آزادی کی قدر کرنیوالی قومیں ترقی کی منزلیں حاصل کرتی ہیں، لیاقت بلوچ

آزادی کی قدر کرنیوالی قومیں ترقی کی منزلیں حاصل کرتی ہیں، لیاقت بلوچ

  

ملتان (سپیشل رپورٹر)جماعت اسلامی ملتان کے زیراہتمام ہفتہ یوم آزادی کے سلسلہ میں سیمینار ”قیام پاکستان کا مقصد، اسلامی وخوشحال پاکستان“کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی ضرورت ہے کہ محب وطن سیاسی ورکرز اکٹھے ہوں آزادی ایک نعمت ہے جو قومیں (بقیہ نمبر1صفحہ10پر)

 اس کی قدر کرتی ہیں وہ اپنے مقاصد اور ترقی کی منزلیں حاصل کرتی ہیں جو قومیں اس کی قدر نہیں کرتیں وہ اپنی آزادی خودمختاری گوا بیٹھتی ہیں۔علامہ اقبال نے جس مملکت کا خواب دیکھا اور قائد اعظم محمد علی جناح جو ایک سچے انسان تھے جن کے پیش نظر ایک ماڈرن اسلامی نظام تھا جو جانتے تھے کہ اشتراکیت ڈوب رہی ہے پاکستان ناکام نظاموں کے مقابلہ میں ایک کامیاب ریاست ہوگا۔جس کا آئین قرآن ہوگا، جہاں اقلیتوں کو تحفظ، تمام طبقات کو اہلیت کی بنیاد پر ان کا حق ملے گا۔لیکن ہم بھول گئے زندہ قومیں گزرتے وقت کے ساتھ ماضی کا جائزہ اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کرتے ہیں آج ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں، بات ہوئی آبادی میں اضافہ ہوگا،غذا کی قلت ہوگی لیکن ہمارے مزدوروں کسانوں اور دہقانوں نے اس کا حل نکالا، آئین پاکستان کے ہوتے ہوئے اسے توڑا گیا۔جمہوریت کو فروغ قیادت کے چناؤ اور رائے عامہ کے ذریعے قیادت کے چناؤ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔جبکہ طلبہ مزدور کسان،تاجر، خواتین نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ایک طرف علماء کی قرارداد مقاصد، آئین پاکستان،ختم نبوت اور ملی یکجہتی کونسل کے 17 نکات ہیں جبکہ دوسری طرف سانحہ مشرق پاکستان لیکن اس کے ذمہ دران کی نشاندہی نہ ہوسکے۔آئین کی بالادستی کے باوجود آئین کو توڑا گیا۔صوبوں کو اختیارات کا نہ ملنے، بلدیاتی اداروں اور جمہوری نظام کو مضبوط نہ کرنے کے لیے جاگیردارانہ اور آمرانہ سوچ حائل ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ایک سال کا لاک ڈاؤن ہوچکا کشمیری سرینڈر کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن ہم ایک دن ایک ٹوئٹ اور ایک تقریر کر کے خوش ہیں کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی اسلام آباد کے رویہ سے پریشان اور افسردہ نظر آتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کہ 73 سال سے ہم کشکول لیے پھر رہے ہیں لوگوں نے سمجھا کہ تبدیلی آگئی احتساب کا عمل انتقام کا عمل بن چکا ہے۔ملک میں سود کا نظام رائج ہے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی نقل کی کوشش کی جارہی ہے عدالتی فیصلوں سے پہلے وزیر اعظم کے مشیر نیب کے فیصلے سناتے ہیں۔نائب صدر ہائیکورٹ بار ملتان طاہر قریشی نے کہا کہ قائد اعظمؒ پر برصغیر کے مسلمانوں نے اعتماد کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان حاصل ہوا کیونکہ وہ ایک اچھے اور لگتے انسان تھے آج آئی ایم نے 2022 تک پاکستان کے قرضہ معاف کر دیئے لیکن ملکی معیشت ہمارے سامنے ہیں عوام پریشان اور بیروزگار ہیں جبکہ مدینہ کی ریاست میں پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے مندر بنایا جارہا ہے اسلام رواداری کا مذہب ہے لیکن آپؐنے کعبہ میں پڑے بتوں کو گرایا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شوکت اشفاق گروپ جوائنٹ ایڈیٹر پاکستان نے کہا کہ جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو دین اور دنیا دونوں کی بات کرتی ہے موجودہ بھارت نے جو رویہ بھارت میں رکھا ہوا ہے وہ ایک خوفناک انسانی المیہ ہے۔علیحدہ ریاست کے قیام کا مقصد تھا کہ آزادانہ زندگی بسر کی جائے جس آزادی سے آج ہم بات کررہے ہیں آج انڈیا میں کوئی نہیں کر سکتا اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پاکستان میں ایک توانا آواز جماعت اسلامی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک سال سے زائد عرصہ گزر گیا لاک ڈاؤن ہے ہمیں اس کورونا میں اندازہ ہوا لیکن کشمیر کا لاک ڈاؤن اس سے خوفناک ہے افسوس اس بات پر ہے کہ دنیا،عالمی طاقتیں خاموش ہیں اس پرامت مسلمہ بھی خاموش ہے۔اس موقع پر سینئر رہنمائپاکستان پیپلز پارٹی سابق ڈپٹی میئر بابو نفیس انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کلچر انحطاط کا شکار ہے۔پاکستان کیلئے سیاسی جدوجہ، کوشش کرنے والے سید ابو الاعلی مودودیؒ، ولی خان اور دیگر سیاسی قائدین ہیں لیکن تاج کسی اور کو پہنایا جاتا ہے۔اگر ادارے اپنا کام کریں تو بہتر ہوگا ملک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے سانحہ ساہیوال ہمارے سامنے ہے لیکن مجرم آزاد ہیں۔ ملتان کے شاہ محمود وزیر خارجہ سعودیہ میں کچھ کہتے ہیں واپس آکر کچھ کہتے ہیں۔سابق صوبائی وزیر عبد الوحید آرائیں نے کہا اگر آئین پر عمل ہوتا تو یہ ملک اسلامی بھی ہوتا اور خوشحال بھی ہوتا۔پاکستان کے اس سفر میں مضبوط معیشت اور اسلامی و خوشحال پاکستان کے علاوہ سب نظر آتا ہے۔جس مقصد کے لیے پاکستان حاصل ہوا وہ حاصل نہ ہوا۔بہت سی تحریکیں اٹھیں لیکن ہائی جیک ہوئیں جماعت اسلامی اور اس کی قیادت نے جس تحریک کا آغاز کیا وہ کبھی ہائی جیک نہیں ہوئی ایک غلط کلچر کہ دیندار اور شریف لوگ الیکشن نہیں لڑ سکتے یہ غلط سوچ ہے جس روش نے اسلامی ریاست کی تکمیل کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے پرانے مستریوں نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھی ہے۔

خوشحال پاکستان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -