نیب نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے،میاں افتخار حسین 

  نیب نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے،میاں افتخار حسین 

  

چارسدہ (بیو رو رپورٹ) اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ نیب کو غیر قانونی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ اب دہشت گردی کی بھی اجازت دی گئی۔ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔احسان اللہ احسان کے آڈیو بیان کو سنجیدگی سے لیا جائے۔وہ چارسدہ میں یوم بابڑہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ قبل ازیں میاں افتخار حسین، ایمل ولی خان، ایم پی اے شکیل بشیر خان عمر زئی اور پارٹی کے دیگر عہدیداروں اور کارکنوں نے تاریخی جامعہ مسجد غازی گل بابا میں شہدائے بابڑہ کے بلند درجات کیلئے ختم القرآن کا انعقاد کیا اور بعد ازاں شہدائے بابڑہ کی یاد گار پر پھول چڑھائے۔ میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ 12اگست 1948میں اس وقت کے وزیر اعلی قیوم خان نے ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کر کے بابڑہ میں کربلا کا میدان سجایا جس میں سینکڑوں خدائی خدمتگار شہید اور خواتین سمیت سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ بابڑہ کا کیس دوبارہ ری اوپن کیا جائیگا۔ میاں افتخار حسین نے گزشتہ روز لاہور میں مریم نواز اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں پر ریاستی اداروں کی طرف سے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ نیب اب غیر قانونی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی بھی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نیاز ی گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے سلیکٹرز سے مطالبہ کیا کہ خدا کیلئے کپتان سے قوم کو نجات دیں کیونکہ کپتان اور پاکستان اب اکٹھے نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اپو زیشن کو موجودہ حکومت سے جان چھڑانے کیلئے ایک پیج پر آنا ہو گا۔ انہوں نے لاہور واقعہ کے حوالے سے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ افغان لویہ جرگہ کی طرف سے قیدیوں کی رہائی فریقین کا باہمی ایشو تھا البتہ پشتون روایات کے مطابق جرگہ کے ذریعے اس قسم کے فیصلوں کے ہمیشہ مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی افغانستان میں جلد از جلد امن کی خواہاں ہے کیونکہ افغانستان اور پاکستان میں امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کا دفاع مضبوط کرنا ہو گا تاکہ آئندہ وطن عزیز میں شدت پسندوں کی نقل و حرکت بند کی جاسکے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی لہر دوبارہ اٹھی ہے اور خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں طالبان دوبارہ منظم ہو رہے ہیں جو خطرے کی گھنٹی ہے۔انہوں نے شدت پسندوں سے ہمدردی ختم کرنے، ان کی فنڈنگ روکنے،نیشنل ایکشن پلان پر من و غن عمل در آمد کرنے کا مطالبہ کیا اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ ایسا نہ کیا گیا تودہشت گردی کی نئی لہر سے قوم دہشت گردی کی پرانی لہر بھول جائینگے۔ میاں افتخار حسین نے احسان اللہ احسان کے آڈیو بیان پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -