دیہی کارکنوں کو روزگار کی فراہمی سے غربت کا خاتمہ

دیہی کارکنوں کو روزگار کی فراہمی سے غربت کا خاتمہ
دیہی کارکنوں کو روزگار کی فراہمی سے غربت کا خاتمہ

  

"رواں برس ماہ جولائی کے اختتام تک دو کروڑ اسی لاکھ افراد دیہی کارکنوں کو روزگار کی فراہمی" 

چین میں غربت کے خاتمے کے خلاف جنگ ایک کلیدی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ چین کی تمام سطح کی حکومتیں اور انتظامیہ عہد حاضر کی سب سے بڑی کامیابی رقم کرنے کے لئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں دیہی علاقوں کے رہائشی غریب مزدورں کو روزگار کی فراہمی اولین ترجیح قرار پائی ہے۔ 

چین کی ریاستی کونسل کے دفتر برائے انسداد غربت و ترقی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس سال کے اختتام تک غربت کے  خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے دیہی کارکنوں کو روزگار کی فراہمی کو بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ چین کے وسطی اور  مغربی صوبوں میں روزگار حاصل کرنے والے دیہی کارکنوں کی تعداد ماہ جولائی کے اختتام تک 28 ملین ہوگئی ہے جو گذشتہ سال کے کل سے زیادہ ہے۔ ان میں سے دس ملین کارکن ایسے ہیں جنہوں نے روزگار کے حصول کے لئے دیگر علاقوں میں ہجرت کی۔ 

اس حوالے سے غربت کی شکار باقی ماندہ  52 کاؤنٹیوں میں بھی صورت حال امید افزا نظر آتی ہے ۔ ریاستی دفتر کے مطابق  ان کاؤنٹیوں کے 2.85 ملین کسانوں کو اپنے آبائی شہروں کے باہر ملازمت مل چکی  ہے جو پچھلے سال کے کل سے 12 فیصد زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد  قومی اوسط سے 7 فیصد زیادہ ہے۔ 

حالیہ رپورٹ نوول کرونا وائرس کی وبا کے بعد بہتر ہونے والی صورت حال کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ رواں برس وبا نے کاروبار زندگی کو معطل کر دیا تھا۔ دیہی کارکنوں کی اکثریت فیکٹریوں ، ریستورانوں اور ہوٹلوں  میں کام کرتی ہے لیکن یہ تمام جگہیں وبا کی وجہ سے بند تھیں۔ وبا نے دیہی آمدنی میں بڑا حصہ فراہم کرنے والے ان کارکنوں کو فارغ رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ تاہم وبا کے بعد صورت حال معمول پر آرہی ہے۔ 

چین کی کمیونسٹ پارٹی کی صد سالہ سالگرہ ، 2021 سے پہلے چین میں دیہی غربت کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات تیز کر دئیے گئے ہیں۔ حالیہ کوششوں سے دیہی غربت کو روکنے میں بہت بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔ 2012 کے آخر سے لے کر  2019 تک ، چین میں 90 ملین سے زیادہ دیہی غریب لوگوں کو انتہائی غربت سے نجات دلائی گئی۔ 

ملک میں روزگار کے چینلز کی توسیع ، مقامی ملازمت کے فروغ ،بلاجواز پابندیوں کے خاتمے اور پالیسی سروس کی مضبوطی سمیت مختلف اعتبار سے نئے اقدامات متعارف کروائے گئے ہیں ، تاکہ ملازمت کے حصول کے لئے تارکین وطن کارکنوں اور لچکدار روزگار سےمتعلق معاونت فراہم کی جا سکے۔ اس حوالے سے تارکین وطن کے روزگار کے لیے چینلز کو وسیع کیا جائے گا ، روزگار کے استحکام اور توسیع پر یکساں توجہ دی جائے گی اور روزگار کے متلاشی تارکین وطن کارکنوں کی مدد کی جائے گی۔ اسی طرح مقامی روزگار کو فروغ دیا جائے گا ، صنعتی ترقی ، منصوبوں کی تعمیر اور کاروبار شروع کرنے کے لئے اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کے تحت روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ روزگار کی مساوی سروسز اور حقوق کے تحفظ کو مضبوط بناتے ہوئے روزگار سروسز ، تعلیم و تربیت ، حقوق کےتحفظ اور زندگی کی سلامتی میں مدد فراہم کی جائے گی۔ غریب کارکنوں کے مستحکم روزگار کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا ، بیرونی مقامات پر مستحکم روزگار، مقامی علاقے میں وسیع روزگار اور روزگار کے حوالے سے اعلیٰ معیارات کے تحفظ کے اہداف کو آگے بڑھایا جائے گا۔ 

رواں برس کے آغاز میں چین کی تمام سطح کی حکومتوں اور انتظامیہ نے اپنی تمام تر باقی رہ جانے والی 52 کاؤنٹیوں پر مرکوز کر دی۔ یہ کاؤنٹیاں ایسی ہیں جہاں اب بھی غربت موجو د ہے۔ لہذا یہاں کے رہائشیوں کو لازمی تعلیم ، صحت کی دیکھ بھال ، محفوظ رہائش اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئےمزید فنڈز اور افرادی قوت لگا دی گئی ہے۔ 

انسداد غربت کے دفتر کے مطابق ، اب ان کاؤنٹیوں میں رہنے والے تمام باشندوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے ، اور تقریبا 1.2 ملین کسانوں کو نئے تعمیرشدہ مکانات میں منتقل کردیا گیا ہے جو  ان کے کام کی جگہوں اور دیگر عوامی سہولیات والے مقامات جیسے سکول اور ہسپتا ل کے قریب واقع ہیں۔ 

 ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -