رنگ روڈ اتھارٹی،زمین ایکوائر کرنے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت 

 رنگ روڈ اتھارٹی،زمین ایکوائر کرنے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت 

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان اور مسٹر جسٹس جواد حسن پرمشتمل ڈویژن بنچ نے رنگ روڈ اتھارٹی اورزمین ایکوائر کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ حکومت کو کیا شوق چڑھ گیا ہے کہ ہر معاملہ کے لیے اتھارٹی بنادی جاتی ہے،سٹی راوی کے لیے نئی اتھارٹی بنادی گئی،اگر حکومت نے ایسی اتھاریٹیز ہی بنانی ہیں تو پھر ایل ڈی اے کو تالے لگا دیں۔فاضل بنچ نے رنگ روڈ سے متعلق زیر التوا ء تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دیتے ہوئے حکومت پنجاب، ایل ڈی اے، رنگ روڈ اتھارٹی سمیت تمام مدعاعلیہان کو جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا،عدالت درخواستوں پر سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ رنگ روڈ اتھارٹی بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟کیا پنجاب رولز اف بزنس میں رنگ روڈ اتھارٹی آتی ہے؟سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رنگ روڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت بنائی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ اسکول بنانا ہو تو اسکول کی اتھارٹی بنادی جاتی ہے،کیا اتھارٹیز بناکر حکومت من پسند افراد کو نواز رہی ہے؟۔چیف جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کہ بطور رنگ روڈ اتھارٹی کے چیئرمین کمشنر کو کچھ پیسے ملتے ہیں؟چیف جسٹس قاسم خان نے کمشنر سے بیان حلفی طلب کرلیا۔

اتھارٹی،جواب

مزید :

صفحہ آخر -