زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے لئے حکومت پنجاب کے اہم اقدامات (2)

زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے لئے حکومت پنجاب کے اہم اقدامات (2)

  

صوبہ پنجاب میں امسال 10ہزار 48ٹریکٹرز میں سے اب تک قرعہ اندازی کے ذریعے ٹریکٹر حاصل کرنے والے خوش نصیب کاشتکاروں کی طرف سے 10ہزار 32ٹریکٹرز کی بکنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے جن میں سے 5ہزار 814ٹریکٹرز نوجوان کاشتکاروں کو فراہم کیے جا چکے ہیں اور اب تک 1ارب 4کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی جا چکی ہے۔

گرین ٹریکٹر سکیم 2012-13کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے ٹریکٹر حاصل کرنے والے تمام نوجوان کاشتکاروں کو31دسمبر 2012تک ٹریکٹرز کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے ۔

اس سے قبل 2008-09اور 2009-10کے دوران بھی حکومت پنجاب نے مشینی زراعت کو فروغ دینے کے لیے چھوٹے کاشتکاروں کو گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت 2لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 20ہزار ٹریکٹر فراہم کئے جن پر مجموعی طور پر 4ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔

٭....محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی طرف سے فوڈ سیکیورٹی پروگرام کے تحت گذشتہ دو سالوں کے دوران چھوٹے کاشتکاروں کو سبسڈی پر زرعی مشینری کی فراہمی کے لیے مجموعی طور پرقریباً 90کروڑروپے فراہم کئے گئے ہیں۔

٭....صوبہ پنجاب میں ٹنل ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے گذشتہ دو سالوں کے دوران مجموعی طور پر 31کروڑ 57لاکھ 40ہزار روپے کی سبسڈی پر 2654ٹنلز فراہم کی گئی ہیں۔

٭....حکومت نے کاشتکاروں کی سہولت کے لیے بلڈوزروں کا کرایہ1400/-روپے سے کم کرکے 560/-روپے فی گھنٹہ بشمول ڈیزل مقرر کیا جس کے نتیجے میں گذشتہ دو سالوں کے دوران قریباََ27کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی اور قریباََ 13 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ہموار کی گئی۔اس کے علاوہ گند م کے بھوسے کے لیے 260چوپر کی فراہمی کے لیے 55لاکھ روپے سبسڈی دی گئی ہے۔

٭....حکومت پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کو 1500بائیو گیس پلانٹ 50ہزار روپے فی پلانٹ سبسڈی پر فراہم کیے جا رہے ہیںجن پر مجموعی طور پر 7کروڑ 50لاکھ روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے ۔

٭....کاشتکاروں تک معیاری زرعی ادویات اور کھادوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے گئے جن کی بدولت زرعی ادویات میں ملاوٹ کی شرح جو موجودہ حکومت کے برسرِاقتدار آنے سے قبل 8.46فیصد تھی کم ہو کر 2.70فیصد جبکہ کھادوں میں ملاوٹ 8.6فیصد سے کم ہوکر 5.1فیصد رہ گئی ہے۔

2008ءسے اب تک محکمہ زراعت کی طرف سے 32ہزار 73زرعی ادویات کے نمونہ جات حاصل کرکے 31ہزار 998نمونہ جات لیبارٹری میں تجزیہ کے لئے بھیجے گئے جن میں سے ایک ہزار 484نمونے غیر معیاری پائے گئے جبکہ جعلی ادویات کی پکڑ کے لئے 722چھاپے مارے گئے۔ اس طرح ملاوٹ شدہ /غیر معیاری ادویات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف ایک ہزار 702 مقدمات درج کئے گئے اور قریباً 43کروڑ روپے مالیت کی 9لاکھ 11ہزار کلوگرام /لیٹر مقدار جعلی ادویات قبضہ میں لی گئیں۔

2008ءسے اب تک کھادوں کے13ہزار 700نمونہ جات حاصل کرکے 11ہزار 879نمونہ جات لیبارٹری میں تجزیہ کے لئے بھیجے گئے جن میں سے 800نمونے غیر معیاری پائے گئے اور 771مرتکب افراد کی گرفتاری فوری عمل میں لائی گئی جبکہ جعلی کھادوں کی پکڑ کے لئے 2ہزار 264مقامات پر چھاپے مارکر ملوث افراد کے خلاف مقدمات درد کرکے ایک ہزار 413 ملزموںکو گرفتار کیا گیا۔اس طرح جعلی /ملاوٹ شدہ/غیر معیاری کھادوں کی روک تھام کی مہم کے دوران موجودہ حکومت کے دور میں اب تک 36کروڑ 25لاکھ 3ہزار 279روپے مالیت کی 17لاکھ 27ہزار 914ہزار کلوگرام /لیٹر مقدار جعلی کھادیں قبضہ میں لی گئیں۔

٭....ہر سال 120ارب روپے مالیت کی کپاس کی 3ملین گانٹھیںCLCVکے حملہ کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں ،اس مسئلہ کے حل کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے چنانچہ پار ب نے 2منصوبوں کے لیے 41ملین روپے فراہم کیے ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے کپاس کی CLCVکے خلاف مدافعت رکھنے والی اقسام دریافت کی جائیں گی۔مختلف بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے تجربہ کارسائنسدان/پروفیسرز بھی ان منصوبوں میں تعاون اور مدد کر رہے ہیں۔

٭....پانی کی قلت سے زراعت بری طرح متاثر ہورہی ہے اس لیے ضرور ت اس امر کی ہے کہ تحقیق کے ذریعے گندم، دھان ،گنا اور کپاس کی ایسی اقسام دریافت کی جائیں جو کم پانی سے زیادہ پیداوار دیں ۔ اس مقصد کے تحت تحقیقاتی منصوبوں کے لیے 110ملین روپ فراہم کئے گئے اور بین الاقوامی ادارے مثلاََ ٹوکیو یونیورسٹی ،سری لنکن شوگر کین ریسرچ انسٹیٹیوٹ، انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ فلپائن ان منصوبوں کے ذریعے اہداف کے حصول میں مدد کر رہے ہیں۔

٭....کاشتکاروں کو سٹوریج سہولیات کی فراہمی اور مڈل مین و آڑھتیوں کے استحصال سے بچانے کے لیے زرعی مارکیٹنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کا ا ٓغاز کر دیا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے سٹوریج کی سہولیات میں اضافہ کے لیے سرکاری، نجی شعبہ کے اشتراک سے منصوبو ں کی حوصلہ افزائی کی جار ہی ہے۔

صوبائی حکومت کے ان اقدامات اور کسان دوست پالیسیوں کی بدولت گزشتہ چار سالوں کے دوران اہم فصلات کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے:

٭.... گندم کی پیداوارجو 2007-08ءمیں 1کروڑ56لاکھ ٹن تھی بڑھ کر 2008-09ءمیں 1کروڑ 84لاکھ ٹن، 2009-10ءمیں 1کروڑ 79لاکھ ٹن جبکہ 2010-11ءمیں 1کروڑ 90لاکھ ٹن ہوئی جو صوبہ کی تاریخ میں اےک ریکارڈ ہے۔ اس طرح 2007-08کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے دور میں گندم کی پیداوار میں بالترتیب 20، 17اور 21فیصد اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ برس پانی کی کمی،کھادوں کی عدم دستیابی اور دیگرناموافق حالات کے باوجود 464.6ارب روپے سے زائد مالیت کی گندم کی 1کروڑ 80لاکھ ٹن پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ حکومت پنجاب نے مالی سال 2010-11میں پہلی مرتبہ صرف چار ماہ کی قلیل مدت میں 9لاکھ ٹن گندم بیرون ملک برآمد کی۔

٭گزشتہ برس پنجاب میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار 1کروڑ 19لاکھ91ہزار 279گانٹھیں حاصل ہوئی ہیں جو سال 2010-11کی پیداوار (78لاکھ 14ہزارگانٹھیں) سے 53.47فیصد زیادہ ہیں۔

٭....چاول کی پیداوار جو 2007-08ءمیں 32لاکھ 86ہزار ٹن تھی بڑھ کر2008-09ءمیں 36لاکھ 43ہزار ٹن اور 2009-10ءمیں 37لاکھ 13ہزار ٹن رہی جو ایک ریکارڈ پیداوارتھی جبکہ 2010-11ءمیں سیلاب کی تباہ کاری کے باوجود 33لاکھ 84ہزار ٹن چاول پیدا ہوئے ۔ 2011-12کے دوران چاول کی پیداوار 32لاکھ 77ہزار ٹن حاصل ہوئی ہے۔رواں برس چاول کی 34لاکھ ٹن سے زائد پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

٭....گنے کی پیداوار میں بھی موجودہ حکومت کے دور میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے 2009-10کے دوران گنے کی 3کروڑ 13لاکھ 240ہزار ٹن کی پیداوار حاصل ہوئی جو 2010-11کے دوران 19.7فیصد اضافہ کے ساتھ بڑھ کر 3کروڑ 74لاکھ 81ہزار ٹن ہو گئی جبکہ 2011-12ءمیں14.4فیصداضافہ سے 4کروڑ28لاکھ 93ہزار ٹن حاصل ہوئی جبکہ 2012-13کے دوسرے تخمینہ کے مطابق مزید اضافہ سے 4کروڑ 30لاکھ 14ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی ہے جو پنجاب کی پیداوار میں ایک ریکارڈ ہے۔

٭....2010-11ءمیں مکئی اور آلو کی ریکارڈ پیداوار بالترتیب 29لاکھ 59ہزار ٹن اور 33لاکھ 40ہزار ٹن حاصل ہوئی ہے۔ (ختم شد) ٭

مزید :

کالم -