عثمان بزدار،مریم نواز اور سیاسی رویے

عثمان بزدار،مریم نواز اور سیاسی رویے
 عثمان بزدار،مریم نواز اور سیاسی رویے

  

 رواں ہفتے قوم نے اپنی سیاسی قیادت کے رویے،کردار اور قول و فعل کے حوالے سے دو منظر دیکھے،پہلا ن لیگی رہنما اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی نیب میں منگل کے روز پیشی کا تھا۔ اس منظر میں قوم نے رعونت،تکبر اور دھونس کو دیکھا، ہمچو ما دیگر نیست کی آوازیں سنیں، قانون کے احترام سے لا تعلقی  اور مرضی کا فیصلہ لینے کیلئے احتساب کیلئے اپنے ہی بنائے گئے ایک ادارے کو دباؤ میں لانے کا مظاہرہ دیکھاجبکہ دوسری طرف بدھ کے روز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی نیب عدالت میں پیشی کا  منظر تھا،وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر تام جھام، پروٹوکول اور ہٹو بچو کے رویے سے خود کو دور رکھا،اسلامی روایات کے مطابق احتساب ادارے  کی طلبی پر ایک عام شہری کی طرح پیش ہوئے اور  اڑ ھائی گھنٹے تک سوالات کا سامنا کیا،اس موقع پر  نیب نے ان سے اثاثوں بارے تفصیل مانگی تب بھی انہوں نے کوئی اعتراض نہ کیا،اور خاموشی سے سوالنامہ تھام لیا، انہوں نے اپنے رویے اور گفتگو  سے اس قسم کا کوئی تاثر تک نہ دیا کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے منتخب وزیر اعلیٰ اور بارہ کروڑ عوام کے نمائندے ہیں،اس دوسرے منظر میں آئین و قانون کی حکمرانی اور اداروں کا احترام صاف طور پر محسوس کیا گیا۔یقینی طور پر عثمان بزدار  نیب کے سوالنامے کا جواب دیں گے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے قلابے سازش کا پتہ دیتے ہیں،ویسی ہی سازش جو ان کے والد نے1997ء میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس ملنے پر پیشی کے روز سپریم کورٹ اور معزز جج صاحبان پر حملہ کر کے رچائی تھی،اس حملہ کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی تھی،جج صاحبان نے  کمرہ عدالت سے   نکل کر  اپنی اپنی جان بچائی،اس وقت  ن لیگی غنڈے، اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کی قیادت میں اسلام آباد لائے گئے جنہوں نے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے کمرہ عدالت میں گھس کر وہ ہڑبونگ مچائی کہ اللہ کی پناہ،اس جرم میں کوئی رکن اسمبلی نااہل ہوا اور کسی کو سزائے قید دی گئی،یہ سیاہ دھبہ آج بھی شریف خاندان کے ماتھے پر سجا ہوا ہے۔ نیب جج ارشد ملک جنہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی کیخلاف مریم نواز ویڈیو سکینڈل لائیں اور اپنی اور والد کی سزا کے عدالتی فیصلہ کو غیر موثر اور سزا کو متنازع بنانے کی سازش کی،ارشد ملک کو اگر چہ عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے مگر اس حوالے سے بہت سے حقائق اب بھی پردہ راز میں ہیں قوم جن کو جاننا چاہتی ہے۔ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے مریم نواز نے اس مرتبہ بھی ایک ایسے  ادارے کو دباؤ میں لانے  کے لئے اس پر حملہ کرا دیا  جس نے ان کو جاتی امراکی 1480کنال اراضی جو انہوں نے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کی تھی مگر یہ اراضی ان کے قبضہ میں ہے کی ملکیت کے ثبوت مانگے۔

نیب دفتر پر حملہ کے دوران ٹی وی پر چلائی جانے والی فوٹیج میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ن لیگی رہنماء کی گاڑی میں پتھروں سے بھرے شاپر پڑے ہیں،کارکنوں کے بھیس میں غنڈے وہ شاپر گاڑی سے نکال کر پتھر پولیس اہلکاروں اور  ادارے کی عمارت پر برساتے رہے،مریم نواز نے بعد ازاں اپنی پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ ان کی گاڑی کی ونڈ سکرین پولیس کی طرف سے برسائے گئے پتھر سے کریک ہو گئی،ساتھ ہی اعتراف بھی کیا گیاکہ گاڑی بلٹ پروف ہے،جاہل بھی جانتے ہیں کہ بلٹ پروف گاڑی کے شیشوں اور باڈی پر اے کے رائفل کی گولی اثر نہیں کرتی مگر ایک پتھر سے شیشہ میں کریک آگیا یا تو پاکستانی پتھروں میں کوئی جادوئی طاقت ہے یا گاڑی پر کسی نے تعویز ٹونا کیا تھا کہ گاڑی پتھر کی ضرب بھی برداشت نہ کر سکی۔ مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے موبائل فون سے فوٹیج بنائی مگر پریس کانفرنس میں دکھائی نہیں،ایک اور عجیب بات جو انہوں نے کی وہ یہ کہ پتھر برسنے سے گاڑی لرز لرز جاتی تھی،اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ پتھر جادوئی تھے ورنہ پتھر گرنے سے چھوٹی سی  گاڑی میں جنبش نہیں آتی ان کے پاس تو بلٹ پروف گاڑی تھی،یہ بات ہر گاڑی رکھنے والا جانتا ہے کہ جب ونڈ سکرین میں کوئی کریک آتا ہے تو اس کی گیس کے اخراج سے سکرین ٹوٹ کر گرے نہ گرے مگر پوری سکرین میں کریک پڑتے ہیں اور باریک باریک ریزے بن جاتے ہیں مگر مریم  نوازکی گاڑی کی سکرین بھی شائد جادوئی تھی۔

پوری قوم نے یہ بھی دیکھا کہ مریم نواز  کے آنے سے قبل کارکن خاموشی سے کھڑے تھے  مگر ان کی گاڑی دکھائی دیکھتے ہی نیب کے آفس  کی طرف بڑھنے لگے، آہنی بیرئیرز کو اٹھا کر پھینک دیا،پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے 15 اہلکار زخمی ہوئے اس کے بعد پولیس اہلکار کیا کرتے غنڈوں کو پسپا کرنے کیلئے شیلنگ کرتے لاٹھیاں نہ برساتے تو کیا خود کو ان کے پتھروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے،امن و امان برقرار رکھنا اور اداروں  کی حفاظت پولیس کے فرائض منصبی کا حصہ ہے انہوں نے وہ کیا جس کی تنخواہ لیتے ہیں مگر لیگی کارکنوں نے جو کیا کیا وہ ان کا آئینی، جمہوری، اخلاقی حق تھا یا انہوں نے اس کی کسی سے تنخواہ وصول کی تھی۔

     وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ایک ایسے کیس میں نیب عدالت کی طرف سے طلب کیا گیاجو براہ  راست   ان سے بنتا ہی نہیں ہے،ہوٹلوں کو شراب کے لائسنس دینا ڈی جی ایکسائز کی ذمہ داری تھی، چاہئے تو یہ تھاکہ وزیر اعلیٰ  عثمان بزدار کی طلبی سے قبل ڈی جی ایکسائز سے سوال کیا جاتا وہ اگر کہتے کہ وزیر اعلیٰ کے کہنے پر لائسنس دیا ہے تو وزیر اعلیٰ کو طلب کیا جاتا مگر اس کے باوجود وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے قانون پسند ہونے اور ادارے کے احترام میں اپنے آپ کو پیش کر دیا۔وہ  ایک عام شہری کی حیثیت سے بغیر لاؤ لشکر  پیش ہو ئے،ان سے اثاثوں کی تفصیل مانگی گئی تو انہوں نے یہ جواز نہیں دیا کہ وہ یہ تفصیل الیکشن کمیشن کو دے چکے ہیں بلکہ خاموشی سے پروفارما وصول کر لیا،اڑھائی گھنٹہ تک تفتیشی ٹیم کے سوالات کے جواب دئیے بڑے اطمینان سے آئے اور سرخرو ہو کر واپس گئے،اگر مریم نواز بھی اپنی روایات سے قطع نظر  اسی طرح آتیں اور پیش ہو کر مطلوبہ معلومات فراہم کرتیں توآج ان کو طعن و طنز کا سامنا نہ کرنا پڑتا،کارکنوں کے روپ میں غنڈوں کا لشکر لانا تو ویسے ہی معیوب ہے،کہ احتساب ادارے کو کسی کو بھی طلب کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے،مگر 1840کنال اراضی جس پر سالوں سے شریف خاندان قابض ہے اس کی ملکیت کا ان کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں۔

ایک اہم بات جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ شہباز شریف کی طرف سے مریم نواز کی  پریس کانفرنس میں عدم شرکت ہے،خیال ہے کہ  بحیثیت صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نہیں چاہتے کہ مریم نواز لب کشائی کرے،فضل الرحمٰن جنہوں  نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے وہ اس وقت نہ بولے جب کراچی میں جماعت اسلامی کی ریلی پر کریکر حملہ کیا گیا،بلاو ل بھی خاموش رہے مگر اب ملکی سیاست کو نئی کروٹ دینے کیلئے متحد ہونے کا تاثر دینے والے یہ بعد المشرقین نظریات کے حامل سیاستدان واویلا مچا رہے ہیں، اپوزیشن کا اتحادبنتے دکھائی پڑتا ہے نہ کوئی سیاسی طوفا ن نظر آ رہا ہے،سازشیں البتہ جاری ہیں اور حکومت بھی چل  ہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -