قائد اعظم چاہتے تھے کسی مسلمان کیساتھ ظلم و نا انصافی نہ ہو

قائد اعظم چاہتے تھے کسی مسلمان کیساتھ ظلم و نا انصافی نہ ہو
قائد اعظم چاہتے تھے کسی مسلمان کیساتھ ظلم و نا انصافی نہ ہو

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط: 13 

جمنا کے کنارے دہلی میں ایک عزیز کے گھر ٹھہرنے کا اتفاق ہوا وہ فارن سروس میں ایک آفیسر تھے۔ ان کے گھر کا نقشہ ایک کمرہ ایک برآمدہ ،ایک چھوٹا سا کچن اور دو انڈین ٹائپ بیت الخلا،واش بیسن تھا۔ ہم مسلمان ٹھہرے ۔سونے کےلئے یا تو وہ برآمدہ میں سوئیں یا پھر ہم سوتے۔ عام سی چارپائیاں اور ایک لکڑی کی کرسی ان کا اثاثہ تھا۔ کوشش ان کی یہی ہوتی کہ کسی نہ کسی طریقہ سے مالی بچت ہو، بجلی کا بلب بھی زیادہ روشن نہیں کرتے تاکہ زیادہ بل نہ آئے۔ان کا ایک بیٹا تھا جس کا نام جلال تھا۔ اس نے انجینئرنگ کا ڈپلومہ کر رکھا تھا۔یہ بیٹا انجینئرہو گیا۔ دریائے جمنا کے قریب مسلمانوں نے ایک آبادی قائم کرلی ہے۔ اس جگہ دریا کاحصہ خشک ہو گیا۔ وہا ںپر لوگ مکان بنا رہے ہیں۔ ان کا لڑکا بھی وہیں مکان بنا رہا تھا۔ میں اس کامکان دیکھنے چلا گیا۔ مکان پانچ دس مرلے کا ہوگا۔اس نے دروازہ کھلتے ہی دیوار بنائی ہوئی تھی۔ میں نے کہا کہ بیٹا جلال یہ دیوار ذرا پیچھے بنوانی تھی۔ یہاں گاڑی کھڑی ہونے کی جگہ بن جاتی۔ جلال نے تعجب سے کہا کہ انکل ہمارے پاس کار کہاں ہو گی۔ غورفرمائیں ہندوستان کا پڑھا لکھا لڑکا مسلمان اقتصادی پستی کی وجہ سے کار خریدنے کا تصور نہیں کرسکتا۔گاڑی کا تصور ان کے ذہن سے غائب ہے۔ اس کرۂ ارض پاکستان جس میں ہم رہتے ہیں۔لوگ مکان بنانے سے پہلے گاڑی کھڑی کرنے کا سوچتے ہیں۔

 میںشام کو دہلی کی مارکیٹ میں گیا۔مسلمان دکانداروں سے ملاقات ہوئی۔ان کا کاروبار، تعلیم و تربیت، صنعت و ز راعت سب کچھ ان کی نیم خاموشی اور مخمور نگاہوں سے مجھ پر عیاں ہوگیا اور انہوں نے کہا کہ یہ سب باتیں 1947ءکے بعد مسلمانوں کےلئے ختم ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے ان تمام چیزوں کا اظہار کیا جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔ لیکن اپنے بچوںکی مشکلات اپنی جان و مال کی حفاظت اپنے مذہب کی حفاظت کے بارے میں وہ ایک اجنبی آدمی کو زیادہ نہیں بتاسکتے۔ بہرحال انہوں نے کہا ہم کام چلا رہے ہیں۔ زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن دشواریاں قدم قدم پر ہیں۔ 

 دہلی ہی میں مولانا ابوالکلام آزاد میڈیکل کالج گیا۔ میں نے ان کی تصویر کالج کے دفتر میں نہ دیکھی جو ضروری تھی۔ وہاں پر تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹروں سے ملاقات ہوئی۔ ان کا کام کرنے کا ڈھنگ دیکھا۔ ان کی تعلیم میں دلچسپی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا ۔مجھے یہ تعجب تھا کہ کوئی مسلمان لڑکا ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرتے نہ ملا اور نہ ہی کوئی مسلمان پروفیسر میڈیکل کالج میں تھا۔

 جن سے میرا تعارف کرایا گیا وہ ہندو اور سکھ تھے لہٰذا فنی اور دیگر علوم کی تعلیم یا یونیورسٹی سطح پر مسلمان تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ میں نے سائنس وٹیکنالوجی علم کیمیا کے میدان کا بھی جائزہ لیایہی حال ہے۔ ڈاکٹر ذاکر جو بھارت کے صدر رہ چکے ہیں، ان کی یونیورسٹی میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پر بھی مایوسی ہوئی۔حالانکہ میں ان دونوں افراد کے سیاسی کردار سے بڑی مخالفت رکھتا ہوں۔ ان دونوں افراد نے مسلمانوں کی آزادی کے راستے روکے اور مسلمانوں کو سیاسی میدان میں پیچھے رکھا۔اب دیکھیے پاکستان میں تمام شعبہ ہائے میں تحقیق (ریسرچ) ہو رہی ہے۔ پاکستان کو دنیا کی ہر چیزمیسّرہے۔تعلیمی میدان میں فنی تعلیم، میڈیکل کی تعلیم اور دیگر شعبوں میں ریسرچ و تحقیق ہو رہی ہے۔ساتھ ساتھ ایٹمی توانائی پر تحقیق ہو رہی ہے۔ بجلی پیدا ہورہی ہے دیگر سائنسی علوم آئسی ٹوپ کے مراکز بھی قائم ہو رہے ہیں۔پاکستان صنعتی میدان میں بھی کسی ملک سے پیچھے نہیں ہے، زراعت میں بھی پاکستان کی پیداوار زیادہ ہے۔

 ہمیں دہلی کے پاس سہارنپور جانے کا اتفاق ہوا۔ہم وہاں پہنچے سائیکل رکشہ والوں نے گھیر لیا۔مسلمان چھوٹا موٹا کام کاج کرتے ہوئے نظر آئے۔ کوئی لکڑی کا کام کررہا ہے، سبزی بیچ رہا ہے۔ سائیکل مرمت کاکام کررہا ہے۔پان بیڑی کی دکان ہے۔گھریلو صنعت کاچھوٹا سا کام اور سائیکل رکشہ چلا کر اپنا پیٹ پال رہا ہے۔ یہاں ہم نے مسلمانوں کےلئے ایک ہائی سکول دیکھا تھا جو بعد میں کالج بن گیا۔ وہاں گئے پرنسپل سے ملاقات ہوئی، میں نے پوچھا کہ یہاں کتنے مسلمان بچے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ مسلمان بچے چھ سات کلاس پڑھ سکتے ہیں۔ آٹھ نو میں تو ایک دو بچے رہ جاتے ہیں اور دسویں جماعت تک صرف ایک رہ جاتا ہے۔اس اسلامیہ کالج میں ہندو لڑکے پڑھتے ہیں۔ تصویریں ساری ہندو رہنماﺅں کی تھیں۔ مسلمانوں کا بھارتی سماج میں کوئی وقار نہیں۔ سیاسی وجود نہیں، تحفظ نہیں، اقتصادی پوزیشن نہایت کمزور ہے۔ مسلمانوں کے بچے اکثر مزدوری کرتے ہیں، کم آمدنی والے لوگ ہیں۔ مسلمانوں کے بچے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے ۔ میں نے پوچھا کہ ان کے احساسات کیاہیں؟انہوں نے بتایا احساسات کچھ عرصے کےلئے ہوتے ہیں۔ وقت گذرنے کےساتھ ساتھ احساسات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔اس وقت انکے ہاں نہ کوئی رضاکار تنظیمیں ،انجمنیں ہیں اور نہ کوئی فلاحی مرکز جو نوخیز بچوں کو کوئی پیشہ وارانہ تعلیم یا دوسری تعلیم کےلئے مدد کریں یا پھر ان میں کوئی شعور پیدا کریں۔ اب وہا ں پر یہی شعور ہے کہ مردوزن اور بچے نے کام کرنا ہے، مزدوری کرنی ہے اور روزی کمانی ہے۔ اقتصادی ناہمواری سے ہند کے مسلمانوں میں سماجی تحفظ ختم ہوتا جارہا ہے۔مسلمانوں کےلئے یہ ایک اور بہت بڑی ذلت ہے کہ مسلمان والدین خود اپنی بچیوں کی شادی ہندوﺅں کے ساتھ کررہے ہیں تاکہ بچیاںاچھی زندگی بسر کر سکیں اورانہیں سماج میں تحفظ میسّر آسکے۔ مسلمان اس وقت مجموعی طور پر پریشان حال ہیں اور نجات کاکوئی ذریعہ ان کو نظر نہیں آتا۔

 قائداعظمؒ نے اس بات کی نشاندہی کی تھی اگر مسلمانوں کو علیٰحدہ ملک نہ ملا تو متحدہ ہندوستان میں ہندو ہمیشہ مسلمانوں کو دبا کر رکھیں گے اور مسلمان مغلوب ہو جائیں گے۔ ہندو ساہوکاروں نے مسلمانوں کو قرضے دلا کر غلام بنا لیا ہے۔ مسلمان مقروض ہیں۔ ان کی جان و مال کی حالت ناگفتہ بہہ ہے۔ مجھے خود بھی یاد ہے کہ1947ءسے قبل ہندو ساہوکار تجارت کا لین دین کرتے تھے۔ہمارے بزرگ جو سادہ لوح تھے، کھیتی باڑی کرتے تھے۔ ساہوکار شادی بیاہ پر یا کسی خوشی کے موقع پر ان کو قرض لینے کی تجویز دیتے اور قرض کی رقم ہندو بنیا یامہاجن ایک کونے پر لکھ لیتا تھا اور نیچے مسلمان کے انگوٹھے کانشان لگوا لیتا حساب کتاب اس طرح ہوتا تھا کہ کسی کو سمجھ نہیں آتی۔ اس حساب کو نہ کوئی دوسرا آدمی سمجھ سکتا تھا۔ شرح سود اتنی زیادہ تھی کہ مکان یا زمین سے بھی ان کو ہاتھ دھونا پڑتا تھا۔ قرض کا ایسا پھندا تھا کہ مسلمان ساری زندگی بنیا، ساہوکار اور مہاجن کے چال سے چھٹکارا نہیں پاسکتا تھا۔ ہمارے خود ایک رشتہ دار نے ایک دراتی کے عوض بھینس دے کر چھٹکارا حاصل کیا ۔ ان کا طریقہ کار یہی تھا کہ پہلے حوصلے دیتے پھر قرضہ دیتے اور پھر بھاری سود کے عوض اور پرانے قرضوں کے عوض مسلمان کی زمین یا گھر بار سامان سمیت لیتے ہیں۔بے شمار مسلمان کسان اپنی زمینوں سے بے دخل کیے گئے۔

 قائداعظمؒ اسی ساہوکار بنیا کے خدشہ کے تحت متحدہ ہندوستان کے خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان کا اپنا ملک ہو، جس میں ساہو کار بنیا قرضے دینے والے نہ ہوں۔ ان کے ساتھ ظلم و ناانصافی نہ ہو اور جس طرح ہندومسلمانوں کی زمینیں ،جائیدادیں اپنے پنجوں میں لے لیتے تھے۔ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ یہ ہندﺅوں کے وہ تیر تھے جس نے مسلمانوں کے بدن میں اقلیت ہونے کا زہر پیدا کیا۔ جس سے وہ کمزور ہوتے گئے ۔ ہندو بہت میسناہے اور وہ مسلمان کی جائیداد،زمینیں قرق کردینا چاہتا تھا۔ یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور دوسرے رفقاءکا احسان ہے کہ جنہوں نے علیٰحدہ وطن کے لیے جدوجہد کی اور ہندﺅوں کی مخالفت کی جس سے مسلمانوں کے لیے ایک علیٰحدہ وطن پاکستان وجود میں آیا۔ جہاں وہ آزادی کے ساتھ سب کچھ کرسکتے ہیں۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -