میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی قتل  کیس سہولت کار کی ضمانت نامنظور

میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی قتل  کیس سہولت کار کی ضمانت نامنظور

  

پشاور(نیوزرپورٹر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور کی عدالت نے 2018میں کوہاٹ کی رہائشی میڈیکل  کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل کیس میں گرفتار سہولت کار شاہ زیب کی ضمانت پررہائی کی درخواست خارج کردی سرکارکی جانب سے پبلک پراسیکیوٹریونس خان نے درخواست کی پیروی کی استعاثہ کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے کیس میں نامزد مرکزی ملزم مجاہر آفریدی کے ساتھ مل کر میڈیکل طالبہ عاصمہ رانی کو شادی سے انکار پر کوہاٹ کینٹ میں گھر کے سامنے قتل کیا تھا جس کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں مقتولہ نے مرتے وقت مرکزی ملزم مجاہد آفریدی کا نام  لیاتھا پولیس نے واقعے کے بعد مرکزی ملزم اور شاہ زیب سمیت تین ملزمان نامزد کئے اور اُنکے خلاف دہشت گردی اور قتل کا مقدمہ درج کیا اور بعدازاں مقتولہ کے بھائی کی درخواست پر پشاورہائی کورٹ نے مقدمہ سماعت  کے لئے کوہاٹ سے پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل کیا بعدازں ملزم شاہ زیب نے ایف آئی آر سے دہشت گردی کی دفعہ  ختم اور کیس کی سماعت  عام عدالت میں کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دی جو کو سپریم کورٹ نے منظور کرتے ہوئے دہشت گردی کی دفعہ ہٹاکر مقدمہ سماعت کے لئے سیشن کورٹ منتقل کیا جس کے بعد گزشتہ روز ملزم شاہ زیب نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور کی عدالت میں درخواست ضمانت دائرکی اوردوطرفہ دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست خارج کردی واضح رہے کہ ملزم کے دیگر ساتھیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی پشاور کی عدالت میں مقدمہ  زیرسماعت ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -