" یہ معاملہ اٹھانے پر میرا شو بند، نوکری چھینی گئی اور آج ۔۔۔ " رؤف کلاسرا اہم ترین کیس کے فیصلے پر بول پڑے

" یہ معاملہ اٹھانے پر میرا شو بند، نوکری چھینی گئی اور آج ۔۔۔ " رؤف کلاسرا اہم ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ جی آئی ڈی سی وہ کیس ہے جس کی وجہ سے ان کی اور عامر متین کی نوکری چھینی گئی، حکومت نے ان کا شو بند کروایا اور چینلز کو مجبور کیا کہ انہیں نوکری نہ دیں۔

رؤف کلاسرا نے ٹوئٹر پر کہا کہ آج سپریم کورٹ نے جی آئی ڈی سی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کمپنیوں کو حکم دیا کہ وہ قوم کے 417 ارب واپس کریں۔ یہ وہ سکینڈل تھا جو بریک اور فالو اپ کرنے کے جرم میں میرا اور عامر متین کا ٹی شو بند کرایا گیا۔ ہماری نوکریاں چھینی گئیں۔ ہمارے اوپر چینلز کے دروازے بند کرائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ جی آئی ڈی سی کیس اٹھانے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے ٹی وی چینلز پر دبائو ڈالا گیا کہ عامر متین اور رؤف کلاسرا کو نوکری یا شو نہیں دینا۔ سوشل میڈیا پر حکومت کے حامی سوشل میڈیا سیلز سے ہمیں گالیاں دلوائیں، مذاق اڑایا۔

رؤف کلاسرا کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور کابینہ ان کمپنیوں کو 200 ارب معاف کر چکے تھے جس میں دوست بھی شامل تھے۔ "عامر متین ، میں، ارشد شریف نے اس ایشو کو مسلسل اٹھایا۔حکومت مجبور ہوئی وہ آرڈی ننس واپس لے۔ حکومت نے ہمیں پوری سزا بھی دلوائی۔خیر ہے ہماری نوکریاں گئیں، بیروزگار ہوئے شوز بند اور کریئر تباہ ہوئے لیکن خوشی ہے کہ لٹیروں سے 417ارب واپس قوم کو ملے۔ خدا کا شکر ہے اس نے عزت رکھ لی۔"

خیال رہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کی مد میں دسمبر 2018 تک مختلف کمپنیوں کو 417 ارب روپے کی رقم واجب الادا تھی جس میں کھاد بنانے والی 6 کمپنیوں کے ذمہ 138 ارب روپے بنتے ہیں۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ذمے 42 ارب روپے، آئی پی پیپز کے 7 ارب روپے، کراچی الیکٹرک کے ذمہ 57 ارب روپے، سی این جی سیکٹر کے ذمے 80 ارب روپے جبکہ جنرل انڈسٹری کے ذمے چار ارب روپے واجب الادا ہیں۔

سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کمپنیوں کے ذمے 78 ارب روپے جبکہ دیگر چھوٹی کمپنیوں کے ذمے بھی اربوں روپے واجب الادا ہیں۔ حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس میں سے آدھی رقم معاف کردی تھی لیکن شدید تنقید کے بعد آرڈیننس واپس لے لیا گیا تھا۔

جمعرات کے روز سپریم کورٹ نے جی آئی ڈی سی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ حکومت کو پیسے واپس کرے، اس حوالے سے معزز عدالت نے 24 قسطوں میں رقم وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -