عالمی سیاست میں ہمہ گیر تبدیلی اور پاکستان

عالمی سیاست میں ہمہ گیر تبدیلی اور پاکستان
عالمی سیاست میں ہمہ گیر تبدیلی اور پاکستان

  

کیف نداولایام بین الناس: اس طرح ہم وقت کو لوگوں میں بدل دیتے ہیں یعنی قوموں کا عروج و زوال ایک فطری عمل ہے یہ عمل صدیوں سے جاری، اب بھی جاری ہے اور تاابد ایسے ہی جاری رہے گا۔ قوموں کے عروج و زوال کی اس طویل داستان کو معروف سماجی سائنسدان ابن خلدون نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”مقدمہ تاریخ“ میں پہلی مرتبہ بڑے منظم اور سائنٹفک انداز میں بیان کر کے ابدی شہرت حاصل کی۔ دورِ جدید میں اسی حقیقت کو گزشتہ سے پیوستہ صدی کے آخر میں فریڈرک اینجلز نے فلسفہ مادی جدلیات سے شہرت حاصل کی،(Theory of material dialectalism) میں بیان کر کے   کارل مارکس نے اسی فلسفے پر مارکسزم یعنی اشتراکیت کی تخلیق کی پھر 1848ء میں کارل مارکس اور فریڈرک اینجلز نے مل کر ”کمیونسٹ پارٹی کا منشور“ ترتیب دیا۔ اسے کمیونسٹ منشور بھی کہا جاتا ہے اس کی بنیاد پر روس میں بالشویک انقلاب برپا ہوا۔ اس منشور کو دنیا کی طاقتور ترین سیاسی دستاویز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی منشور کی بنیاد پر  لینن نے سرخ انقلاب کی بنیاد رکھی جسے تاریخ میں اکتوبر انقلاب یا اشتراکی انقلاب کہا جاتا ہے۔اسی انقلاب (1917-23) کی بنیاد پر روس میں پہلی اشتراکی ریاست قائم ہوئی جو 1990ء تک قائم رہی۔جہاں تک تعلق ہے تبدیلی اور عروج و زوال کا تو گزشتہ صدی کے آغاز میں جنگ عظیم اول 1914-17ء میں دو عظیم طاقتوں خلافتِ عثمانیہ اور آسٹرو۔ ہینگرین سلطنیتیں زوال کا شکار ہوئیں۔ پھر دوسری جنگ عظیم 1939-45ء میں فرانسینی، جاپانی اور برطانوی استعمار کا خاتمہ ہوا اور اس کے بطن سے امریکی سپر طاقت ابھری۔ 90 کی دہائی میں سرد جنگ کے خاتمے سے اشتراکی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور اس طرح امریکہ سپریم ورلڈ پاور کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا,

کورونا وائرس کی عالمی جنگ میں عظیم امریکی     ریاست کے زوال کے تمام آثار نظر آنے لگے ہیں امریکہ نے جنگ عظیم دوم کے بعد اشتراکی روس کے ساتھ مڈبھیڑ شروع کی۔ آدم سمتھ کے سرمایہ دارانہ نظام کی کارل مارکس کے اشتراکی نظام کے ساتھ، مخاصمت، جو سرد جنگ کی شکل میں 90 کی دہائی تک جاری رہی، امریکہ نے، سرمایہ دارانہ نظام کے حامل دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر اربوں نہیں کھربوں ڈالر کے وسائل انسانی فلاح و بہبود کے لئے نہیں بلکہ اشتراکی روس کو زیر کرنے کی کاوشوں کو کامیاب بنانے کے لئے خرچ کئے۔ ایسی کاوشوں میں دنیا میں بحر و بر اور فضا میں فساد پھیلا بیماریاں پھیلیں، ہلاکتیں ہوئیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت عالمی غلبے کے لئے نصف صدی تک باہم دست و گریبان رہے بے پناہ وسائل اس بالا دستی کی جنگ کی نذر ہوئے بالآخر 90 کی دہائی میں افغانستان میں اشتراکی فوجوں کی شکست خوردہ واپسی کے بعد عظیم اشتراکی سلطنت 15 ٹکڑوں میں بکھر کر عالمی بساطِ سیاست سے غائب ہو گئی۔

تبدیلی۔ ایک عظیم تبدیلی کا نیا سویرا طلوع ہوا لیکن اس تبدیلی نے عالمی توازن سیاست میں بگاڑ پیدا کیا امریکی بالادستی کے سبب عالمی سیاست یک قطبی ہو گئی جو ایک غیر فطری عمل تھا امریکہ نے ایک نئے عالمی نظام کے قیام کا ڈول ڈالا۔ نا انصافی اور طاقت کے قانون کو رائج کرنے کی کوششیں کیں حتیٰ کہ 2001ء میں 9/11 کا واقعہ رونما ہو گیا یہ امریکی بالا دستی کے منہ پر تھپڑ ثابت ہوا۔ امریکہ نے دنیا پر اپنی ہیبت اور قدرت بٹھانے کے لئے دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی جنگ کا اعلان کیا۔ یہ بہت خوبصورت لیکن بودا اعلان تھا 19 سال تک مشرق وسطیٰ اور ساؤتھ ایشیا میں ہلاکت خیزیاں جاری رکھنے کے باوجود امریکہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا بالآخر مجبور ہو کر اسے ”دہشت گردوں کے سرغنہ گروہ“ یعنی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑے۔ ایران مشرق وسطیٰ میں ایک اہم عامل بن چکا ہے سی پیک کے ذریعے چینی اشتراک نے ایران کو ہمت دی ہے ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات زائل ہوں گے کووڈ 19 نے امریکی نظام ریاست اور صحت کی برتری کا بھانڈا بھی پھوڑ کر رکھ دیا ہے دہشت گردی کے خلاف 19 سالہ طویل جنگ نے امریکی معیشت کا بیڑہ غرق کیا تھا رہی سہی کسر کورونا نے نکال دی ہے امریکی برتری اور عظمت کا ڈھول پھٹ چکا ہے چین ایک مقابل عالمی طاقت کے طور پر قدم جما رہا ہے ابھی تک چین کو نیچا دکھانے کی تمام امریکی کاوشیں ناکام ہو چکی ہیں۔ بحیرہ ہند میں چین کا گھیراؤ کرنے کی کاوشیں جاری ہیں مودی کا انڈیا ایسی کاوشوں میں امریکی چھوٹو کا کردار ادا کر رہا ہے،لداخ میں چین کے ساتھ جھڑپ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، کشمیر پر قبضہ اور پاکستان کے ساتھ جھڑپیں بھی اسی گریٹر پلان کا حصہ دکھائی دیتا ہے لیکن خطے میں ایک بالکل نئی اور ناقابل یقین صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔

ایران کا چاہ بہار پراجیکٹ سے ہندوستان کو نکالنا سی پیک میں ایران کی شمولیت اور افغانستان میں پاکستان دوست حکومت کے قیام کے امکانات، خطے  میں سیاست کو ایک بالکل نئی صورتحال کی صورت جنم دے رہے ہیں، سعودی عرب کا پاکستان سے 1 ارب ڈالر کی واپسی کا مطالبہ (جسے پاکستان نے پورا کر دیا ہے) اس غم و غصے کا اظہار ہے جو خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث پیدا ہو رہا ہے۔ مہاتیر کے ملائشیا اور اردوان کے ترکی کا عالم اسلام کی ایک ایک قوت کے طور پر ابھرنا کچھ دوست مسلم ممالک کو ہضم نہیں ہو رہا ہے پھر ایران، پاکستان تعلقات میں گرم جوشی کا اظہار  بھی دوست عرب ممالک کو پسند نہیں آ رہا، لیکن تاریخ ایسے نہ کبھی رکی ہے اور نہ آئندہ کبھی رکے گی تاریخ کا سفر جاری رہے گا اور وہ اپنا راستہ بناتی رہے گی لیکن اصل بات یہ ہے کہ تبدیلی کے اس ماحول میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم نے اس تبدیلی کے استقبال کے لئے کیا تیاریاں کی ہیں؟ عالمی بساط سیاست میں مہروں کی تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ نئے نئے اتحاد بننے جا رہے ہیں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں۔ اکھاڑ  پچھاڑ کے اس عمل میں کیا ہم نے اپنا راستہ طے کر لیا ہے؟ ہم نے کیا اپنا کردار اور مقام مقرر کر لیا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں کیاہم نے سوچ وبچار کر کے اپنے قومی مفادات کے مطابق اپنا لائحہ عمل مرتب کر لیا ہے؟

آنے والے وقتوں میں ہماری بقاء و کامیابی کا انحصار تبدیلی کے عمل میں ہمارے اختیار کردہ لائحہ عمل پر ہوگا۔ اگر ہم نے فہم و فراست اور سوچ وبچار کے ساتھ اپنے قومی مفادات اور ترجیحات طے کر لیں اور پھر ان کے مطابق اپنا کردار اور مقام بھی  طے کر لیا تو پھر ہمیں تعمیر و ترقی کی شاہراہ، بلکہ موٹر وے پر محو سفر ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ (ان شاء اللہ)

مزید :

رائے -کالم -