر خارجہ کشمیر کیلیے کوشش کرنے سے قبل اس طرح کے بیان دیں گے تو پھر ہم بھی حکومت کی نیت پر سوال اٹھانے کیلیےمجبور ہوں گے،موجودہ حکومت مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ ہو اور ذمہ دارانہ فیصلہ کرتے ہوئے قومی یکجہتی کیلئے کردار ادا کرے۔

بلاول  بھٹو زرداری نے کہا  کہپاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے چیئرمین نے عید کی نماز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کشمیر میں ادا کی،اس ظالم حکومت نے محترمہ فریال تالپور کی گرفتاری کا غیر آیئنی فیصلہ کرکے اس بات کا واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت قومی یکجہتی چاہتی ہی نہیں ہے،ظالمانہ حکومت نے عید کی رات کو 12 بجے فیصلہ فریال تالپور کو ہسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کیا،بزدل حکومت  جب فریال تالپور کو جیل منتقل کر رہی تھی،اُس وقت میں مظفرآباد اور آصف زرداری جیل میں تھے، فریال تالپورکےحوالے سےمیرا خاندان درخواست دے گا اور ہم حکومت کو فریق بنائیں گے، یہ اتنے چھوٹے لوگ ہیں کہ درخواست کے باوجود بھی آصف زرداری کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، سزائے موت پر بھی قیدی کو نماز پڑھنے کا حق حاصل ہوتا ہے، شہادتیں دینے والا خاندان ایسے ہتھکنڈوں سے نہیں جھکے گا۔

انہوں نے کہا  کہ  مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے ہم عید خوشی کے ساتھ نہیں منارہے تاکہ پوری دنیا میں رہنے والے کشمیریوں کو پیغام جائے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں کشمیری بھائیوں کے دکھ درد سے خود کو جوڑنا ہوگا،پہلی بار کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نماز عید آزاد کشمیر میں ادا کی اور حکومتی نمائندے کی آزاد کشمیر میں آنے سے اتحاد کی فضا قائم ہوئی، کشمیری عوام کو پیغام دینا تھا کہ ہم ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہیں،ہم کشمیریوں کے لیے آخری دم تک لڑیں گے جس کے لیے ہمیں نہ صرف کشمیری عوام کے ہر دکھ درد میں شامل ہونا ہو گا بلکہ ہمیں خود کو کشمیریوں کے جذبات سے بھی جوڑنا ہوگا،کشمیری عوام حکومت پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں جس کا انہیں جواب دینا ہو گا،ہم ہر مسئلے پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر نہیں، انتہا پسند مودی کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور ایسے وقت میں ہمیں یک زبان ہو کر مودی کے خلاف بولنا چاہیے تھا لیکن ایسی صورتحال میں اپوزیشن کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

بلاول بھٹو نے عید کے بعد اسکردو جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت مضبوط ہو جبکہ ہم اخلاقی سطح پر کشمیر جیت سکتے ہیں اور کسی ایک نالائق وزیر اعظم کے باعث کشمیر پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے،حکومت کی کشمیر کے معاملے پر کوئی حکمت عملی نہیں ہے، حکومت کو ان سوالات کا جواب دینا پڑے گا، قوم حکومت کی طرف دیکھ رہی ہے، آپ کوئی پیغام نہیں دے رہے، صرف ٹوئٹ کر رہے ہیں،کوئی پاکستانی کشمیر پر سودا برداشت نہیں کرے گا، تمام پاکستانی کشمیر کے مسئلے پر متحد ہیں، مودی نے کشمیر پر تاریخی حملہ کیا ہے، جس دن کشمیر پر خبر ہونی چاہیے تھی، اس دن مریم نواز کی گرفتاری بڑی خبر بن جاتی ہے،حکومت قومی یکجہتی پیدا کرنے کیلئے کردار ادا کرے ،میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ حکومت کشمیر کاز کو سنجیدہ لے۔

مزید : اہم خبریں /قومی