آزادی ئصحافت

آزادی ئصحافت
آزادی ئصحافت

  

کمیونسٹ ممالک میں آزادیء صحافت اور اظہار رائے کے بارے میں ایک تحقیر آمیز جملہ استعمال کیا جاتا تھا کہ یہ پوش طبقے کی عیاشی کا نام ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بنیادی طور پر مزدور اور کسان کی محنت کے استحصال پر قائم ہے، لہٰذا ان طبقات کے لئے ضروری ہے کہ منڈی کی معیشت میں مقابلہ جاری رکھنے کے لئے فرد کی آزادی کی بات کی جائے، جو دراصل غریب طبقات کے استحصال کی آزادی کے حق پر منتج ہوتی ہے۔ کاروبار کی آزادی، انجمن سازی کی آزادی، اخبارات کی آزادی اور سرمایہ دار کی استحصالی معیشت کی آزادی…… لیکن بیسوی صدی کے بعد جو غیر اشتراکی آمرانہ، خاص طور پر فوجی آمریت پر مبنی حکومتوں نے سر اٹھایا تو غریب طبقات کے استحصال کے ساتھ ساتھ اس نے درمیانے طبقے کے دانشور، ادیب اور صحافی کی آزادی بھی چھین لی،اس کی وجہ ملک کی سالمیت کو خطرات بتایا،یہ خطرات ابھی تک موجود چلے آ رہے ہیں۔ ہٹلر، مسولینی، جنرل فرانکو، ناصر، صدام حسین، قذافی، حافظ اسد، رضا شاہ پہلوی، ایوب خان، سوہارتو، جنرل نی ون وغیرہ وغیرہ سوشلسٹ ریاستوں کے سربراہ نہیں تھے، لیکن آزادیء اظہار کے بڑے دشمن تھے۔ 

ہر وہ حکمران جو اختیارات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے وہ آزادیء اظہار اور انسانی حقوق کا مخالف ہوتا ہے۔ وسطی ایشیا کے تقریباً  تمام ملک جو سوویت یونین کے انہدام کے باعث آزاد ہوئے، اس وقت ایسے ہی حکمرانوں کے زیر سایہ چل رہے ہیں اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ان ممالک  کے حکمرانوں نے نہ صرف عوام کے لئے کچھ نہیں کیا بلکہ وہ کرپشن کی دلدل میں حلق تک دھنسے ہوئے ہیں۔ روس کی نیم جمہوریت کے سربراہ پوٹن اس وقت روس کے امیرترین آدمی تصور کئے جاتے ہیں۔ ہم جسے نام نہاد ادارہ جاتی آمریت تصور کرتے ہیں۔ وہاں بھی مقتدر افراد ہی با اختیار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں فوجی آمروں نے آزادیء اظہار رائے کے ساتھ جو کچھ کیا ان کی کوششوں اور تربیت سے برسر اقتدار آنے والوں نے اس کی پیروی کی۔ میاں نواز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں پاکستان کے ایک اشاعتی ادارے کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی جس طرح آج کوشش کی جا رہی ہے۔ یادش بخیر یہ وہی ادارہ ہے، میاں صاحب نے ایک چینل بھی تقریباً ختم کر دیا  تھا۔ اظہار کی آزادی پاکستان میں پہلے روز سے ناپسندیدہ سمجھی جاتی رہی ہے۔

قیام پاکستان کے چند سال کے اندر اندر کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد کی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی تنظیم ترقی پسند مصنفین پر پابندی عائد کی گئی۔ ایوبی عہد میں پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈی ننس کے ذریعے اخبارات پر قدغن لگائی گئی،پھر آزاد اخبارات کے ادارے پروگیسو پیپرز لمیٹڈ پر سرکاری قبضہ ہوا۔ روز نامہ پاکستان ٹائمز، امروز، اور ہفت روزہ لیل و نہار ایوبی آمریت کے قبضے میں چلے گئے۔ ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں تو اخبارات اشاعت کے لئے جانے سے پہلے سنسر  ہوتے۔ بعض اوقات اخبارات کے خالی صفحات رہ جاتے  تھے۔ بھٹو دور میں مجیب الرحمن شامی، الطاف حسن قریشی اور صلاح الدین مرحوم قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ آج آزادیء صحافت کے خاتمے کا بہترین طریقہ استعمال کیا جار ہا ہے۔ اخبارات معاشی جکڑ بندی میں لے لئے جائیں تو اخبارات خود بخود ختم ہو جائیں گے، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا نے اگلے روز کی اخباری خبروں کو ویسے ہی پرانا کر دیا ہے۔

اب ٹی وی چینلز شہروں کی گلیوں تک کی خبریں نشر کرنے پر مجبور  ہیں۔ اخبارات اس وقت خبروں سے زیادہ اپنے تبصروں پر بک رہے ہیں اور کچھ اشتہارات کے لئے…… سرکار نے تو اشتہارات کے دروازے ایک حد تک بند کر دیئے ہیں، مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپنے اشتہارات کے بجٹ آ دھے سے بھی کم کر چکی ہیں،جبکہ ہر حکومت نے اشتہارات اپنی پالیسی کے مطابق جاری کئے ہیں۔ اس پر موجودہ حکومت بھی اپنی ترجیحات رکھتی ہے۔ آزادیء صحافت دراصل کارکن صحافی کی خبر اور تبصرے کے حوالے سے اپنی رائے کے اظہار کی آزادی کا نام ہے۔ کارکن صحافی اپنے اخبار کی پالیسی کے خلاف بھی لکھ سکتا ہے اور یہ ہوا بھی ہے کہ کارکن صحافی نے اپنے اخبار کی پالیسی سے کسی قدر انحراف بھی کیا  اور جس بات کو سچ اور عوام کو حقیقتِ حال سے آشنا کرنے میں دیانتداری سمجھا،اسے بیان کیا  اور  مالکان نے اسے قبول بھی کیا۔

کارکن صحافی کی دیانتداری اور سچ کے ساتھ وابستگی نے اکثر و بیشتر پورے ادارے کے لئے مشکلات پیدا کیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، لیکن معاشرے سچ کی بنیاد پر  ہی ترقی کرتے ہیں۔ آزادیئ اظہار نے معاشروں میں انسانی اور سماجی قدروں کی بار آوری کی ہے۔ آج جن معاشروں میں عوام انسانی حقوق اور جمہوری حقوق کے ساتھ معاشی حقوق بھی  حاصل کر چکے ہیں، ان معاشروں نے آزادیء اظہار اور سچ کی قوت سے ہی اپنے آپ کو مضبوط کیا ہے۔ وہاں کے حکمرانوں کو اگر آج تیسری دُنیا کے حکمرانوں جیسی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں رہی تو اس کا سبب مساوی حقوق اور آزادی اظہار رائے ہی ہے۔ جب حکمران آزادیء اظہار رائے پر قدغن لگاتے ہیں تو معاشرے گھٹن کا شکار ہو کر جرائم اور تشدد کی طرف بڑھتے ہیں۔ جب حکومتیں قومی خزانہ عوامی بہبود کی بجائے، یعنی تعلیم، صحت، ہاؤسنگ اور عوام کی غذا کی ضروریات پر خرچ نہیں کرتیں، بلکہ اس کے برعکس ریاستی مشینری کو مضبوط کرنا اپنی ترجیح بناتی ہیں۔

تو پھر عوام کے ردعمل سے بچنے کے لئے آزادیء اظہار پر پابندی لازمی ہو جاتی ہے۔ کبھی عوام کامیاب ہو جاتے ہیں اور کبھی وہ پہلے سے بھی زیادہ الم ناک صورتِ حال میں گرفتار  ہوجاتے ہیں۔ مصر اور شام ہمارے سامنے کی مثالیں ہیں۔ بھارت کی مودی سرکار نے جو عمل کشمیر میں شروع کیا، اسے اب پورے بھارت میں دہرانے کی ضرورت پڑے گی۔ کشمیر کو علاقائی مسئلہ اور ریاستی بندوبست قرار دینے والے بھارت کے اندر  خود اس   اپنی پالیسیوں سے ثابت  ہے کہ کشمیر ایک  ہندو بستی بلکہ مودی حکومت کی مذہبی انتہا پسندی کا مظہر بن چکا ہے اور اس سے بھارت میں آزادیء اظہار خطرے میں ہے جو بھارتی جمہوریت کے خاتمے کی طرف ایک اشارہ ہے۔ سو آزادیء صحافت جو آزادیء اظہار کی علامت ہے، اگر کسی معاشرے میں خطرے میں ہو تو پورے معاشرے کا ارتقا ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے، حکمرانوں کو یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -