ہم کسی خاص جذبے، خیال یا تحریک کے ماتحت عمل کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں

 ہم کسی خاص جذبے، خیال یا تحریک کے ماتحت عمل کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں
 ہم کسی خاص جذبے، خیال یا تحریک کے ماتحت عمل کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 43

 ارسطو نے شعر و شاعری(بالخصوص حزنیہ) کی باقاعدہ تجزیاتی بحث کا آغاز حزنیہ کی تعریف سے کیا ہے۔ ہم اس تعریف کو ذیل میں درج کرکے اس کے اجزاءکا مطالعہ کرتے ہیں۔”حزنیہ ایک سنجیدہ اور دقیع عمل کی نقل ہے اور ایک مناسب طوالت رکھنے کے باعث اپنی ذات میں مکمل ہوتا ہے۔ اس میں مزین اور حظ بخش زبان استعمال کی جاتی ہے۔ ان حظ بخش پہلوﺅں کو مختلف حصوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی ہیئت بیانیہ نہیں بلکہ ڈرامائی ہوتی ہے۔ اس میں ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو خوف و دہشت اور دردمندی کے ہیجانات کو تحریک دے کر ان کا (اور ایسے دیگر ہیجانات کا) انخلا کرتے ہیں۔“

 بادی النظر میں اس تعریف کے معانی زیادہ عمیق معلوم نہیں ہوتے۔ البتہ بہت سا ابہام نظر آتا ہے۔ تعریف کے اجزاءکا صحیح افہام اور حزنیہ کا پورا تاثر انہیں ارسطو کی تشریحات اور دیگر توضیحی افکار کے سیاق و سباق میں دیکھنے سے ممکن ہے۔ بالخصوص ارسطو کے طریقِ فکر کو سمجھنے اور پیش نظر رکھنے سے یہ ابہام دور ہو جاتا ہے۔

 سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ”سنجیدہ و دقیع“ سے کیا مراد ہے۔ ہمیں زندگی میں بے شمار واقعات پیش آتے ہیں۔ یہ تمام واقعات ضروری طور پر خارجی وجود کے حامل نہیں ہوتے بلکہ ان میں سے بہت سے ہماری داخلی، ذہنی، قلبی یا مختصراً نفسیاتی زندگی میں جنم لیتے ہیں اور کبھی خارج کی سطح پر نہیں آتے۔ ان تمام کیفیات و واردات اور احساسات و افکار کو بھی زندگی کے واقعات تصور کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہماری ذہنی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ ذہن کے تحرکات سے خارجی عمل جنم لیتا ہے۔ ہم کسی خاص جذبے، خیال یا تحریک کے ماتحت عمل کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ اب تک ہم نے واقعہ کی صرف دو صورتیں سمجھی ہیں۔ ایک داخلی اور دوسری خارجی لیکن یہ دونوں صورتیں ایک ہی فرد کی زندگی اور اس کی اپنی ہستی اور شخصیت سے متعلق ہیں۔ تیسری صورت یہ کہ ہم خارج میں ظہور پذیر ہونے والے کسی واقعہ سے تاثر لیتے ہیں اور اس کے ماتحت ہمارے اندر عمل کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ جو خارجی عمل میں ڈھل سکتی ہے۔ اس طرح ایک ایسا واقعہ جو حقیقتاً ہماری ذات سے باہر کچھ عوامل کے وسیلے سے وجود میں آتا ہے ہمارے دل و دماغ کو متاثر کرکے ہماری زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح واقعہ ایک وسیع معنویت کا حامل ہے۔ اس لحاظ سے واقعہ کا مطلب کوئی معاملہ، جذبہ، خیال، فکر یا زندگی کا کوئی پہلو ہے۔

 ظاہر ہے کہ ان تمام واقعات میں سے تمام ہمارے لئے یکساں اہمیت کے حامل نہیں ہوتے۔ ان میں بہت سے واقعات کو ہم درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ اکثر چھوٹے چھوٹے معاملات خود بخود فراموش ہو جاتے ہیں۔ کچھ واقعات تھوڑے عرصے کے بعد اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ چند ایسے ہوتے ہیں کہ ہم مرتے دم تک ان کو بھول نہیں سکتے اور وہ برابر ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ فٹ بال کھیلتے ہوئے کسی شخص کے پاﺅں میں موچ آ جانا اس قدر اہم اور سنجیدہ واقعہ نہیں جس قدر کسی حادثے میں اس کی ٹانگ کا کٹ جانا۔ سینما ہاﺅس میں بیٹھ کر جنگ کا منظر دیکھنا اس قدر متاثر نہیں کرتا جس قدر سڑک پر ٹرک کے نیچے کچلی ہوئی لاش دیکھنا۔ ہم اخبار میں ہر روز بیسیوں قتل کی خبریں پڑھتے ہیں اور انہیں خاص اہمیت نہیں دیتے لیکن کسی عظیم رہنما کا قتل ہمیں نہایت اہم اور دقیع معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا دوست ہر روز محنت کرنے کے ارادے باندھتا ہے اور توڑ دیتا ہے۔ لیکن ہمیں اس کا یہ عمل اس قدر اہم اور سنجیدہ معلوم نہیں ہوتا جس قدرہیملٹ کے ارادے اور اس کے پے بہ پے التواءاور تذبذب کا عمل۔ محلے کی کسی عورت کا اپنے بیٹے کی وفات سے پاگل ہو جانا ہمارے لیے اس قدر تاثر نہیں رکھتا جس قدر لیڈی میکبتھ کا اپنے احساسِ جرم سے ذہنی توازن کھو بیٹھنا اور قلوپطرہ یا مارگریٹ اور ٹاﺅن سٹر کے معاشقہ میں یا.... شبلی کی حیات معاشقہ میں۔ اسی طرح ہماری داخلی زندگی میں بعض اوقات ایسے احساسات و افکار پیدا ہوتے ہیں یا کسی جذبے کا کوئی ایسا زاویہ سامنے آتا ہے جو ہماری کلی زندگی کو یکسر بدل دیتا ہے۔ اس طرح داخلی اور خارجی زندگی میں رونما ہونے والے تمام واقعات ہمارے لیے سنجیدہ و دقیع نہیں ہوتے۔ ہم زندگی کے پیش یا افتادہ پہلوﺅں کو اس قدر اہمیت نہیں دیتے جس قدر اس کے دقیق و عمیق پہلوﺅں کی طرف توجہ دیتے ہیں۔لہٰذا ڈرامہ نگار ایسے سنجیدہ و دقیع عمل کی نقل اتارتا ہے اور زندگی کے ایسے پہلو کو اپنا موضوع بناتا ہے جس سے قارئین و ناظرین(یعنی ڈرامے کو پڑھنے یا سٹیج ہوتا دیکھنے والے) متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ اگر وہ زندگی کے عام پہلوﺅں کو ڈرامائے اور بغیر کسی گہرے راز کو منکشف کئے انہیں من و عن پیش کرے تو اس کا ڈرامہ پھیکا اور بے اثر ثابت ہوگا اور اسے فنکار نہیں سمجھا جائے گا۔ البتہ اگر کوئی فنکار زندگی کے کسی عام اور پیش یا افتادہ پہلو کو بھی موضوع بنا کر اسے اس طرح پیش کرے کہ اس کے درپردہ معانی معرضِ اظہار میں آ جائیں یا اس کی کوئی گہری معنویت ابھر آئے تو بے شک اسے فن کا درجہ مل سکتا ہے۔ لیکن موضوع کے متعلق یہ خیال جدید زمانے کی پیداوار ہے۔ ارسطو کے زمانے میں ڈرامہ نگار ہمیشہ بڑی شخصیات اور ان کی زندگی کے عظیم واقعات کو ہی ڈرامے کا موضوع بناتے تھے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -