شاہ محمود قریشی کاغیر ذمہ دارانہ بیان اور پاک سعودی تاریخی تعلقات

 شاہ محمود قریشی کاغیر ذمہ دارانہ بیان اور پاک سعودی تاریخی تعلقات
 شاہ محمود قریشی کاغیر ذمہ دارانہ بیان اور پاک سعودی تاریخی تعلقات

  

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کے بعد یہ سمجھا جارہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات پہلی بار پست ترین سطح پر چلے گئے ہیں اور شاید دونوں ملکوں کا بھائی چارہ داؤ پر لگ چکا ہے لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے یہ کہہ کر کے""پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات پر سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں،پاکستانیوں کے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں،سعودی عرب سے بہترین تعلقات ہیں اور رہیں گے اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، مسلم اُمہ میں سعودی عرب کی مرکزی حیثیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور پاکستان اور پاکستانی عوام کو سعودی عرب سے اچھے تعلقات پر فخر ہے"" ملک میں پھیلے ہوئے بہت سارے خدشات کو یکسر ہی ختم کردیاہے تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیر خارجہ کے بیان کی مکمل تحقیقات کرے اور دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان دراڑ ڈالنے والی شخصیات کو لگام ڈالے۔

دنیا جانتی ہے کہ شاہ محمود قریشی ایک بے لگام اور سیاسی خانہ بدوش ہیں جنہیں خود کو  صرف مزاروں پر بال کاٹنے اور نذرانےاکٹھے کرنے  تک اپنے آپ کو  محدود رکھنا چاہیئے،بہت سارے لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ وزارت خارجہ جیسا حساس ادارہ چلانا شاہ محمود قریشی جیسے غیر ذمہ دار" گدی نشین" کے بس کی بات نہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب بارے غیر ذمہ دارانہ بیان سے پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ دشمنوں کو نہ صرف ہنسنے کا جواز فراہم ہوا ہے بلکہ وہ اس بیان کی آڑ میں دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا کرنے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔

تحقیقات ہونی چاہئیں کہ شاہ محمود قریشی کا ملکی مفادات کے منافی اور پاکستان کو تنہا کرنے والا بیان کس عالمی سازش کا حصہ ہے اور اس بیان کے پیچھے کون سے خفیہ ہاتھ کارفرما ہیں؟اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست ہی نہیں بلکہ ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے والا حقیقی بھائی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس حوالے سے پیدا ہونے والی تمام غلط فہمیوں کو نہ صرف دور کرنا چائیے بلکہ فوری طور پر آرمی چیف کے ساتھ دورہ سعودی عرب پر بھی ساتھ جانا چاہئے تاکہ غلط فہمیوں کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی ان کا قلع قمع کیا جا سکے۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مکہ اور مدینہ(ارضِ حرمین الشریفین) کی وجہ سے پاکستان کے عوام سعودی عرب کے ساتھ ذہنی، قلبی اور روحانی طور پر جڑے ہوئے ہیں،ارضِ حرمین کی حفاظت اور اس کے تقدس کو برقراررکھنا ہر مسلمان  اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے،سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب واحد اسلامی ملک ہے جہاں اسلامی حدود و قیود اور شریعت مطہرہ کا عملی نفاذ ہے اور یہی بات اسلام دشمن قوتوں کی آنکھوں میں مسلسل کھٹکھتی رہتی ہے۔رہی بات پاک سعودی تاریخی تعلقات کی تو ہر دور میں پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات برادرانہ اور خوشگوار رہے ہیں،جب بھی پاکستان پر کوئی مشکل وقت آیا تو سعودی عرب نے پاکستان کی مالی اعانت کی اور اسے دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

پاکستان کے 26 لاکھ شہری سعودی عرب میں ملازمت اور تجارت کر رہے ہیں اور زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں،پاکستان کے لیے ترسیلات کے اعتبار سے سعودی عرب سب سے بڑا ملک ہے،سعودی عرب سے پاکستانیوں کی جانب سے بھیجا جانے والایہ زرمبادلہ پاکستان کے قومی بجٹ کا اہم حصہ ہوتا ہے،سال 2017-18 میں پاکستانیوں نے 4.8 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجی تھیں، جو کہ کل ترسیلاتِ زرکا 29 فیصد حصہ تھا۔یہ بات دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب  کی مالی معاونت کے بغیر پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا تھا،1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو سعودی عرب نے ایک سال تک پاکستان کو 50 ہزار بیرل یومیہ تیل ادھار پر فراہم کیا،پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعداس وقت ساری مغربی دنیا پاکستان کی مخالف ہوگئی تھی لیکن یہ سعودی عرب ہی تھا جو سفارتی میدان میں پاکستان کیساتھ ڈٹ کر کھڑا رہا اور ساتھ ہی ساتھ مالی امداد بھی جاری رکھی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔دونوں برادر اسلامی ملک  دفاع، معیشت اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

کیا پاکستانی عوام اس بات کا ادراک نہیں رکھتے کہ سعودی عرب نے 1965 اور1971 کی جنگوں کے علاوہ سابق سوویت یونین کی افغانستان میں جارحیت کے وقت بھی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا تھا؟سعودی عرب کا شماران چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی بلکہ پاک بھارت جنگوں میں پاکستان کی باقاعدہ مدد بھی کی ہے۔شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب میں پاکستان کو خطیر مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا جبکہ 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب میں بھی سعودی عرب کی جانب سے خطیر امداد بھجوائی گئی، براہ راست مالی امداد کے علاوہ سعودی عرب نے پاکستان میں انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم سمیت فلاحی شعبوں میں کئی منصوبے مکمل کئے اور اب بھی درجنوں منصوبے ایسے ہیں جو سعودی حکومت پاکستانی عوام کی خوشحالی کے لئے پورے کرنے میں مصروف عمل ہے۔ موجودہ دور حکومت میں وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سعودی حکومت نے پاکستانی سٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر جمع کرائے، تین سال تک ادھار تیل فراہم کرنے کا معاہدہ کیا،اس وقت پاکستان میں سعودی عرب کی25کمپنیاں پاکستان میں کام کررہی ہیں،دوسری جانب 350 پاکستانی سرمایہ کار سعودی جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر ہیں۔

ہمیں اس بات کو اصولی طور پر سمجھنا ہو گا کہ مسلم امہ کی تقسیم ہم سب کو کمزور کر رہی ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے لیکن پاکستان کو  دونوں ملکوں میں تعلقات کو مزید گہرا بنانے کے لیے سرکاری اور عوامی سطح پر مزید تندہی کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔شاہ محمود قریشی کے غیر ذمہ دارانہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملک دشمن قوتوں کی ایما پر ایک طوفان برپا ہے،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں سعودی عرب کے ازلی مخالف اور ایران نواز کالم نگار اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں،بعض نادان دوست دیدہ دانستہ سعودی عرب مخالف بیان بازی سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کر رہے ہیں،اس وقت ضرورت ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں،سعودی عرب میں اثر رسوخ رکھنے والی پاکستان کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیات کو متحرک کیا جائے اور دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں اور غلط فہمیوں کا تدارک کرتے ہوئے دونوں برادر اسلامی ملکوں کے مشترکہ دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کی سعی کی جائے،یہ وقت کی آواز بھی ہے اور پاکستان کی ضرورت بھی۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -