راحت اندوری کا انتقال

راحت اندوری کا انتقال

  

مدھیہ پردیش(بھارت) کے ممتاز اردو شاعر راحت اندوری ستر برس کی عمر میں انتقال کر گئے، اُنہیں کورونا پازیٹو کے بعد اندور کے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں اُنہیں یکے بعد دیگرے دِل کے دو دورے پڑے اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ وہ کالج میں پڑھاتے رہے، کئی کتابیں لکھیں، اچھے مصور بھی تھے، شاعری میں اُن کا اپنا رنگ تھا اور  وہ عوامی جذبات کی کھل کر عکاسی کرتے تھے۔ سیاسی موضوعات پر ان کی شاعری اپنی ایک الگ شان رکھتی ہے، جس میں وہ طنز کے تیر بھی چلاتے تھے، سرحدوں پر کشیدگی بڑھی تو انہوں نے شعر کہا…… سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا، کچھ پتہ تو کرو چناؤ ہے کیا…… بھارت میں انتخابات کے ایام میں جس طرح بھارتی قیادت ووٹ لینے کے لئے پاک بھارت سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان دشمنی کی لے تیز کر دیتی ہیں، اس پس منظر کو سامنے رکھ کر اس شعر کا لُطف لیا جا سکتا ہے، اُن کی شاعری کے زیادہ تر موضوعات سماجی،سیاسی اور عوامی مسائل پر محیط ہیں، وہ بھارتی فلموں کے لئے گیت بھی لکھتے تھے، چالیس سے زائد فلموں میں اُن کے گانے مختلف اداکاروں پر فلمائے گئے اور مقبول ہوئے۔مودی سرکار نے جب متنازع شہریت بل متعارف کرایا تو ملک گیر مظاہرے شروع ہو گئے،ان مظاہروں کے لئے جو پوسٹر شائع ہوتے تھے،اُن کے شعر ان کی زینت بنتے تھے۔ اب وہ رخصت ہوئے ہیں تو اُن کا یہ شعر یاد آتا ہے،

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے

جان ہوتی، تو مری جان لٹاتے جاتے

مزید :

رائے -اداریہ -