ہیلمٹ فار آل

ہیلمٹ فار آل

 کائنات کا وسیع تر انتظام اور عقل کو حیر ت کے سمندر میں غوطہ زن کر دینے والی جمادات، نباتات غرض تمام موجودات صرف اور صرف انسان کے لئے ہیں اور نظام کائنات میں رب کائنات کی جانب سے بار بار غور و فکر کی دعوت اور تحقیق و جستجو کی طرف مائل کرنے کا حکم انسانی زندگی کی اہمیت کی واضح دلیل ہے۔ہمیں اللہ تعالی نے چرند ، پرند ، درند، حشرات الارض اور سمندری مخلوق میں شامل کرنے کی بجائے انسانیت کا تاج ہمارے سر پر سجایا۔ ہمیں اپنے انسان ہونے پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ موجود تمام نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے جان و مال کی حفاظت بھی کرنی چاہئے ۔ ہر وہ چیز جو ہمارے لئے کسی نقصان اور خطرے کا سبب بن سکتی ہواس کا ادراک کرکے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آپ کی حفاظت کرنی چاہئے، لیکن افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ کوشش تو کجا بلکہ ہم جان بوجھ کر ایسے اقدامات کرتے ہیں جس سے زندگی جیسی انمول نعمت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ مرور زمانہ کی ضروریات اور ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے حالات حاضرہ میں موٹر سائیکل کی سواری ہر امیر و غریب کے استعمال میں ہے اور روز مرہ کے معمولات کو سر انجام دینے کے لئے اسی کا رُخ کیا جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ذرائع مواصلات کی قابل رحم حالت کسی بھی عقل و شعور کے حامل شخص سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن اس تمام صورت حال کے باوجود انسان اپنی حفاظت کے لئے چھوٹے چھوٹے معمولات کو اپنانا شروع کردے تو زندگیاں محفوظ بنانے میں کافی حد تک بہتری لائی جا سکتی ہے۔ عوام کو اپنی حفاظت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے حکمران بھی مل جائیں جو ان کی فلاح و بہبود اور جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں تو عوام گروہ یا ہجوم کی بجائے قوم کے منصب پر© فائز ہو جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا شمارانہی حکمرانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ٹریفک اور سڑکوں کی نا گفتہ بہ حالت کو سدھارنے کا ذمہ لیا ہوا ہے اور دن رات اسی عظیم مقصد کو پانے میں سر گرداں نظر آتے ہیں لیکن گزشتہ دنوں ان کی شروع کرد ہ” ہیلمٹ فار آل “ مہم اپنی مثال آپ ہے جس میں خالصتا عوام کی حفاظت کا جذبہ کارفرما ہے۔ ” ہیلمٹ فار آل “ مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)صوبے بھر میں مستحق نوجوانوں کو فری ہیلمٹ دینے کا پروگرام شروع کر رہی ہے اور پہلے مرحلے میں بیس ہزار ہیلمٹ میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی میں بہت سا سقم ہے اس ضمن میں میاں شہباز شریف نے ایڈیشنل آئی جی ٹریفک قلب عباس، بانی ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 ڈاکٹر رضوان نصیر، منتخب نمائندوں اور دیگر ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جو کہ روڈ سیفٹی اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے سفارشات پیش کرے گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ریسکیو1122کے کمیونٹی سیفٹی پروگرام کی جانب سے نوجوانوں میں ہیلمٹ تقسیم کئے، ہیلمٹ پہنے موٹر سائیکل سواروں کی ریلی کا افتتاح بھی کیااور خود بھی موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہن کر بیٹھے۔جس کافوری طورپر یہ اثر ہوا کہ سی سی پی او اسلم ترین کی ہدایت کے مطابق سی ٹی او کیپٹن(ر) سہیل چودھری نے شہریوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے اور حادثات کی صورت میں قیمتی جانوں کو بچانے کے لئے بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ میں سب سے زیادہ نقصان سر اور دماغ میں چوٹ لگنے کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے بعض اوقات قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ شہری موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ٹریفک وارڈنز کو بھی ہدایت کی کہ وہ شہریوں کی روڈ سیفٹی کو یقینی بنانے کے لئے سگنل پر کھڑے بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سوار شہریوں کو ایجوکیٹ کریں۔ ہیلمٹ کے استعمال کا قانون پہلی مرتبہ یکم جنوری 1961ءکو آسٹریلیا کے شہر وکٹوریا میں عمل کے لئے لایا گیا۔ پھر امریکہ ، برطانیہ، کینیڈا، جاپان میں اس کی عملی صورت کے بارے غور و خوض کیا گیا اس کے ساتھ ہی دیگر ممالک مثلا آسٹریا،بیلجئم ، برازیل، بلغاریہ، فرانس، فن لینڈ، فرانس ، جرمنی، انڈیا، انڈو نیشیا، اٹلی سمیت درجنوں ممالک میں ہیلمٹ نہ پہننے کے حوالے سے قوانین ہیں۔بلکہ بیرون ممالک میں قوانین کے ساتھ ساتھ روڈ سیفٹی اور ذاتی حفاظت کی یقینی کے لئے کانفرنسز، سیمینارزکا انعقاد بھی گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے جس میں دنیا بھر سے متعلقہ شعبے کے ماہرین شرکت کرتے ہیں اور اپنے اپنے تجربات و تجزیات دوسروں کو بتاتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی پچھلے دنوں نیوزی لینڈ میں ہونے والی تین روزہ سیفٹی کانفرنس تھی۔جس میں پوری دنیا سے محفوظ معاشرے کے قیام کی جدوجہد کرنے والے اداروں کے سربراہان کو بحث و مباحثہ اور ایک دوسرے کی مہارت جانچنے کے لئے بلایا گیا تاکہ وہ واپس اپنے اپنے ممالک میں جا کرجدت ،نئے رجحانات اور اچھوتے خیالات کے ساتھ اپنی اپنی عوام کی حفاظت کے لئے مو¿ثر انداز میں کام کر سکیں ۔ترقی یافتہ ممالک میں اپنے شہری کی جان و مال کی حفاظت پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ مختلف محکموں اور پراجیکٹس کی مد میں بجٹ کا ایک خطیر حصہ صرف اور صرف انہی مقاصد کے لئے رکھا جاتا ہے جن کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق انسان کے جان و مال کی حفاظت سے ہوتا ہے ۔ نیوزی لینڈ میں منعقد ہونے والی سیفٹی کانفرنس ، سیفٹی کو فروغ دینے والی گیارہویں بین الاقوامی کانفرنس تھی جو ہر دو سال بعد عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام انعقاد پذیر ہوتی ہے جس موقع پر ہیلتھ اور سیفٹی پر کام کرنے والے پوری دنیا کے سرکردہ افراد جن میں محققین ،معالجین، پروفیسرز اور ڈاکٹرز وغیرہ شامل تھے۔ کانفرنس کا انعقادنیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن میں کیا گیا۔ جس طرح وزیر اعلیٰ پنجاب کی” ہیلمٹ فار آل “ مہم میں ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122ڈاکٹر رضوان نصیر سب سے بڑا محرک نظر آتے ہیں اسی طرح اس کانفرنس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز بھی ریسکیو 1122کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیرکو ہی ہے جو ہمہ وقت محفوظ معاشرے کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے لئے سر گرداں رہتے ہیں۔ 2011 کو بطور سیفٹی ائیر منانے کا سہرا بھی ڈاکٹر رضوان نصیراپنے سر سجائے ہوئے ہیں۔ ایک نیوز کانفرنس میں ہیلمٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں95فیصد وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہیلمٹ نہیں پہنے ہوئے ہوتے۔ اس سلسلے میں ہیلمٹ مخالفین کا کہنا ہے کہ زبر دستی ہیلمٹ پہنانا حکومت کی شخصی آزادی میں مداخلت ہے اور وہ اس پابندی کے ذریعے اس جذبے اور ہمت کو کچلنا چاہتی ہے جس سے بندہ زندگی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرسکے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ ہیلمٹ حادثہ کی شدت کو کم کرتا ہے] لیکن ہیلمٹ دوران ڈرائیونگ پسینہ،الجھن،چکرآنا،مشقت سمیت قوت سماعت و بصارت میں خلل پیدا کرتا ہے اور ارد گرد کے حالات سے بندہ با خبر نہیں رہ پاتا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوران حادثہ یہ سر اور دماغ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مہروں اور گردن کی چوٹ کے ٹوٹنے کا سبب بھی بنتا ہے لیکن محققین ہیلمٹ مخالفین کے مذکورہ اعتراضات کو بے وزن سمجھتے ہیں۔ علاوہ ازیںزخمیوں کے علاج کے لئے متعلقہ خاندانوںاور سوسائٹی کو معاشی، نفسیاتی اور سماجی طور پر قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ساتھ ساتھ ادویات اور سپیشل خوراک کی مد میں اخراجات میں اضافہ، ہسپتالوں میں طویل عرصہ تک قیام اور زندگی بھر کی معذوری کے خدشات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے تو بہت سی چیزیں ہیں جو موٹر سائیکل چلانے کے دوران حفاظتی کردار ادا کرتی ہیں جس کے لئے مخصوص قسم کی پینٹس، گلوز، جوتے اور جیکٹس ہیں لیکن سب سے اہم ہیلمٹ ہے جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ہیلمٹ دماغ، چہرے، سر اور آنکھوں کی حفاظت کے لئے پہنا جاتا ہے ۔ ہیلمٹ سر کو دوران چوٹ بچانے اور چوٹ کی شدت کو کم کرنے میں موثر کردار ادا کرتا ہے ۔ ہیلمٹ چہرے اور کانوں کو تیز ہوا کے شور اور اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، موسمی اثرات جیسے بارش اور آندھی وغیرہ سے بچاﺅ اس کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو دھول ، مٹی، تنکوں اور مچھر وغیرہ سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ الغرض ٹریفک قوانین ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا ” ہیلمٹ فار آل “ مہم کا دوبارہ آغاز اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اب بھی ایسے ادارے اور حکمران ہیںجو ہمیشہ ہماری جان و مال کا سوچتے ہوئے عملی اقدامات کرتے رہتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ بحیثیت شہری ہم اس مہم کو بھر پور طریقے سے کامیاب بنائیں تاکہ ریسکیو1122کا محفوظ معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ ٭

مزید : کالم


loading...