لاہور ہائیکورٹ، مرضی سے شادی کرنیوالی نو مسلم خاتون کو آزاد انہ زندگی گرانے کی اجازت

لاہور ہائیکورٹ، مرضی سے شادی کرنیوالی نو مسلم خاتون کو آزاد انہ زندگی گرانے ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سکھ مذہب ترک کرکے اسلام قبول کرنے اورپسند کی شادی کرنے والی ننکانہ صاحب کی عائشہ بی بی کو دارلامان سے اپنی مرضی سے جہاں چاہے جانے کی اجازت دے دی،مسٹر جسٹس شہرام سرور چودھری نے کیس نمٹاتے ہوئے قراردیا کہ عائشہ بی بی عاقل وبالغ ہے اور اپنی مرضی سے آزادانہ زندگی گزارنے کا آئینی حق رکھتی ہے، وہ اپنے شوہر کے ساتھ یا پھرجہاں بھی جانا چاہے اس کے لئے آزاد ہے،فاضل جج نے ایس پی سکیورٹی کوحکم دیاکہ پولیس عائشہ بی بی کو اسکی خواہش کے مطابق مکمل سکیورٹی کے ساتھ وہ جہاں جانا چاہے چھوڑ کر آئے۔عدالت نے نومسلم خاتون عائشہ بی بی کا حق مہربھی 50ہزار روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کردیا،دوران سماعت خاتون کے والد بھگوان سنگھ اوربھائی منموہن سنگھ کے وکیل خلیل طاہر سندھو نے اس بات کی ضمانت دینے سے انکارکردیا کہ عائشہ بی بی کو اس کے والدین کے حوالے کیا گیا تو وہ اسے کچھ نہیں کہیں گے۔فاضل جج نے لڑکی کے والدین کے وکیل سے کہا کہ آپ صرف لڑکی کی عمر ثابت کر دیں۔خلیل طاہرسندھو نے کہا کہ عائشہ کا سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ اس کی عمر کا تعین کرتا ہے، جس پر فاضل جج نے کہا کہ سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ بھی کیاکوئی عمر تعین کرنی کی دستاویز ہوتی ہے؟خاتون کے شوہر کے وکیل نے کہا عائشہ بی بی کی عمر کے تعین کے لئے طبی ٹیسٹ ہو چکا ہے، وہ بالغ ہے۔گزشتہ روز عدالت کے حکم پر عائشہ کو دارالامان سے سخت سیکورٹی میں بکتر بند گاڑی میں پیش کیا گیا۔

مرضی سے شادی

مزید :

صفحہ آخر -