آزادی کی اصل حقیقت

آزادی کی اصل حقیقت
آزادی کی اصل حقیقت

  

کسی بھی قوم کیلئے آزادی کا دن کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہوتا،مگر آزادی کی حقیقت اور اہمیت کو وہی سمجھ سکتا ہے،جس نے غلامی کی سی زندگی گزاری ہو۔ کیونکہ قید چاہے سونے کے پنجرے میں ہو یا ہیروں سے جڑے قفس میں آزادی کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔آزادی کی قدر وہ ہی جانتا ہے جس نے جدوجہد آزادی میں حصہ لیا ہو یا، آزادی حاصل کرنے کیلئے اپنے پیاروں کی قربانیاں دی ہوں یا پھر جس کے آباؤ اجداد نے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کر کے اس گلشن کی آبیاری کی ہو۔

 جن مسلمانان برصغیر نے آزادی کے اصل مقصد و مفہوم کو سمجھا انہوں نے قائد اعظم  کی آواز پر لبیک کہا اور پھر وہ ہلکے تھے یا بوجھل، دامے درمے قدمے سخنے الگ وطن کے حصول کے لیے اغیار کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ پاکستان کی تاریخ لہو سے اٹی لاشوں کے انبار، ریگستانوں سے مسافت طے کیے ہوئے آ بلہ پا قدموں، بیل گاڑی کی رتھ تھام کر پاکستان پہنچنے والے زخمی ہاتھوں اور مٹی سے گرد آلودہ تھکے مگر پْر مسرت چہروں پرمشتمل ہے۔

 میں تو سمجھتا ہوں کہ ہم خود بک کر بھی خدائے ذوالجلال اور ان قربانیوں کااحسان نہیں چکا سکتے جو ہمارے اجداد نے پاکستان کے لیے دیں۔ ہم پر قرض ہے ان ماؤں، بہنوں اوربیٹیوں کا جنہوں نے اپنی عزت و حرمت اس وطن عزیز پر قربان کر دی،قرض ہے ان بزرگ والدین کا جنہوں نے اپنے جواں سالہ بیٹوں کو وطن پر نثار کر دیا،قرض ہے اْن لوگوں کا جنہوں نے ہجرت کے لیے آگ و خون کے سمندر پار کیے، اپنے گھر بار، مال مویشی اور کاروبار تک کو ہمارے مستقبل پر نچھاور کر دیا، اپنے عزیزواقارب، رشتہ داروں اورآباؤ اجداد کی قبروں تک کو چھوڑ کر پاکستان چلے آئے۔ بالآخر ان ہی عظیم مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے کہ تاریخ نے کروٹ لی اور چودہ اگست47 19کی مبارک ساعت کو قافلہ حق منزل مقصود پر آ پہنچا، ایک نئی اسلامی مملکت کا سورج پوری آب و تاب سے دنیا پر درخشندہ ستارے کی مانند نمودار ہوا۔ جو بانی پاکستان اور حصولِ مملکت کے لئے جانوں کا نذرانہ دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کررہا تھا۔ 

ان قربانیوں کے نتیجے میں ایسی مملکت معرض وجود میں آئی جس نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو دنیا میں ایک الگ شناخت دی،ایسا خطہ کہ جہاں مسلمان اپنی زندگیاں اللہ اور اْس کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کے فرمودات کی روشنی میں گزار سکیں یعنی ملک کی معیشت، معاشرت، سیاست، ثقافت، تہذیب و تمدن اور طرز بودوباش سب کچھ اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق ہو۔جہاں تمام اقلیتیں اپنے آپکو محفوظ تصور کریں اور اپنی اپنی عبادت گاہوں میں اپنی مذہبی رسومات آزادی سے ادا کر سکیں۔ جہاں کسی کی آزادی رائے پر قدغن نہ ہو، جہاں کوئی کسی کے حقوق کو سلب نہ کر سکے۔ جہاں ڈاکے، چوری،قتل و غارت گری کا بازار گرم نہ ہو، جہاں رشوت، سفارش، فریب، دھوکہ دہی اورذخیرہ اندوزی نہ ہو، جہاں سود، غربت اور جہالت نہ ہو، جہاں بیروزگاری، مہنگائی اور دہشت گردی نہ ہو، جہاں فرقہ واریت، نسلی فسادات اور زبان پر جھگڑے نہ ہوں۔ یہ تھا وہ پاکستان جو علامہ اقبال اور قائداعظم  کے خوابوں کی تعبیر تھا،وہ پاکستان جو اس وطن پر قربان ہونے والوں کی آخری اْمید، چراغ راہ کی آخری لو اور روشنی کے سفر کی آخری کرن کا مظہر بننا تھا۔ 

 مگر ہم نے اس خواب کی تعبیر کو یکسر ہی بدل کر رکھ دیا۔ کتابِ زیست سے آزادی کے باب کو ردی کی ٹوکری میں پھنک دیا اور اس کو دیمک کے حوالے کر کے چلے ہیں ستاروں پر کمند ڈالنے۔ یاد رکھیے جو قومیں اپنی تاریخ کو پس پشت ڈال کر نئی تاریخ رقم کرنے نکلتی ہیں اْن کا حال بھی دھوبی کے کتے جیسا ہوتا ہے کہ جو گھر کا رہتا ہے نہ گھا ٹ کا۔اب بھی وقت ہے ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا ہو گا۔ڈاکٹر ریاض احمد کی کتاب ا سٹرگل اینڈ کریشن آف پاکستان گزشتہ دنوں نظر سے گزری کہ جس میں ْان حقائق سے بھی پردہ اْٹھایا گیا کہ جن کو ہم ہمیشہ نظر انداز کرتے چلے آ رہے ہیں ہمیں ان حقائق کو جان کراپنی غلطیوں کو سدھار نا ہو گا۔ ہمیں خود احتسابی کی راہ پر گامزن ہو کر ملک کی بہتری اور ترقی کے لئے فیصلے کرنے ہوں گے۔ ہمیں مٹھی بھر اشرافیہ سے اپنا حق چھین کر عدل و انصاف، مساوات، بھائی چارہ اور اخوت کی داغ بیل ڈالنا ہو گی، ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا، ہمیں کرپشن کو جڑ سے اْکھاڑ کر حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنا ہو گی۔ شومئی قسمت کہ قوموں کی برادری میں ہم اپنے حکمرانوں سے پہچانے جاتے ہیں جو روز اوّل سے ہی اشرافیہ کی بہت بڑی آماج گاہ ہے ان اشرافیہ کی کرپشن بھی پکڑی جائے تو لاکھوں کی نہیں اربوں کی ہوتی ہے، یہاں پلازے اور پیڑول پمپ بنائے جاتے ہیں، شْوگر ملیں اور آٹے کی کرپشن سے ہاتھ رنگے اور مْنہ کالا کیا جاتا ہے، اس سے بھی پیٹ نہ بھرے تو قومی دولت لوٹ کر بیرونی ملک منتقل کر دی جاتی ہے۔

مگر کون پوچھنے والا ہے ان سے کبھی ان کی انجیو گرافی نکل آتی ہے تو کبھی بواسیر احتساب کا وقت آئے تو ہرکوئی بیمار ہو کر ہسپتال پہنچ جاتا ہے۔ میں حکمرانوں سے پوچھتا ہو ں کہ اس اشرافیہ کا کیوں کوئی مستقل علاج نہیں کیا جاتا، ان کو تو کبھی لندن، دبئی اور نیوزی لینڈ روانہ کر دیا جاتا ہے۔ابھی حال ہی میں سابق صدر زرداری پر بھی تین سو ارب کی کرپشن کا ریفرنس احتساب عدالت میں منظور کیا گیا مگر واہ کمال مسکراہٹ تھی زرداری صاحب کے چہرے پر جو چیخ چیخ کر پوری قوم کو بتا رہی تھی کہ کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی ہو گا۔ یہ سب کچھ بھی سیاسی حوادث کی نظر ہو جائے گا۔ کرپشن تو حکومت سے نہ ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی ان مقدمات کی پیروی، تو پھر مسکراہٹ تو بنتی ہے۔ حکومت کی اس بے بسی اور بیچارگی پر تو جی بھر کے قہقہے بھی لگائے جاتے تب بھی حکمرانوں کو کوئی ندامت نہ ہوتی۔ خدا را اب تو بس کیجیے اس کرپشن اور بد دیانتی سے لبریز پاکستان پر رحم کیجیے۔ چودہ اگست کو صرف  شمعیں جلانے اور پرچم لہرانے سے ملک کا بھلا نہیں ہوگا۔ 

ان جونک نما اشرافیہ کو ننگا کر کے پورے ملک کے چوکوں اور چوراہوں پر اْلٹا لٹکا دینا چاہئیے بالکل اْسی طرح کہ جس طرح چین نے اپنے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے حکومت میں موجود اشرافیہ کو چن چن کر لٹکا یا۔ تب ہی کرپشن ختم ہو گی، تب ہی قائد کا پاکستان بنے گا، تب ہی ملک ترقی کی راہ پر اپنا حقیقی سفر شروع کرے گا،تب ہی ہمیں حقیقی آزادی نصیب ہو گی۔ 

آپ نے تو قسم کھائی تھی خاں صاحب کسی کو نہیں چھوڑیں گے، مگر سب کو چھوڑ دیا،سب کو آزاد کر دیا، سب کے آگے ہار مان لی، سب سے ہاتھ ملا لیا،سب کو پتلی گلی  دکھا کر بھگا دیا۔ مت بھولئیے یہ آپ سے چھوٹ بھی جائیں تو انہوں نے جو پاکستان کے ساتھ کیا ہے، خدا انہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔

مزید :

رائے -کالم -