اپوزیشن رہنماؤں کو شاہ محمود قریشی کا خط

اپوزیشن رہنماؤں کو شاہ محمود قریشی کا خط

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ثابت ہو گیا قومی مفادات کے تحفظ پر تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ایک ہے، کشمیر سمیت تمام قومی معاملات پر ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بالغ نظری کا مظاہرہ کیا، اپوزیشن کی قابل ِ عمل تجاویز کو ہمیشہ اہمیت دیتے رہیں گے اور کشمیر پالیسی پر آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے حزبِ اختلاف کی مثبت تجاویز کا منتظر ہوں،اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایوان کے فلور پر بھی حزبِ اختلاف کے جذبے کو  سراہا تھا، انہوں نے ان خیالات کا اظہار قائد ِ حزبِ اختلاف شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو  زرداری کے نام اپنے خطوط میں کیا ہے۔

پارلیمانی جمہوری نظام میں حکومت اور حزبِ اختلاف کا کردار متعین ہے، آج کی حکومت، کل کی اپوزیشن ہوتی ہے، آج جن کے سروں پر حکومت کا تاج سجا ہے، کل وہ اس سے محروم بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ سیاست کی وہ ابدی حقیقت ہے جسے تسلیم کر کے اگر آگے بڑھا جائے تو وہ تلخیاں کم سے کم ہو سکتی ہیں، جنہوں نے سیاسی تالاب کے پانی کو زہر آلود کر رکھا ہے،اس وقت قومی اسمبلی میں اگر سیاسی تقسیم پر نگاہ ڈالی جائے تو حزبِ اختلاف نمائندگی کے لحاظ سے بڑی مضبوط ہے،دو ٹوں اور نشستوں کی تعداد کے حوالے سے بھی اُن کی نمایاں حیثیت ہے۔ تحریک انصاف اگر حکومت میں ہے تووہ بھی اپنی اس حیثیت کے لئے کئی دوسری جماعتوں کی محتاج ہے، وہ اگر آج سیاسی تعاون کا ہاتھ کھینچ لیں تو حکومت کا تاج و تخت قائم نہیں رہتا، ان زمینی حقائق کا تقاضا تو یہ ہے کہ حکومت ہر وقت نہ صرف اپنے حلیفوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے فکر مند رہے، بلکہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے دست ِ تعاون کی قدر بھی کرے،لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ دو سال کی حکومت کے عرصے میں حکومت نے نہ صرف یہ کہ حزبِ اختلاف کو اپنے ساتھ آن بورڈ لینے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی،بلکہ اگر کبھی حزبِ اختلاف کے کسی رہنما نے تعاون کی بات کی تو اسے بھی بُری طرح دھتکار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ لوگ این آر او مانگتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے متعلق قوانین کی منظوری کا معاملہ درپیش ہوا اور حزبِ اختلاف کے بعض مطالبات سامنے آئے تو اسے بھی این آر او پلس کہا گیا، پھر واشگاف الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ بل منظور ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، کسی کو این آر او نہیں دیا جائے گا، آج تک اس معاملے پر ترجمانوں کی بیان بازی انہی خطوط پر ہو رہی ہے، اس طرح کی سیاسی رعونت سے معاملات سلجھتے نہیں اُلجھتے ہیں،لیکن جو حضرات بیان بازی پر متعین کئے گئے ہیں وہ نتائج و عواقب کی پروا کئے بغیر بیانات کے گھوڑے بگٹٹ دوڑائے چلے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی اُتار چڑھاؤ میں ایسے ادوار بھی گذر چکے ہیں، جب ایوانوں کے اندر اپوزیشن ارکان کی تعداد بہت معمولی ہوا کرتی تھی، لیکن یہ چند ارکان بھی اسمبلی کے فلور پر اپنی اپنی جماعتوں کی بھرپور نمائندگی کیا کرتے تھے، سرکاری پالیسیوں پر نکتہ چینی بھی ہوتی تھی، مخالفین کو رگڑا بھی لگایا جاتا تھا، سیاسی چٹکلے اور لطیفے بھی ہوتے تھے،لیکن موجودہ اسمبلی میں سیاسی بلوغت سے محروم بعض ارکان کے رویے کی وجہ سے حزبِ اختلاف کو دیوار کے ساتھ لگانے کے جو ریکارڈ قائم کئے گئے ہیں، وہ اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئے، حزبِ اختلاف نے اگر حکومتی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی تو جواب دینے کی بجائے جوابی الزام تراشی کا سہارا لیا گیا۔ گویا کل کے غلط کام آج کے غلط کاموں کا جواز ہیں،ذاتی حملے بھی کئے گئے، جن میں شائستگی کی حدود بھی پھلانگی گئیں، حزبِ اختلاف سے بھی جواب میں جو کچھ بن پڑا اس نے کیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی تلخیاں تو بڑھیں، مفاہمت کی سیاست کا آغاز ہی نہ ہو سکا، اگر کسی نے ایسی بات کہہ دی تو فوراً شور مچ گیا، دیکھو دیکھو، یہ این آر او مانگ رہے ہیں،لیکن حکومت چلی جائے این آر نہیں دوں گا، یہ سب این آر او کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اِس ماحول میں اگر اپوزیشن قانون سازی میں تعاون کی بات بھی کرے تو اسے کمزوری پر ہی محمول کیا جائے گا،لیکن وزیر خارجہ نے قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو خط لکھ کر قومی مفاد میں قانون سازی میں تعاون کا جس طرح شکریہ ادا کیا ہے یہ حبس آلود موسم میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے، امید ہے کہ ایسے جھونکوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور ایسا نہیں ہو گا کہ خوشگواری کا یہ معمولی سا احساس جلد ہی ختم ہو جائے اور حکومت کے ترجمان اس خط کے مندرجات کو اپنے بیانات کی تلخی سے بے اثر بنا کر ر کھ دیں، شاہ محمود نے قومی کشمیر پالیسی پر حزبِ اختلاف سے تجاویز بھی طلب کی ہیں، شہباز شریف  نے آزاد کشمیر اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے یہ پیشکش کی تھی کہ قومی کشمیر پالیسی کی تشکیل نو میں حزبِ اختلاف ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے۔ شاہ محمود قریشی کا خط اس پیشکش کا بالواسطہ جواب بھی ہو سکتا ہے، کشمیر کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ماضی میں ایک ہی صفحے پر رہی ہیں،اب بھی ایسا ممکن ہے بشرطیکہ سنگ باری میں کچھ عرصے کے لئے وقفہ کیا جائے۔ اگر اپوزیشن سے تعاون بھی طلب کیا جائے اور وقفے وقفے سے طعن و تشنیع کے تیر بھی برسائے جاتے رہیں تو پھر تعاون مشکل ہی سے ملے گا۔مسئلہ کشمیر پر حمایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپوزیشن اپنی سیاست چھوڑ دے گی یا حکومت این آر او دینے پر مجبور ہو جائے گی، دونوں اپنی اپنی پوزیشنوں پر قائم رہتے ہوئے بھی مسئلہ کشمیر پر تعاون کر سکتی ہیں۔

دوسرے قومی مسائل پر بھی متفقہ موقف اپنایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاست میں شائستگی لائی جائے،مخالفوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے حفظ ِ مراتب کا خیال رکھا جائے، وزیراعظم کی ذات پر حملے کرنے کی بجائے حکومت کے اقدامات اور اس کی پالیسیوں کے نقائص واضح کئے جائیں، اسی طرح حکومت بھی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے سیاسی میدان میں اس کا مقابلہ کرے، مخالفین کو برداشت کرنے کا کلچر مضبوط کیا جائے۔ پاکستان جیسے جمہوری ملک میں بادشاہوں اور آمرانہ حکومتوں جیسے اقدامات نہیں چل سکتے، مخالفوں کے خلاف جو بھی قانونی اقدامات کئے جائیں، وہ بالآخر عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اور مقدمات میں جان نہ ہو تو خارج بھی ہو جاتے ہیں،اِس لئے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مخالفین کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالنے سے سیاسی چیلنج کم نہیں ہوتے،بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔یہ حکومت نہ ہمیشہ رہے گی اور نہ ہی اپوزیشن کی آزمائش کا دور مستقل رہے گا۔ شاہ محمود قریشی کا جذبہ قابل ِ تعریف ہے، توقع ہے حزبِ اختلاف  اس کا مثبت جواب دے گی اور اس طرح ایک نیا سیاسی کلچر فروغ پائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -