سی اے اے نے پی آئی اے کے وقار کو جتنا نقصان پہنچایا، مداواناممکن: اسلام آباد ہائیکورٹ

سی اے اے نے پی آئی اے کے وقار کو جتنا نقصان پہنچایا، مداواناممکن: اسلام آباد ...

  

 اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے پی آئی اے کے پائلٹ کی لائسنس معطلی اورنوکری سے برطرفی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سول ایوی ایشن نے قومی ائیرلائن کے وقارکو ایسا نقصان پہنچایا جس کا مداوا بھی نہیں ہوسکتا۔ بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس  اطہرمن اللہ کی سربراہی میں پی آئی اے کے پائلٹ کی لائسنس معطلی اورنوکری سے برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سول ایوی ایشن حکام سے استفسار کیا کہ اہم پوسٹ پر 2 سال سے مستقل ڈی جی کیوں تعینات نہیں کیاگیا؟اس پر وکیل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جواب دیا کہ ہم نے اشتہار جاری کیا مگر ابھی تک کوئی تقرر نہیں ہوسکا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایوی ایشن حکام پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ آپ نے کیا اس سے ملک کے امیج اور پی آئی اے کو بہت نقصان ہوا، آپ نے قومی ائیر لائن کے وقارکو ایسا نقصان پہنچایا جس کا مداوا بھی نہیں ہوسکتا، آپ اس کی وضاحت نہیں کرسکتے،ریاست اس طرح نہیں چلتی۔بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سب سے اہم عہدے کا اضافی چارج سیکرٹری سول ایوی ایشن کو دینے پر وفاقی حکومت کو تحریری وضاحت جمع کروانے کا حکم دیا اور سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کردی۔دریں اثنا اداروں کے نام پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ ایف آئی اے پر برہم ہوگئے۔ اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ سارے ادارے زمینوں کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں، ایف آئی اے کو تو خود ایسے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے اور وہی اس میں لگ گئے۔چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور چیئرمین سی ڈی اے کے نمائندہ کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایف آئی اے کو کہاں اختیار ہے کہ وہ کاروبار کریں گے؟ حاضر سروس لوگ پراپرٹی کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ کرائم ریٹ میں اضافہ بھی اسی وجہ سے ہے یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور سی ڈی اے حکام کو طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

وقار کو نقصان

مزید :

صفحہ آخر -