بچوں کا صحت مندا ور محفوظ مستقبل اولین ترجیح ہے: محمود خان 

بچوں کا صحت مندا ور محفوظ مستقبل اولین ترجیح ہے: محمود خان 

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان نے کہا ہے اپنے بچوں کا صحتمند اورمحفوظ مستقبل ہماری اولین ترجیح ہے یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کی وباء سمیت تمام تر چیلنجز کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا میں اعلیٰ معیار کی موثر انسدادپولیو مہمات کا آغاز کیا گیا ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز انسدادپولیو مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر صوبائی وزیرصحت تیمور سلیم جھگڑا،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر نیازمحمد کوآرڈینیٹر ای او سی عبدالباسط،ڈائریکٹر ای پی آئی داکٹرمحمد سلیم،محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور معاون اداروں بشمول عالمی ادارہ اطفال(یونیسیف)، ڈبلیو ایچ او، بی ایم جی ایف اور این سٹا پ کے نمائندے بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمودخان نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کے باعث انسدادپولیو مہمات میں 4ماہ کے تعطل کے بعد آج پولیو کے خاتمہ کی کوششوں کی بحالی کا آغاز کیا جارہاہے اس سلسلے میں 13اگست سے صوبہ خیبرپختونخوا کے 21ہائی رسک اضلاع میں انسدادپولیو مہم کا آغاز کیاجارہا ہے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس وباء کے باعث ویکسی نیشن سرگرمیوں میں تعطل اور صحت سے متعلق دیگر سرگرمیوں میں رکاوٹ سے ہمارے بچوں کے پولیو اور دیگر امراض سے تحفظ کے لئے ویکسینیشن میں کمی آرہی تھی  اس لئے حکومت نے کورونا وائرس کی وباء کے باعث تعطل کے بعدانسدادپولیو مہمات سمیت دیگر 10بیماریوں سے بچاؤ کے لئے تمام ضروری حفاظتی سرگرمیوں کی بحالی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ویکسین سے بچاؤ والی بیماریوں سے بچوں کے تحفظ کے ساتھ سا تھ اس خطہ میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو بھی روکا جاسکے وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبہ میں انسدادپولیو مہمات کے بہترین معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ 2019کے دوران ماہ اگست تک صوبہ میں وائلڈ پولیو کیسوں کی تعداد47تھی جبکہ آج یہ تعداد 22ہے، گذشتہ سال کے پولیو سے متاثرہ10اضلاع کے مقابلے میں اس سال صوبہ میں پولیو سے متاثرہ اضلاع کی تعداد صرف6ہے گذشتہ سال صوبہ کے ہزارہ ڈویژن میں سی وی ڈی پولیو وائرس ٹائپ ٹو کے2کیس رپورٹ ہوئے تھے لیکن اس سال ہزارہ ڈویژن میں اب تک پولیو کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیااسی طرح سال رواں کے دوران خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہونے والے وائلڈ پولیو کے22کیسوں میں سے 21کیس صوبہ کے جنوبی اضلاع میں سامنے آئے ہیں جبکہ باقی پورے صوبے سے وائلڈپولیوکا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے اور یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ گذشتہ 3ماہ کے دوران ماحولیاتی نمونوں کے 80فیصد پولیو وائرس سے پاک ہیں انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے زیراہتمام صوبہ میں انسدادپولیو کی ان کامیاب کاویشوں کے نتیجہ میں صوبہ کے جنوبی اضلاع جہاں سے اس سال 21کیس سامنے آئے ہیں 2021ء پولیو کے خاتمہ کا سال ہوگا۔ صوبائی وزیرصحت تیمور سلیم جھگڑا نے اس موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اگست کی اس انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے45لاکھ 62ہزارسے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے جس کے لئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی19ہزار 87 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 17ہزار 8سو50 موبائل ٹیمیں اور 1ہزار2سو37 فکسڈٹیمیں شامل ہیں جبکہ اس پولیو مہم کے معیارکوبہترین بنانے اورمہم کے دوران لاجسٹک اورآپریشنل چیلنجز سے نمٹنے کے لئے 4ہزار9سو9ایریا انچارج تعینات کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس انسداد پولیو مہم کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات کو کم سے کم کرنے کے لئے آپریشنل حکمت عملی میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے اورپولیو ٹیموں کو سرجیکل ماسک، ہینڈسینیٹائزراور تمام ضروری حفاظتی اشیاء فراہم کی گئی ہیں جبکہ پولیو ورکرزکو ہدایت کی گیں ہیں کہ ویکسینیشن کے دوران بچوں کو چھونے سے گریز کریں اور والدین یا عزیز و اقارب بچوں کو تھامے رکھیں۔پولیو ٹیموں کے ارکان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے سپروائزروں کو تھرمل گنیں مہیا کی گئی ہیں جو صبح ویکسینیشن پر روانگی سے قبل پولیو ورکرز کا ٹمپریچر چیک کریں گے اور ٹیموں کو بھجوانے سے قبل ان کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ ہمیں قوی امید ہے کہ میڈیا اور مقامی کمیونٹی کے بھرپورتعاون سے یہ انسداد پولیو مہم نہایت کامیاب رہے گی۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاکر پولیو وائرس کے خلاف مہم کا باقادہ آغاز کیا۔

مزید :

صفحہ اول -