ملتان، تلمبہ، اُچ شریف، پاکپتن، دیپالپور اور دہلی ان سب شہروں میں امیر تیمور کا مقابلہ مسلمانوں سے ہی ہوا

 ملتان، تلمبہ، اُچ شریف، پاکپتن، دیپالپور اور دہلی ان سب شہروں میں امیر ...
 ملتان، تلمبہ، اُچ شریف، پاکپتن، دیپالپور اور دہلی ان سب شہروں میں امیر تیمور کا مقابلہ مسلمانوں سے ہی ہوا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:11 

امیر تیمور اور فتح ہندوستان:

امیر تیمور کی ہندوستان پر حملے کی اصل وجہ یہاں کی دولت لوٹنا تھی۔ دہلی کے تخت پر قابض تغلق خاندان نااہل اور کمزور تھا اس کے نتیجے میں ہندوستان طوائف الملوکی کا شکار ہو چکا تھا۔ ان حالات سے فائدہ اٹھانے کی خاطر، امیر تیمور نے ہندوستان پر جو اپنی زراعت اور معاشی خوشحالی کی بنا ءپر سونے کی چڑیا سمجھی جاتی تھی حملہ کا فیصلہ کیا۔ امیر تیمور نے اپنی خودنوشت” تزک تیموری“ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان پر حملہ کرنے سے پیشتر اس نے اس ملک کی مالی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔ اور جب اسے یقین ہو گیا کہ حملے سے اسے بے شمار مال غنیمت حاصل ہو گا تبھی اس نے حملے کا ارادہ کیا۔ 

جن شہروں کو امیرتیمور اور اس سے پہلے اس کے بیٹے پیر محمد کی افواج نے اپنے پاﺅں تلے روندا، ان سب کے حکمران مسلمان تھے۔ ملتان، تلمبہ، اُچ شریف، پاکپتن، دیپالپور اور دہلی ان سب شہروں میں اس کا مقابلہ مسلمانوں سے ہی ہوا۔ پنجاب کا گورنر شہاب الدین مبارک خان تھا اور دہلی کے تخت پر تغلق حکمران تخت نشین تھا۔ ان شہروں کی آبادی جسے تیمور نے تہہ تیغ کیا بیشتر مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ دہلی جہاں 7 دن تک قتل عام کا حکم دیا گیا مسلمان حکمرانوں کا پایہ¿ تخت ہونے کی وجہ سے مسلمانوں سے بھری پڑی تھی۔ تیمور کا اصل مقصد کچھ اور تھا وگرنہ وہ مسلمانوں کے شہر لوٹ کر واپس نہ جاتا بلکہ جنوبی ہند کا رخ کرتا جو غیر مسلموں کا گڑھ تھا۔ وہ مدراس ، مہاراشٹر اور آج کے اترپردیش اور بہار کو فتح کرتا جہاں اکثر آبادی غیر مسلم تھی۔ امیر تیمور نے تزک تیموری میں لکھا ہے کہ اس نے ہندوستان پر حملہ کرنے سے پیشتر چین فتح کرنے کے بارے میں بھی سوچا تھا لیکن اس نے چین کا رخ اس لیے نہیں کیا کہ چینی شہنشاہ طاقتور تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ امیرتیمور سمیت تمام وسط ایشیائی حملہ آوروں نے غیرمسلم مگر طاقتور ممالک کو چھوڑ کر ہمیشہ ان ملکوں کے خلاف اعلان جہاد کیا جہاں کمزور مسلمان حکمران بر سر اقتدار تھے۔

ہندوستان آنے سے پہلے امیر تیمور ترکوں سے خونخوار جنگیں لڑ چکا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے ترک تو خالص مسلمان تھے۔ سلطان بایزید یلدرم جس کی سلطنت کو تیمور نے تہس نہس کیا تھا خود آدھا یورپ فتح کر چکا تھا۔ بایزید یلدرم کو تیمور نے شکست دے کر قید میں ڈالا اور قید ہی میں سلطان کا انتقال ہوا۔ 

 اس خطے کی تاریخ شاہد ہے کہ وحشی حملہ آوروں اور ظالم آمروں نے اپنی مکروہ اغراض کی پردہ پوشی کے لیے مختلف ادوار میں مذہب کے نام کو بار بار استعمال کیا ہے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -