اَرذَل عمر سے خداکی پناہ۔۔۔!  

اَرذَل عمر سے خداکی پناہ۔۔۔!  
اَرذَل عمر سے خداکی پناہ۔۔۔!  

  

مو ت سر پر کھڑی ہو، 69 سال عمر ہو اور حافظہ یادداشت پھربھی اتنی کمال کہ اس کے باوجود اپنے شاگر د سے فقہی مسئلہ کے متعلق رائے دریافت کر رہے ہیں۔امام ابویو سف قاضیؒ جو کہ امام ابو  حنیفہؒ کے شاگر د خاص اور قاضی تھے۔آپ ایسے امام تھے جنھوں نے تین عباسی خلفاء کا زمانہ  دیکھا جن میں مہدی، ہادی اورہارون الرشید تھے۔فقہ و فتا و ٰی کے لحاظ سے اُن کااُس وقت  پو ری دنیا میں نام تھا۔اتنی زیادہ عمر کے بعد بھی قرآن وحدیث اور فقہ کے مسائل اَزبر تھے۔

مگر اب تو وقت بالکل موت کے قر یب کاتھا۔ جب ہر طرف خبر پھیل گئی کہ اب اس بیماری سے آپ کا بچنا مشکل ہے تو آپ کا ایک شاگرد ابراہیم بن الجراحؒ آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوا۔ امام ابو یوسف ؒ پر بے ہو شی طاری تھی،بیماری کے دوران کچھ وقت کے لئے ہو ش آتا تو آپؒ بات چیت شروع کر دیتے۔اسی طرح آپ کو ہو ش آیا تو آپ نے شاگر د سے ایک مسئلہ پو چھا کہ حج میں رَمی جمار یعنی کنکریا ں مارنا پیدل افضل ہے یا سوا ر ہو کر،آپ ؒکے شاگرد ابراہیم بن الحراحؒ نے کہا کہ اس نازک وقت میں بھی آپ علمی مسائل کی تحقیق میں مصروف ہیں۔امام ابو یوسف ؒکہنے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بات کسی کے کام آجائے۔ ابراہیم بن الحراحؒ نے اپنے اُستاد کو رائے دی اور جب آپ کے شاگرد اُٹھ کر چلے تو دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ گھرسے رونے اور چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔امام ابویوسف ؒنے آخری لمحے بھی علم سے شدید محبت کا درس دیا اور بہتری کے لئے آخری وقت تک اپنا Contribution جاری رکھا۔اگر آپ تاریخ کے بہت بڑے اور عظیم لو گو ں کی فہرست بنائیں تو آپ کو پتہ چلے گا یہ سب اپنی زندگی کے آخری ایام میں بہت زیادہ چست اور حافظے کے اعتبار سے بہت پختہ لو گ تھے۔اگر ہم آسان لفظوں میں قرآن کے مطابق کہیں  تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ان لو گو ں کو اَرذَل عمر میں داخل نہیں کرتا۔اب سوال یہ ہے کہ اَرذَل عمر کس کو کہتے ہیں اور اَرذَل عمر کی تعریف کیا ہے؟اَرذَل عمر کا معنی یہ ہے کہ بعض لوگ اس قدر بوڑھے ہو جاتے ہیں کہ ان کی عقل فاسد اور خراب ہو جاتی ہے۔اکثر لو گ تو عالم ہو نے کے بعد جاہل ہو جاتے ہیں اور جن چیزوں کا انھیں علم ہو تا ہے، بڑھاپے کی شدت کی وجہ سے وہ زائل ہو جاتاہے۔

اہل دانش نے انسان کی عمر کو چا ر مراتب یعنی زندگی کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے، اس کا پہلا حصہ اس کی عمر کا وہ زمانہ ہے جب اس کے بچپن اور نوجوانی کا زمانہ ہو تا ہے، یہ ولادت سے لے کر بیس سال تک کی عمر ہے۔دوسرا حصہ جب اس کی عمر اپنے شباب تک رسائی حاصل کر لیتی ہے اور یہ عمر بیس سال سے چالیس سال تک کی عمر ہے۔تیسرا حصہ دورِانحطا ط کہلاتا ہے جب اس کی عمر ڈھل جاتی ہے اور وہ ادھیڑ عمر کو پہنچ جاتا ہے،یہ چالیس سال سے ساٹھ سال تک کی عمر کا زمانہ ہو تا ہے، اس کو کہولت بھی کہاجاتا ہے۔چوتھا حصہ انحطاط کبیر کہاجاتا ہے جو بڑھاپے کی عمر ہو تی ہے اور یہ عمر ساٹھ سال سے ستر سال یا اَسی سال کی عمرکا زمانہ ہو تا ہے۔اس کے بعد آخری حصہ موت یا قبر ہی رہ جاتی ہے، جس میں ہر انسان نے ایک نہ ایک دن حاضر ہو نا ہی ہو تا ہے۔مولاعلی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا " کہ اَرذَل عمر پچھتر سال کی عمر ہو تی ہے "۔اپنی Learning اور معاشرے میں ہر عمر میں Contribution کی وجہ سے ہمارے اِردگرد بہت سے  لو گ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کی عمر بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے ہی اُن کا حافظہ، حکمت ودانائی اور کرامت بھی بڑھتی جا تی ہیں۔

قرآن پاک میں سو رۃ النحل آیت نمبر 70 اللہ پاک فرماتا ہے کہ " تم میں ایسے بھی ہیں جو اَرذَل عمر کی طرف لو ٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بھی نہ جانیں "۔اسی طرح سو رۃ الحج آیت نمبر 05 میں فرمایا " اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہو نے کے بعد پھر بے خبر ہو جاتے"۔پھر سورۃ یس میں آیت نمبر 68 میں کہا کہ " اور جسے ہم بوڑھا کر تے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں کیا پھر بھی وہ نہیں سمجھتے"۔ اکثر مرد اور عورتیں جب سا ٹھ یا ستر سال کی عمر میں پہنچ جاتے ہیں تو وہ جسمانی اور دماغی طور پر بہت ہی کمزور اور لاچار ہو جاتے ہیں۔ایک جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جو لو گ اپنی جابز اور ملازمت سے جب ریٹائر ہو تے ہیں تو اُن میں سے اَسی فیصد (%80) سے زیادہ لو گ پانچ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہتے ہیں۔جو لو گ سو سائٹی میں رہتے ہو ئے ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں،لو گ اُن کو سٹھیا نا کہتے ہیں اور قرآن پاک میں ان لو گوں کے بارے میں کہا گیا ہے

یہ اَرذَل عمر کے  لو گ ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی جاننے والے، عَالِم اور تندرست تھے، لو گو ں کو اُن کے مسائل حل کرنے کے لئے مشورے دیا کر تے اور اُن کی راہنمائی کر تے تھے،مگر جیسے ہی یہ لو گ اَرذَل عمر میں داخل ہو جاتے ہیں تو معاشرے کے لئے بوجھ بن جا تے ہیں۔یہ ایسی عمر ہے جس سے اللہ کے سب سے زیادہ محبوب حضوراکرم ﷺ بھی پناہ مانگا کر تے تھے۔"بخاری ومسلم" میں ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالی سے پناہ طلب کر تے تھے کہ " اے اللہ! میں اَرذَل عمر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں "۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کچھ لو گ بڑی عمروں تک پہنچ جاتے ہیں مگر وہ ذہنی اعتبار سے بہت بہتر اور مثبت نظر آتے ہیں،کیوں بہت سے لو گ زیادہ عمر میں ہو تے ہوئے بھی اُن کی عزت،عقل، کرامت اور معرفت وقت کے ساتھ ساتھ بڑ ھ رہی ہوتی ہے۔اس کی نفسیاتی وجہ یہ ہے کہ وہ Mental Healthکو بہتر رکھنے کے لئے خود کو مصروف رکھتے ہیں۔

یہ لو گ خو د کو بالکل ہی ناکارہ سمجھ کر معاشرے کے سپرد نہیں کر دیتے۔دنیا کی ایک تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ہر آٹھ سیکنڈ بعد دس ہزار لو گ 65 سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔مگر ان میں سے وہ لوگ ہی اَرذَل عمر سے بچتے ہیں جو Mental illness میں مبتلا نہیں ہو تے۔یہ لو گ تین کا م ضرور کرتے ہیں،ایک یہ خوراک تھوڑی، مناسب اور جو صحت کے لئے عمر کے حساب سے اچھی ہو وہ کھاتے ہیں۔دوسرا کام یہ لو گ اپنی نیند پوری رکھتے ہیں،کم ازکم آٹھ سے دس گھنٹے سو تے ہیں۔تیسرا کام یہ روزانہ واک ضرور کرتے ہیں،صبح کے وقت سیر کے لئے کسی باغ یا گروانڈ میں جاتے ہیں۔پاکستان میں ایک تحقیق ہو ئی جس کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک شخص ضرور Mental illness میں مبتلا ہو تاہے۔یہ لو گ پچاس سال سے زیادہ عمر کے ہو تے ہیں مگر کچھ کام بالکل نہیں چھوڑتے، ان میں سب سے بڑھ کر وہ اپنی Learningجاری رکھتے ہیں۔ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے ہیں، کو ئی نئی زبان، کوئی نئی کتاب یا کچھ بھی ایساجس سے اُن کی Mental Growthہوتی رہے۔اس کے ساتھ یہ لو گ اپنا Social Circle بھی بڑھاتے رہتے ہیں اور اپنے لئے اچھے لو گوں کا انتخاب کرکے اُن سے دوستی کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ وہ کوئی نہ کوئی نئی سکل یا مہارت کو سیکھنے کی طرف راغب رہتے ہیں،وہ خود کو بالکل معاشرے یا اپنے خاندان کے رحم و کر م پر نہیں چھوڑ دیتے بلکہ خود کو اس قابل رکھتے ہیں کہ معاشرے میں کچھ نہ کچھ Contributeضرور کرتے ر ہیں۔خواہ اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدوں سے لوگوں کو گائیڈ کرنا ہی کیوں نہ ہو۔مزید یہ کہ قرآن کریم کو" شفا"کہا گیا ہے،اہل علم بتاتے ہیں تلاوتِ ِقرآن،اس کاترجمہ اور تفسیر پڑھنے سے بھی ذہن کو جلا ملتی ہے۔بعض کو قرآن کریم سے اتنا شغف ہو تا ہے کہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینا شروع کر دیتے ہیں۔مختصریہ کہ جو لو گ قرآن کریم پڑھتے رہتے ہیں اور مر تے دم تک اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے، وہ اَرذَل عمر کی طرف نہیں لوٹائے جاتے، اسی طرح جو لو گ ساری زندگی حلال و حرام کا خیال رکھتے اور اپنے جسموں کو حرام کے لقموں سے بچاتے ہیں۔جو لو گ ہمیشہ ذکراَذکار او ر اللہ کی پناہ مانگتے رہتے ہیں اور آخری عمر کو پہنچنے کے بعد بھی خود کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھتے ہیں وہ لو گ بھی اَرذَل عمر سے اللہ پاک کی پناہ میں رہتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -