کرپشن اور جمہوریت

کرپشن اور جمہوریت
کرپشن اور جمہوریت

  

یہ تسلیم کر لینے میں کیا ہرج ہے کہ کرپشن اور حکمرانی لازم و ملزوم ہیں …… ”کرپشن“ ایک نہایت جامع اور ہمہ جہت اصطلاح ہے۔ میں اگلے روز بیروت میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں لبنانی وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے مستعفی ہو جانے کی خبر دیکھ اور سن رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے کا سبب ”دیرینہ کرپشن“ تھی۔ بندہ پوچھے کہ کیا ان کو معلوم نہ تھا کہ نائٹریٹ ایمونیم دو دھاری تلوار ہے۔ یہ کھاد کا کام بھی دیتی ہے اور اجناس کو سرسبز و شاداب بنانے میں استعمال کی جاتی ہے لیکن دوسری طرف ایک خاموش  آتش فشاں بھی ہے۔ جس جگہ اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے اس کے دہانے کے اطراف میں جو جاندار بستے ہیں ان پر بغیر کسی وارننگ کے تباہی آ جاتی ہے، یہ خاموش آتش فشاں ایک دم شعلہ ء جوالہ بن جاتا ہے اور اردگرد کی آبادیوں پر بلائے بے درماں بن کر ٹوٹ پڑتا ہے، اس لئے اس سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ لیکن یہ ایمونیم نائٹریٹ جس جگہ بنتی ہے، جہاں سے لوڈ ہو کر بحری تجارتی جہازوں پر لادی جاتی ہے، وہاں سے کسی بندرگاہ پر اَن لوڈ کی جاتی ہے اور پھر وہاں سے کھیتوں میں پہنچائی جاتی یا بارود سازی کے لئے استعمال کی جاتی ہے، اس تمام پراسس سے گزرتے ہوئے جب اسے کسی جگہ زیادہ عرصے تک سٹور رکھا جائے تو اس میں بھڑک اٹھنے والے خود کار مادے اور کیمیکلز کسی وقت بھی زندہ ہو سکتے اور اردگرد کے ماحول کی بربادی کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس لئے اس مواد کو زیادہ دیر تک گوداموں میں رکھنا خالی از خطر نہیں ہوتا۔ یہ نائٹریٹ ایمونیم اگر اتنے برسوں سے بیروت کی بندرگاہ کے سٹوروں میں رکھی ہوئی تھی تو اٹھائی کیوں نہ گئی۔ اور اب جب اتنی عظیم تباہی ہو گئی ہے، 200سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، 7000سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، دور دور تک بندرگاہی تنصیبات اور بلند و بالا عمارات/ پلازے تنکوں کی طرح بکھر چکے ہیں تو اب وزیراعظم کو ہوش آیا ہے کہ اس کا سبب ”دیرینہ کرپشن“ تھی! ان سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس عظیم بربادی کے ذمہ دار سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کو اسی انجام سے دوچار کیوں نہیں کیا جا سکتا جس کا سامنا مرنے اور زخمی ہونے والوں نے کیا ہے؟

میرے نزدیک حکمرانی کی طرز کوئی بھی ہو، اس میں کرپشن کے عنصر کی موجودگی ایک فطری اور لابدی عنصر ہے۔ بادشاہی، شہنشاہی، خلافت، آمریت، جمہوریت وغیرہ طرزِ حکمرانی کے مختلف نام ہیں۔ دنیا، بندہ و آقا کے مرکب سے مل کر بنی ہے، اس لئے ”تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے“ ……اقبال نے چیرہ دستاں کو مخاطب کرکے ان کو جو وارننگ دی تھی کہ فطرت کی تعزیریں سخت ہوتی ہیں تو آخر کسی نے تو آقا بننا ہے اور کسی نے تو بندے کا روپ دھارنا ہے:

تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی

مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہمدوش

طرزِ حکومت کے موضوع پر دفتروں کے دفتر سیاہ ہو چکے ہیں۔ تصنیفات و تالیفات کا ایک ایسا انبار ہے جس کو دیکھ کر ہمالہ کا گماں گزرتا ہے۔انسان کی تازہ ترین دریافت جمہوری نظام ہے۔ لیکن کیا اس میں کرپشن کا عنصر موجود نہیں؟ میرے نزدیک کرپشن اور جمہوریت ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ کرپشن کے بغیر، جمہوریت برہنہ ہے اور جمہوریت کا وجود کرپشن کے ستونِ واحد پر قائم ہے۔شاید یہی وجہ تھی کہ اسلام میں طرزِ حکمرانی کی کوئی واضح تخصیص نہیں کی گئی۔ آنحضورؐ کے وصال کے بعد ان کے جانشین کا انتخاب جس طرح ہوا اس پر بحث و مباحثہ ابھی تک جاری ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب کیسے ہوا، یہ ایک اختلافی مسئلہ بنا ہوا ہے جو اسلام کے دو اہم ترین فرقوں (سنی اور شیعہ) کے درمیان وجہ تنازعہ بھی ہے۔ اس حقیقت پر بھی غور فرمانے کی ضرورت ہے کہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ یکے بعد دیگرے کیوں شہید کئے گئے اور بالآخر خلافت کی جگہ ملوکیت نے کیوں لے لی۔ لیکن یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ باوجود اس کے کہ اموی، عباسی، فاطمی اور عثمانی حکمرانیاں خلافت کہلاتی ہیں لیکن یہ درحقیقت ”بادشاہیاں“ تھیں وگرنہ بادشاہت اور خلافت میں فرق کیا ہے؟…… بادشاہت وراثتی اور شخصی حکمرانی ہے اور خلافت غیر وراثتی لیکن شخصی حکمرانی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کیا ان حکمرانیوں کو خلافت کے نام سے یاد کرنا، لکھنا اور کہنا ”کرپشن“ نہیں ہے؟

پاکستان کی موجودہ حکومت، تحریکِ انصاف کی حکومت کہلاتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کو عدالتِ عظمیٰ نے دیانت دار اور امین ڈکلیئر کر رکھا ہے۔ لیکن یہ ڈکلیریشن ان کا شخصی ڈکلیریشن ہے۔ وہ ذاتی طور پر ”کرپشن“ سے پاک اور مبرا ہوں گے لیکن کیا ان کی حکومت (کابینہ) کے درجنوں افراد بھی عدالت عظمیٰ سے ڈکلیئرڈ امین اور دیانت دار ہیں؟…… میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے…… گزشتہ دو برسوں سے یہ بحث چل رہی ہے کہ نوازشریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں یا نہیں ہیں۔ لیکن بالفرضِ محال اگر کوئی عدالت ان دونوں کو امانت و دیانت کا سرٹیفکیٹ جاری بھی کر دیتی ہے تو ان کی حکومتوں کے افراد (وزیروں،امیروں، مشیروں وغیرہ) کو تو مصدقہ (Certified) امانت دار نہیں کہا جا سکے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں پارٹیوں نے سالہا سال پاکستان پر حکومتیں کیں اور دونوں کے طرز ہائے حکمرانی کو جمہوری کہا گیا۔ لیکن ہم جمہوریت کی Defination کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ جمہوریت یا کسی بھی اور طرزِ حکمرانی کو مکمل طور پر ”کرپشن فری“ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

میں قارئین کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ موجودہ حکومت نے اپنے دو سالہ دورِ حکمرانی میں چار پانچ میگا پراجیکٹ لانچ کئے ہیں جن میں دیامربھاشا ڈیم، ایم ایل ون، لاہور راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ، احساس پروگرام، کراچی کا کچرا صاف کرنے کا پروگرام اور اس طرح کے دوسرے پروگرام…… کیا یہ سب کے سب پروگرام اور منصوبے کرپشن فری ہیں؟ کیا صدر شی نے چین کے سینکڑوں ”ساہوکاروں“ کو سولی پر نہیں لٹکایا؟ کیا ان مجرمین نے جدید چین کی تعمیر میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا؟ کیا صدر شی مستقبل میں ”کرپشن فری“ چین کے معمار سمجھے جائیں گے؟…… کیا ایشیا، امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور افریقہ کی حکومتیں کرپشن میں ملوث نہیں؟…… یہ سارے سوال اپنے سامنے رکھئے اور فیصلہ کیجئے کہ کرپشن کی وہ ”مقدار“ کیا ہے جو جائز ہے اور وہ سکیل کیا ہے جو ناجائز ہے…… آپ کو معلوم ہو گا کہ کرپشن کے سکیل اور اس کی مقدار میں فرق ضرور ہوگا لیکن کوئی بھی معاشرہ، ملک اور حکومت ازل سے آج تک ایسی نہیں جو ”کرپشن فری“ کہلا سکے…… اگر ایسا ہے تو پھر کیوں نہ کرپشن اور حکمرانی کا ایک دوسرے سے رشتہ ناتہ ایک اٹوٹ انگ سمجھ لیا جائے۔ اس کی حدود ضرور مقرر کیجئے لیکن اس سے کسی بھی فرد بشر اور کسی بھی حکومت کو مفر نہیں (مذہبی رہنماؤں اور روحانی پیشواؤں کو اس میں شامل نہ کیجئے)

مزید :

رائے -کالم -