میڈیا ورکرز کی مریم 

 میڈیا ورکرز کی مریم 
 میڈیا ورکرز کی مریم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سخن طراز ڈھال:اس بات کا فیصلہ تاریخ کرے گی کہ مریم اورنگ زیب صاحبہ نے میڈیا ورکرز کے دل جیتے یا میڈیا ورکرز نے ان کی ہمدردی لی،یہ بات طے ہے کہ صحافی کارکنوں نے جس اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے چند اینکرپرسنوں کے مافیا کو شکست دی ہے ضرور سنہرے حروف میں رقم ہوگا۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی( ترمیمی )بل 2023کا قومی اسمبلی کے آخری دن کے آخری لمحوں میں پاس ہوکر قانون بن جانا معجزے سے کم نہ تھا۔ اس سے قبل قومی اسمبلی کے باہر مریم اورنگ زیب صاحبہ اور پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے مابین میڈیا ورکرز کے حقوق کی پاسداری کے لئے جس طرح کے جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، ان کو دیکھ کر کئی بار دل پسیجا اور بار بار آنکھ نم ہوئی۔ سچے اور کھرے جذبات کا اظہار کرتی مریم اورنگ زیب صاحبہ میڈیا ورکرز کی مدر ٹریسا لگیں۔ اسمبلی میں ان کا بے باک خطاب اور اگلے روز پی ایف یو جے کے روح رواں افضل بٹ صاحب کی جانب سے ان کی پذیرائی کے خوش کن مناظر نے ثابت کردیا کہ اس گئے گزرے دور میں بھی انسانیت کا چلن باقی ہے اور حکومت تنخواہ دار طبقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھتی ہے ۔ پروین شاکر کا ایک شعر دیکھئے 
اس کی سخن طرازیاں میرے لئے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی 
پیمرا ترمیمی قانون:واضح رہے کہ پیمرا آرڈیننس 2002ءمیں جنرل پرویز مشرف نے متعارف کروایا تھا اور تب سے اب تک پہلی مرتبہ ترامیم سے مزین ہوا۔ اس کی 9شقوں میں ترمیم کی گئی جبکہ پانچ مزید شقوں کا اضافہ بھی کیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی متعارف کروایا تھا جسے صحافیوں نے بیک آواز کالا قانون قرار دے کر مسترد کردیا تھا ۔موجودہ حکومت نے ترامیم کو حتمی شکل دینے میں لگ بھگ 13 ماہ کی مشاورت اور بحث مباحثے کو یقینی بنایا اور سارا فوکس میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود رہا۔ 
حالیہ ترمیمی پیمرا قانون میں پیمرا چیئرمین کی بجائے تین رکنی کمیٹی کو اختیار دیا گیا کہ وہ کسی چینل کو بند کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ تنخواہ کا مطالبہ کرنے پر صحافی کارکن نوکری سے برخاست کردیئے جاتے تھے مگر حالیہ قانون میںطے کردیا گیا ہے کہ کوئی بھی چینل اگر لگاتار دو ماہ کے واجبات ادا نہیں کرے گا تو اس کے سرکاری اشتہارات کی بندش کردی جائے گی ۔ اس قانون میں فیک نیوز، مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن ایسی شقوں کا اضافہ کیا گیا۔ الیکٹرانک میڈیا پر من گھڑت خبریں پھیلانے پر جرمانے کی رقم دس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کردی گئی ۔ ماضی میں سارا الزام میڈیا ورکر پر دھر دیا جاتا تھا لیکن حالیہ ترمیم کے ذریعے چینل کو بھی ایسی خبروں کا ذمہ دار قراردیا گیا ہے۔ اسی طرح چینل پر استعمال ہونے والی اصطلاحات کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر صرف ’خبر ‘کی بجائے ’مصدقہ خبر ‘کی اصطلاح کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ 
دودھ کی جلی حکومت:اپریل 2022میں آتے ہی اس پر کام شروع ہوگیا اور اس حکومت کے آخری دن کے آخری لمحے تک ہوتا رہاکیونکہ پس پردہ کارفرمامخصوص قوتیں ا اس کو متنازع بنانے پر تلی ہوئی تھیں ۔ سچی بات ہے کہ 2014کے دھرنوں سے شروع ہو کر 2022تک الیکٹرانک میڈیا کے ہاتھوںجتنی درگت پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی بنی اس کے بعد اس کا چھاچھ بھی پھونک کر پینا بنتا ہے ۔ اس ترمیمی قانون کو حتمی شکل دینے کے لئے حکومت کو 13ماہ لگے مگر آخر میں بھی کراچی کے دوستوں نے اس قدر زچ کیا کہ مریم اورنگ صاحبہ نے اس ترمیمی بل کو واپس لے کر سب کو حیران کردیا۔ تاہم متحرک میڈیا ورکرز نے اپنا مقدمہ خود لڑتے ہوئے اینکر پرسنوں کے مخصوص گروہ کو نہ صرف کھری کھری سنائیں بلکہ احتجاج کا آغاز بھی کیا تو منجمد شدہ ترمیمی بل ڈی فریز کیا گیا اور سینٹ سے بھی پاس ہو کر قانونی شکل اختیار کر گیا۔
میڈیا موڑ مہار:ایسا لگتا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بھی یہی چاہتی تھیں کیونکہ انہیں خطرہ ہوگا کہ اگلے عام انتخابات سے قبل دوبارہ سے روزانہ شام سات سے رات بارہ بجے تک ان کی درگت بننے اور عمران خان کو مقبولیت کے گھوڑے پر سوار کرانے گا منصوبہ بن سکتا ہے اور سادہ لوح عوام اسی طرح دھوکہ کھاسکتے ہیں جس طرح 2014سے 2018 کے دوران ہواتھا۔خالی پی ڈی ایم ہی نہیں خود اسٹیبلشمنٹ کی ناک میں بھی دم ہوا پڑا ہے چنانچہ ایک ایسے قانون کی موجودگی سے نگرانوں کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ بے شترو بے مہار ٹی وی چینلوں اور اینکر پرسنوں کو لگام ڈال سکیں کیونکہ 9مئی سے قبل اور بعد میں جس طرح الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا نے عمران خان کی گڈی چڑھائے رکھی ہے ، اس سے اگلے انتخابات سے قبل اور بعد کا منظر بآسانی سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پرجب پہلے سے ہی مخصوص ٹی وی اینکر زملک سے بھاگ کر سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈہ پھیلانے میں جتے ہوئے ہیں ، ملک میں صاف شفاف انتخاب یقینی بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ واقفان حال بھی بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات کو متنازع بنانے کا منصوبہ بن چکا ہے۔اس حوالے سے یورپی یونین کی جانب سے پاکستانیوں صحافیوں کے ایک وفد کو یورپ کی سیر کروانے کی باتیں زباں زد عام ہیں۔ ملک میںایسی غضب ناک ’پراکسی وار ‘دیکھ کرحضرت داغ یاد آتے ہیں جنھوں کہا تھا کہ 
وہ آنکھیں سامری فن ہیں وہ لب عیسیٰ نفس دیکھو
مجھی پر سحر ہوتے ہیں، مجھی پر دم بھی ہوتے ہیں

مزید :

رائے -کالم -