حکومت زرعی سیکٹر کو سائنسی خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم، فخر امام

حکومت زرعی سیکٹر کو سائنسی خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم، فخر امام

  

کبیروالا(تحصیل رپورٹر) حکومت زرعی شعبے کو سائنسی خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، فصلات کی پیداوار (بقیہ نمبر58صفحہ7پر)

بڑھانے کیلئے کاشتکاروں کو کپاس، گندم، گنے اور مکئی جیسی اہم فصلوں کے معیاری بیج سستے داموں فراہم کئے جائیں گے،حکومت ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے مزید ڈیمز تعمیر کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ان خیالات کا وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک اور تحقیق کے وزیر سید فخر امام نے سید گروپ کے مرکزی رہنما مخدوم سید محمد باقر سلطان گردیزی سے ملاقات کرنے کیلئے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور ملکی معیشت کی ترقی کیلئے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق عوام کیلئے سستی قیمت پر اچھے معیار کی گندم کو یقینی بنارہی ہے۔طلب اور رسد کے فرق کو ختم کرنے کے لیے گندم درآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔گندم کی ذخیرہ اندوزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر سید فخر امام نے کہا کہ ملک میں گندم کی آسانی سے فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے تمام صوبے ایک دوسرے اور وفاقی وزارت کے ساتھ تعاون کر یں۔وفاقی وزارت، نجی شعبے کے درآمد کنندگان کو گندم کی مناسب اور بروقت درآمد کو یقینی بنانے کے لئے سہولیات فراہم کررہی ہے اس موقع پر سیکٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق،عمر حمید خان کا کہنا تھا کہ 25 اگست تک درآمد شدہ گندم کے جہاز پاکستان پہنچ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ1ملین ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے۔اسکے علاوہ ٹی سی پی بھی 1.5 سے 2ملین گندم درآمد کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا نہری نظام خستہ حال ہوگیا ہے اور زرعی ترقی کے لیے اس کی از سر نو بحالی کی ضرورت ہے، ایسے معیاری بیج سے جس سے پودا اگنے کی اسی فیصد صلاحیت ہو،آئندہ برسوں میں کپاس کی گانٹھوں کی پیدوار نو ارب سے چودہ ارب تک بڑھ سکتی ہے، اگر ملک میں کپاس کی پیداوار دوگنی ہوجائے تو پاکستان کو آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے قرضہ حاصل کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔قومی تحفظ خوراک اور تحقیق کے وزیر سید فخر امام نے گندم، کپاس اور چاول کی اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافے کیلئے زرعی شعبے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت چین نے زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے،اس تعاون کے تحت انسانی وسائل کی ترقی پر بھی توجہ دی جائیگی، حکومت نامیاتی کھیتی باڑی کے فروغ کیلئے تحقیقی مرکز کے قیام پر بھی غور کررہی ہے۔

فخر امام

مزید :

ملتان صفحہ آخر -