اثاثہ جات کیس، خورشید شاہ پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

       اثاثہ جات کیس، خورشید شاہ پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

  

سکھر(این این آئی)آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں بدھ کوپاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سیدخورشید شاہ کو احتساب عدالت میں پیش کیاگیا،ریفرنس میں نامزد خورشید شاہ کی بیگم طلعت بی بی کی غیرموجودگی کی وجہ سے عدالت فرد جرم عائد نہ کرسکی،سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ جج فرید انور قاضی کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔خورشید شاہ کی جانب سے وکیل مکیش کمار کارڑا اور نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر ملک زبیراحمد پیش ہوئے، وکلا کے مطابق خورشید شاہ و دیگر کے خلاف بدھ کوعدالت میں فرد جرم عائد ہونا تھی مگر خورشید شاہ کی بیگم طلعت بی بی کی عدم موجودگی کی وجہ سے فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیوں نہ ملزمہ کی غیرموجودگی میں ہی فرد جرم عائد کردی جائے؟ جس پر خورشید شاہ کے وکیل نے تاریخ کی استدعا کی جس پر سماعت آئندہ 24 اگست تک ملتوی کردی گئی۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایااورکہاکہ ہمیں نیازی والا نہیں قائد اعظم کا پاکستان چاہیئے۔انہوں نے ایک بار پھر اپنے اوپر درج مقدمے کو من گھڑت اور انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے سکھر کی عوام نے آٹھ مرتبہ منتخب کیا لیکن پھر بھی مجھے بے گناہ گرفتار کئے رکھا گیا ایسے ہی لاہور میں نواز لیگ کارکنوں پر جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ خورشید شاہ کو پچھلے سال 18 ستمبر کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نیب کی جانب سے خورشید شاہ، دو بیگمات، دو بیٹوں اور داماد صوبائی وزیر اویس شاہ سمیت 18 افراد کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کرپشن کا ریفرنس زیر سماعت ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -