سستی بجلی کیلئے متبادل توانائی پرانحصار، مشینری آلات کی درآمد ٹیکس فری ہو گی: وفاقی وزراء 

      سستی بجلی کیلئے متبادل توانائی پرانحصار، مشینری آلات کی درآمد ٹیکس فری ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی حکومت نے ملک میں توانائی کے بحران کو کنٹرول کرنے کیلئے 20 فیصدقابل تجدید توانائی پالیسی پر انحصار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2030 تک متبادل ذرائع توانائی سے 30 فیصد بجلی حاصل کی جائے گی،قابل تجدید توانائی کی پیداوار بڑھانے کیلئے نئے منصوبوں کیلئے بولی کریں گے،اس سے صنعت اور گھریلو صارفین کو فائدہ ہو گا، امید ہے مذکورہ پالیسی کے تحت ہم آئندہ 15 برس میں بجلی کی دستیابی اور اس کی قیمت کم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک سے پاکستان کے تعلقات کی تاریخ محض چند برس پر مشتمل نہیں،کسی کی خواہش تو ہوسکتی ہے کہ تعلقات خراب ہوں،ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری،معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہاکہ قابل تحسین اقدام یہ ہے کہ مذکورہ پالیسی کے تحت اس کی اشیا پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔چین اور امریکا کے مابین تجاری کشیدگی جاری ہے جس کے بعد بیجنگ کو اپنے تجارتی مقاصد کے لیے نئی منڈی درکار ہے اور پاکستان اسے صنعت سازی کیلئے ساز گار ماحول فراہم کرے گا۔  اس طرح مقامی سطح پر میونسپل کمیٹی اور لوکل باڈیزبھی اپنی بجلی پیدا کرسکیں گی۔ سولر سیلز مقامی صنعت میں تیار ہوں گے اور چھوٹے شہر اپنی سہولت کے مطابق توانائی کا نظام تشکیل دیں اور ترسیل شروع کردیں۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ پہلے سولر اور اس کے بعد ونڈ پاور کو عام کریں کیونکہ ملک میں قابل تجدید توانائی کو فعال کرنے کیلئے تمام قدرتی وسائل موجود ہیں۔ قابل تجدید توانائی کی بدولت میں ہم بجلی درآمد بھی کرسکیں گے۔ہم نے پاکستان اسٹینڈرڈزاینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو مضبوط کیا ہے اور ایک مرتبہ ٹیکنالوجی پاکستان منتقل ہوجائے تو معیار کو برقرار رکھنے میں زیادہ محنت درکار نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ کورونا سے قبل دنیا کی بڑی کمپنیوں نے پاکستان میں سولر اور ونڈ پاور کی مینیوفیکچرنگ پر خواہش ظاہر کی ہے۔ قابل تجدید توانائی 2025 تک 8 ہزار میگا واٹ تک جائیگی، بجلی کے کارخانوں کا فائدہ آئندہ دو برس میں پہنچے گا، موجودہ دور میں مہنگی بجلی کی وجہ ماضی میں فیول کے مہنگے معاہدوں کا شاخسانہ ہے۔معاون خصوصی ندیم بابر نے کہاکہ پہلی بار پالیسی کے تحت کھلی بولی منعقد ہو گی،گرڈ میں بجلی کی ضروریات کا تعین وفاقی حکومت کرے گی،منصوبوں کے مقام کا تعین صوبے باہمی مشاورت سے کریں گے۔گزشتہ سالوں میں بجلی کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے۔قابل تجدید توانائی کی مشینری یہاں پر تیار کی جائے گی،3 چینی اور ایک پورپی کمپنی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں،ہر سال وفاقی حکومت نئے منصوبوں کیلئے بولی منعقد کرے گی۔ندیم بابر نے کہاکہ تمام مشینری اور آلات کی درآمد ٹیکس فری ہو گی،جتنی بجلی بنے گی اتنی کی ادائیگی ہو گی۔بجلی کی قیمت تین ساڑھے تین سنٹس فی یونٹ ہو گی۔ فواد چوہدری نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کے سب سے مشکل محاذ پر لڑ رہے ہیں۔ لیھتیم والی بیڑی درآمد کریں تو ٹیکس فری ہے یہاں تیار کریں تو خام مال کی درآمد پر ٹیکس ہے،پہلے شمسی توانائی اور پھر ونڈ مشینری اور آلات کو مقامی طور پر تیار کیا جائے گا۔ ندیم بابر نے کہاکہ سعودی عرب کی آئل کیلئے مالی سہولت سالانہ بنیاد پر تھی،سعودی عرب نے ساڑھے تین ارب ڈالر کی سہولت دی،ہم نے ساری رقم استعمال نہیں کی،سعودی عرب سے سہولت جاری رکھنے کی بات جاری ہے،سعودی عرب کتنی سہولت فراہم کرے گا فی لحال اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ 

وفاقی وزراء

مزید :

صفحہ اول -