انسانیت کے لیے" کوڈ ریڈ"

انسانیت کے لیے" کوڈ ریڈ"
انسانیت کے لیے

  

 ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الحکومتی پینل نے جامع اعداد و شمار کی روشنی میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ پیش کی ہے جس نے انسانیت کی بقا کے حوالے سے خطرے کی ایک گھنٹی بجائی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیغام "انسانیت کے لیے ایک کوڈ ریڈ" سے کم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خطرے کی گھنٹیاں گونج رہی ہیں اور موجود شواہد ناقابل تردید ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ماحولیاتی ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں نسل انسانی کو درپیش تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہو۔ لیکن حالیہ رپورٹ کی روشنی میں جو " انتباہ" جاری کیا گیا ہے وہ  ہنگامی اور موثر اقدامات کا متقاضی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو روکنے اور اسے 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کے لیے خطرناک حد تک پیچھے ہے ، اس کا نتیجہ عالمی حدت میں شدت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اس غیر جانبدارانہ رپورٹ کو اب تک کی سب سے جامع کاوش قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس میں موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سینکڑوں سابقہ رپورٹس سے بھی مدد لی گئی ہے  ۔

رپورٹ کی تیاری میں فزیکل سائنس ،موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ، موافقت و خامیوں اور تخفیف جیسے شعبہ جات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق  دنیا کے تمام خطوں کو آنے والی دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلی کی شدید آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا اور گرم موسم میں مزید شدت آئے گی ۔رپورٹ کے مطابق سرد موسم کا دورانیہ مختصر ہو جائے گا اورشدید گرم موسم مزید طویل ہوتا جائے گا جس سے زراعت اور انسانی صحت کو بڑے چیلنجز لاحق ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی  "آبی سائیکل" میں تیزی لائے گی ، مزید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا باعث بنے گی ، بلکہ کئی علاقوں میں شدید خشک سالی کا باعث ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ 21 ویں صدی کے دوران دنیا بھر کے ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح بلند ہوتی رہے گی ، جس کی وجہ سے شدید ساحلی سیلاب اور نشیبی علاقوں میں ساحلی کٹاؤ جیسے مسائل درپیش ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق آئندہ چند دہائیوں میں ، ایشیا میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہے گا ۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، گلوبل وارمنگ کے رجحان کو نمایاں طور پر سست کر سکتی ہے۔ دستاویز میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لیے کچھ نہ کیا گیاتو تباہی نسل انسانی کی منتظر ہے۔

حقائق کے تناظر میں کووڈ۔19کی وبائی صورتحال نے دنیا کی توجہ کافی حد تک موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے ہٹا دی ہے ۔ وبا سے نمٹتے ہوئے سماجی اور معاشی نقصانات کو پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں مگر دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے کے لیے بھی دوبارہ وسائل کو یکجا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا "ریڈ کوڈ"اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے بیداری کی ایک بروقت کال ہے کہ کوئی بھی علاقہ موسمیاتی تبدیلی کی آزمائش سے محفوظ نہیں ہے۔ حالیہ عرصے میں یہ دیکھا گیا کہ امریکہ سمیت دیگر کئی ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جس میں جنگلات میں لگنے والی آگ اور سیلاب کے بڑھتے ہوئے واقعات شامل ہیں۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا کی ہی بات کی جائے تو یہاں خشک سالی اور جنگلات میں بھڑکتی آگ کی موجودہ شدت ، ماضی میں کبھی نہیں دیکھی گئی ہے ۔ اس سےنہ صرف کسانوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے بلکہ علاقے میں غذائی تحفظ کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ پانی کی ہنگامی صورتحال کے علاوہ غیر معمولی خشک سالی نے چراگاہوں کو بھی متاثر کیا ہے ۔یہ ایک ایسا رجحان ہے جو ماضی میں بالخصوص غریب افریقی ممالک میں دیکھا جاتا تھا مگر آج موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے امیر غریب ممالک سبھی متاثر ہیں۔ اس صورتحال میں کاربن اخراج میں کمی نمایاں اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

یہ عالمی برادری کے لیے ایک مثالی موقع ہوگا کہ وہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے ٹھوس منصوبوں کے ساتھ سامنے آئے۔اس ضمن میں چین اورامریکہ جیسے بڑے ممالک کا کردار نہایت اہم ہے۔چین گرین ٹیکنالوجی کے لیے پر عزم ہے اور ابھی حال ہی میں چین نے بیجنگ 2022 اولمپک اور پیرالمپک سرمائی کھیلوں کے دوران "گرین اولمپکس" کی میزبانی کا وعدہ کیا ہے۔ ان کھیلوں کے دوران شفاف اور قابل تجدید توانائی کا استعمال کیا جائے گا۔درحقیقت ، اولمپکس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ تمام مقامات کو مکمل طور پر گرین توانائی فراہم کی جائے گی۔ایک بڑے صنعتی ملک کے طور پر بھی چین نے 2060تک کاربن نیوٹرل کا ہدف طے کرتے ہوئے دیگر دنیا کے لیے مثال قائم کی ہے۔موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ انسانیت کی بقا کے لیے ہر ملک اپنا کردار ادا کرے اور  موسمیاتی تبدیلی کے شدید اور کٹھن چیلنج سے ایک ساتھ مل کر نبردآزما ہوا جائے۔انسانیت اور فطرت کی ہم آہنگ ترقی ہی "کوڈ ریڈ" کا واحد درست جواب ہے۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -