اب کچھ ہو گا؟ مولانا فضل الرحمن نے ناراضی کا اظہار کر دیا!

اب کچھ ہو گا؟ مولانا فضل الرحمن نے ناراضی کا اظہار کر دیا!
اب کچھ ہو گا؟ مولانا فضل الرحمن نے ناراضی کا اظہار کر دیا!

  

”لو! جی! ہُن نواں  پواڑہ پے گیا، جے“ یہ نئی پریشانی ہمارے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے اے پی سی بلانے سے انکار کی وجہ سے ہے۔ اب پیپلزپارٹی کے بعد مسلم لیگ(ن) نے بھی ہچکچاہٹ چھوڑ کر متحدہ اپوزیشن کی بات کرنا شروع کر دی اور احسن اقبال اینڈ کمپنی نے تو اے پی سی رابطہ کمیٹی کے کنونیئر اکرم درانی سے رابطے کا اعلان بھی کر دیا تھا، تاکہ اے پی سی بلانے پر بات کی جائے،لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ نیب نے مریم نواز کو تحقیقات کے لئے طلب کر لیا،خاتون نے والد مکرم محمد نواز شریف اور یہاں موجود قائدین سے مشاورت کی اور فیصلہ کیا کہ نیب کے سوالات کا جواب دینے کے لئے وہ ٹھوکر نیاز بیگ پر نیب کے دفتر جائیں گی، اس کے ساتھ ہی قائدین نے یہ بھی طے کیا کہ وہ کارکنوں کی معیت میں نیب کے دفتر تک جائیں، اس کے بعد صوبائی قیادت نے باقاعدہ دعوت دی کہ کارکن نیب کے دفتر پہنچیں اور یہ بات طے ہے کہ متوالے  ابھی ہیں اور ان پر اسی طرح کوئی دلیل اثر انداز نہیں ہوتی، جیسے اب گھیا توری کے نرخ ہو100روپے فی کلو اور چینی، آٹے کی نایابی کی بات کی جائے تو تحریک انصاف والے اس کی ذمہ داری سابقین پر ہی ڈالتے ہیں، ہمارے وسیم ڈار کے مطابق  تووزیراعظم اور ان کے کپتان اللہ کے ولی  کامل ہیں، ان کی طرف سے سوشل میڈیا پر کپتان کی جو تصویر وائرل کی گئی وہ ڈاڑھی والی ہے(یہ فوٹو شاپ کا کمال ہے) اور وہ معمول کے مطابق تسبیح کر رہے ہیں، اچھی اور دل آویز تصویر نظر آتی ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ کپتان کو ڈاڑھی رکھنے کی ہدایت کب ملتی ہے کہ وہ آج کے ڈاڑھی والے فیشن کو تو اختیار نہیں کریں گے۔

تو قارئین! کرنا خدا کا یہ ہوا کہ جو ہونا تھا، وہ ہوا اور ٹھوکر نیاز بیگ منگل کے روز میدان جنگ بن گیا، اس روز مریم نواز نے ”مردانہ وار“ حالات کا مقابلہ کیا، پولیس اور متوالوں کے درمیان تصادم کے باعث نیب والوں نے مریم نواز کی پیشی منسوخ کر دی اور گاڑی کو دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا، مریم رُک گئیں اور اصرار کیا کہ ان کو بلایا ہے تو پھر اندر جانے دیا جائے، اب دو طرفہ چاند ماری کے باعث ان کی گاڑی بھی زد میں آئی اور بقول مریم نواز ان کی بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا، ان کا اب الزام یہ ہے کہ نیب نے صرف نوٹس بھیجا، کوئی وجہ اور سوال نامہ نہیں بھجوایا، اس کا مطلب یہ کہ ان کو ”مروانے“ کے لئے طلب کیا گیا تھا۔بہرحال ٹھوکر نیاز بیگ کا یہ چوک جس طرح دوطرفہ پتھراؤ، آنسو گیس، حتیٰ کہ ہوائی فائرنگ کے باعث ٹریفک کی معطلی اور عوامی پریشانی کا باعث بنا وہ بھی دیدنی تھا کہ ٹیلی ویژن والوں نے بہرحال کافی دیر تک یہ بھی لائیو دکھا دیا،(اس کے بعد تو پھر گاڑیوں میں پتھر رکھنے کے کلپس اور فوٹیج ہی دکھائی جاتی رہی)۔

پولیس کارروائی کاعمل بھی کیمرے کی آنکھ سے دیکھا گیا کہ گرفتاری ہوئی، پولیس وین میں کارکنوں کو زور دار دھکوں سے دھکیلا گیا، اور دلچسپ سین وہ تھے جب کسی کارکن کو گرفتار کر کے لائے تو ”جیل گاڑی“ کے قریب لاتے ہی اس پر مکوں، لاتوں کی بارش کر دی جاتی، اللہ بھلا کرے۔ ہر کوئی ایک سا نہیں ہوتا، یہاں بھی ایک پولیس کانسٹیبل ان ”اینٹی رائٹ فورس“ والوں کو منع کرتا تھا کہ بس کرو، بہت مار لیا۔ بہرحال اس معرکہ کا اختتام تو ہونا تھا، سو ہو گیا، متوالوں اور متوالیوں کی گرفتاریاں ہوئیں اور بعد میں مقدمات بھی درج ہو گئے اور شکوہ، جوابِ شکوہ بھی ہوا۔

قارئین! معذرت کہ بات کہاں سے شروع کی اور کدھر نکل گئی۔ کہنا یہ تھا کہ اس ”وقوعہ“ کے بعد اور دوران مریم نواز نے اپنی خاموشی توڑ دی اور نہ صرف ٹھوکر نیاز بیگ پر میڈیا سے بات کی، بلکہ بعد میں باقاعدہ پریس کانفرنس بھی کر ڈالی اور اس کا جواب بھی مل گیا کہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بھی مشترکہ پریس کانفرنس کر ڈالی اور یوں شکوہ جوابِ شکوہ تو ہونا تھا۔ یہاں دعویٰ، جواب دعویٰ بھی ہو گیا۔ مریم نواز نے پولیس تشدد اور خود پر قاتلانہ حملہ کا الزام لگایا تو دونوں وزرا نے مسلم لیگ(ن) کے خلاف تشدد کا راشتہ اختیار کرنے کا الزام دھرا اور فیاض الحسن چوہان نے تو یہ بھی انکشاف کر ڈالا کہ کارکنوں میں دس لاکھ روپے تقسیم کر کے ان کو پنجاب بھر سے بلایا گیا، اس کے باوجود تعداد صرف دو سو کی حد تک تھی۔

اس حوالے سے ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی، تاہم ہماری57 سالہ صحافتی زندگی میں یہ کوئی پہلاواقع یا موقع نہیں کہ ایسا تصادم ہوا اور پھر شکوہ، جوابِ شکوہ یا فریقین کی طرف سے الزام تراشی کی بھرمار ہوئی، ایسا ہمیشہ ہی ہوتا آیا ہے۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایسے ہی چھوٹے چھوٹے ”حادثات“ بڑی وجہ بن جاتے اور ہجوم میں بھی اضافہ ہو جاتا تھا۔ یوں احساس ہوا کہ یہاں  بھی شاید ”کشتیاں جلانے“ کی نوبت لانے کی کوشش یا خواہش ہے،لیکن اب یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ابھی اس راہ میں بھی رکاوٹیں ہیں۔ مریم نواز شریف نے بہت کھل کر بتایا کہ ان کے والد محمد نواز شریف نے ہر صورت مولانا فضل الرحمن کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے کہ مطلب یہ کہ اب وقت آ گیا کہ متحدہ اپوزیشن جدوجہد کا عمل شروع کرے، لیکن یہیں تو  ”نواں پواڑہ“ پڑا ہے۔ مولانا فضل الرحمن ”ذرا اکڑ“ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے حوالے سے تحفظات دور نہیں ہوں گے اس وقت تک اے پی سی نہیں بلائیں گے۔

درست کہ ”مرغا“ تو بہرحال ہمارے پیارے مولانا ہی کی بغل میں ہے،اس لئے اگر مسلم لیگ(ن) کی قیادت زچ ہو کر میدان میں اُتر آئی ہے تو مولانا بھی سابقہ تجربے کو دہرانا نہیں چاہتے، لہٰذا اب جو بھی ہو گا اس کے لئے حکمرانوں کی غلطیوں کی ضرورت ہو گی جو وہ کریں گے کہ خود اعتمادی حد سے بڑھ گئی ہے۔ ہم مشورہ دینے والے کون، مگر پھر بھی فیاض الحسن چوہان سے عرض ہے کہ وہ کسی بھی بیان سے پہلے ثبوت حاصل کر لیا کریں، اب یہ ان پر ”وزن“ (اونس) ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ لاکھوں روپے دے کر پنجاب بھر سے صرف دو سو کارکن لائے گئے۔ فوٹیج بھی موجود اور زیر حراست لوگ بھی ہیں۔ بہتر ہو گا کہ پہلے انہی کے کوائف عوام کے سامنے رکھ دیں۔

مزید :

رائے -کالم -