” دی وز“ کی شوٹنگ کے دوران گزرنے والا وقت دباﺅ اور اندیشوں سے پُر تھا

” دی وز“ کی شوٹنگ کے دوران گزرنے والا وقت دباﺅ اور اندیشوں سے پُر تھا
” دی وز“ کی شوٹنگ کے دوران گزرنے والا وقت دباﺅ اور اندیشوں سے پُر تھا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 44

برسوں بعد مارلن برانڈو نے مجھے بتایا کہ لوگ ہر وقت اُس کے ساتھ ایسا کرنے کے عادی ہیں۔

سیٹ پر مسائل معدودے چند ہی تھے اور ڈیانا کے اس قدر نزدیک کام کرنا اچھا تجربہ تھا۔ وہ ایک خوبصورت اور باصلاحیت عورت ہے۔ میرے لئے اُس کے ساتھ کام کرنا خاص مفہوم لئے ہوئے تھا۔ میں اُس سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں، میں اُس سے ہمیشہ بہت زیادہ محبت کرتا رہوںگا۔

” دی وز“ کی شوٹنگ کے دوران گزرنے والا وقت دباﺅ اور اندیشوں سے پُر تھا، اگرچہ میں اپنے تئیں لطف اندوز ہو رہا تھا۔ مجھے اُس برس کا 4 جولائی نہیں بھولا۔میں ساحلِ سمندر پر گیا ہوا تھا جہاں سے جرمین کا گھر آدھے فرلانگ کی دوری پر سمندر کے رخ واقع تھا۔میں لہروں میں گھِر چکا تھا اور اچانک میں سانس نہیں لے سکتا تھا۔ کوئی ہوا نہیں، کچھ نہیں، میں نے خود سے پوچھا کہ کیا غلط ہے؟ میں نے کوشش کی کہ حواس باختہ نہ ہوں لیکن میں جرمین کی تلاش میں گھر واپس بھاگ گیا جو مجھے ہسپتال لے گیا۔ میرے پھیپھڑے میں خون کی نالی پھٹ گئی تھی۔دوبارہ ایسا نہیں ہوا، اگرچہ میں یہاں درد اور جنبش محسوس کرتا تھا جو کہ یقیناً میری ذہنی اختراع تھی۔ بعد ازاں مجھے پتہ چلا کہ مجھے سینے کی سوجن کی طرح کا عارضہ لاحق ہے۔ مجھے میرے ڈاکٹر نے ہدایت کی تھی کہ میں چیزوں کو دھیمی رفتار سے کروں لیکن میرا نظام الاوقات مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا اور چیزوں کو دُرست طور پر پیش کرنے کےلئے سخت محنت جاری رہی۔

مجھے پرانی’ ’ وزرڈ آف اوز“ کی طرح نئی کہانی پسند آئی تھی جس کا براڈوے پراڈکشن کی تخلیق سے وُسعت میں فرق تھا لیکن ان کی رُوح ایک تھی،اس میں اصل فلم سے زیادہ سوال پوچھے گئے تھے اور اُن کے جواب بھی دیئے گئے تھے۔ پرانی فلم کا ماحول ماورائی کہانیوں کی جادوئی سلطنت کے مانند تھا۔ دوسری طرف ہماری فلم کے سیٹ حقیقت پر مبنی تھے کہ بچے انہیں پہچان سکتے تھے۔ مثال کے طور پر سکول کے صحن تھے، سب وے ریستوران تھے اور حقیقی شہر جہاں سے ہماری دوڑوتھی آئی تھی۔ میں ’ ’وز“ دیکھ کر تاحال لُطف اندوز ہوتا ہوں اور اس تجربے کو زندہ کرتا ہوں۔ خاص طور پر مجھے وہ منظر بہت پسند ہے جہاں ڈیانا کہتی ہے، ”کیا میں ڈری ہوئی ہوں؟ میں نہیں جانتی کہ میں کس چیز سے بنی ہوں۔۔۔“ کیونکہ میں اس طرح خاصی بار سوچ چکا ہوں، حتیٰ کہ زندگی کے خوشگوار ترین لمحات میں بھی یہ خیال ذہن کے نہاں خانوں میں گردش کرتا رہا ہے۔ وہ ڈر پر قابو پانے کے بارے میں گیت گاتی ہے اور وہ ثابت قدمی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ وہ جانتی ہے اور حاضرین آگاہ ہیں کہ خطرے کا شائبہ تک اُسے واپس نہیں موڑ سکتا۔

میرے کردار کے پاس کہنے اور سیکھنے کےلئے بہت کچھ تھا۔ میںاپنی لاٹھی پر سہارا لینے کےلئے جھکا ہوا تھا اور کوﺅں کا جتھا مجھ پر ہنس رہا تھا، اس دوران میں گیت "You Can't Win"گا رہا تھا۔ یہ گیت رنج اور محتاجی کے بارے میںتھا۔۔۔ یہ کچھ ایسا ہے جو بہت سارے لوگ اکثر و بیش تر محسوس کرتے ہیں۔۔۔ اور اس میں خیال پیش کیا گیا تھا کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو آپ کی اتنی پشت پناہی نہیں کرتے جتنا وہ خاموشی کے ساتھ آپ کو عدم تحفظ کی جانب دھکیل رہے ہوتے ہیں چنانچہ آپ پس قدم ہو جاتے ہیں۔ )جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -