کشمیر کے حوالے سے نظم دل کے قریب ہے،کاشف صدیقی

کشمیر کے حوالے سے نظم دل کے قریب ہے،کاشف صدیقی

  

کراچی (پ ر)تہوار عید کا ہو یا بقرعید کا، آمد رمضان کی ہو یا پھرماہ ِربیع النور کی، ساعتیں ہوں مقدس وپُرنور شب معراج، شب قدر اور شب برا ت کی،  غذائیت کی کمی کے سبب معصوم بچوں کی اموات ہوں یا پھر سامنا ہو عوام الناس کو خطرناک وبائی مرض کا۔شاعر امن کاشف شمیم صدیقی کے قلم نے پوری دیانت داری سے اپنا کردارنبھانے کی کوشش کی ہے۔ معروف شاعر کی مختلف موضوعات اور مواقعوں پرتحریر کردہ نظمیں منفرد اندازِبیان کی بدولت پسندیدگی سمیٹے رکھتی ہیں۔   COVID-19 کی بات کی جائے تو ملک کے طول و ارض میں پھیلے اس وبائی مرض نے زندگی کے رنگوں کو بے نورکردیا، لیکن جہاں کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں اوربہت سے مثبت و موئثر امور انجام پائے وہیں کاشف شمیم صدیقی کے شاعرانہ  کلام  حوصلوں،  ارادوں  اور  جذبوں  کو  تقویت  بخشنے  کا  سبب  بھی بنے۔  قوم کا حوصلہ  بلند کرنا مقصد ٹھہرا،  تو لکھا ’’ سحر  ہونے  کو  ہے“ ۔ مسیحاؤں  کو  خراجِ تحسین ’’سلام  مسیحائی  تجھے  سلام“  لکھ کر پیش کیا  ۔   بے کس،  مجبور  غریبوں کا  دکھ  محسوس کیا  تو کہا  ’’ تھام لیں اُن ہاتھوں کو،  ڈور  سانسوں کی ٹوٹنے سے پہلے“   اور  احساسات کو  مزید  ٹھیس پہنچی  تو  ’’پنچھی نامہ “  دورانِ لاک ڈاؤن  بند  دکانوں  میں  مر جانے والے  بے زُبان، معصوم  پرندوں  کے نام کردیا۔یوم آزادی کے موقع پر لکھی جانے والی نظم بعنوان  ’’کشمیر پاکستان،  دو قالب ایک جان“  بھی  اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔کلام میں جہاں ہر طرف پاکستان دکھائی دیتا ہے وہیں ظلم و بربریت کا شکار، وادیِ جنت نظیر کے دکھ کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کاشف شمیم صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ نظم انکے دل کے بہت قریب ہے اور  پروردگار عالم کا بے انتہا شکر ہے کہ ہم پاکستانی آزاد فضاؤں میں چودہ اگست کی خوشیاں منا رہے ہیں، دعا ہے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے مظلوم کشمیری بھی ایسے ہی  دن دیکھ سکیں۔پاکستانی، شادمانی کی ان گھڑیوں میں کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہارِیکجہتی کرتے ہوئے یہ ثابت کردیں کہ مقبوضہ وادی کسی کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ مادر وطن کی شہ رگ ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -