تبدیلی کے مُنکر تھوڑا انتظار کریں

تبدیلی کے مُنکر تھوڑا انتظار کریں
تبدیلی کے مُنکر تھوڑا انتظار کریں

  

کیا آنے والے انتخابات واقعی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوں گے؟ یہ سوال سب پوچھتے ہیں اور بہت سوں کو اس کی اہمیت کا احساس بھی ہے۔ یہاں ایک دلچسپ حقیقت کا بیان ضروری ہے.... موجودہ جمہوری ڈھانچہ جو اب پانچ سال مکمل کرنے جا رہا ہے، صرف 98لاکھ ووٹوں پر کھڑا ہے۔ ہمارے ہاں ووٹ ڈالنے کی شرح25سے30فیصد رہی ہے۔ اس پس منظر میں جب یہ اعداد و شمار سامنے آتے ہیں کہ18سال کی عمر کے نوجوانوںکی تعداد تین کروڑ ہو چکی ہے، جو بطور ووٹر الیکشن کمیشن کے ہاں رجسٹر بھی ہو چکے ہیں، تو لگتا ہے کہ اس بار انتخابی نتائج 18سال کے یہ نوجوان ہی مرتب کریں گے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے ووٹر کی عمر18سال کر دی تھی، تاہم پچھلے انتخابات میں زیادہ تر نوجوانوں کا ووٹ انتخابی فہرستوں میں درج نہیںہوا تھا، جس کی وجہ سے نئی نسل اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے محروم رہی تھی.... پھر یہ بھی ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے اس قسم کی فضا بھی نہیں تھی کہ جو اب تبدیلی کے حوالے سے ملک کے طول و عرض میں محسوس کی جا رہی ہے، نہ ہی نوجوانوں کے سیاسی عمل میں کردار کا اس قدر شور تھا، مگر اب حالات یکسر بدلے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

حیران کن حد تک نوجوانوں میں سیاست سے دلچسپی کا عنصر بڑھ رہا ہے۔ ملک کے بارے میں سوچنے کی ایک واضح لگن اُن کے اندر سرایت کرتی نظر آ رہی ہے۔ میڈیا، سیاسی جماعتیں اور خود نوجوانوں کی تنظیمیں اس بات کا کھلا اظہار کر رہی ہیں کہ نوجوان ہی اب اس ملک کو بچا سکتے ہیں.... کیا اس بات کو خاموش انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیا جا سکتا ہے؟.... میرا نوجوانوں سے چونکہ براہ راست تعلق اور رابطہ رہتا ہے، اس لئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آج کی نئی نسل سماجی و سیاسی شعور کے لحاظ سے پچھلی نسلوں سے بہت آگے ہے۔ یہاں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ نوجوانوں کو سیاسی جماعتیں اپنے سٹوڈنٹس ونگز کے ذریعے پچھلی نصف صدی سے استعمال کر رہی ہیں، لیکن اس کا مقصد اُن کے اندر سیاسی شعور بیدار کرنا نہیں، بلکہ اپنی سٹریٹ پاور میں اضافہ کرنا ہوتا تھا۔ نوجوانوں کو اس بات کا علم تک نہیں ہوتا کہ ملکی سیاست کس رُخ پر چل رہی ہے، نہ ہی وہ اس بات سے باخبر تھے کہ وہ بھی قومی سطح پر کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔

 آج کا نوجوان خود کو قومی دھارے میں شامل کر چکا ہے۔18سال کی عمر میں قومی ووٹ کے حق کا استعمال اُس کا ایک خواب ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات اب اپنے ارکان اسمبلی کو بھی منتخب کر سکیں گے،یہی شوق انہیں کشاں کشاں پولنگ سٹیشنوں تک لے جائے گا۔ گویا اب یوتھ کی سیاست صرف تعلیمی اداروں کے اندر تک ہی محدود نہیں رہے گی، بلکہ وہ قومی سطح پر ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی قوت بھی ثابت ہوگی....جو سیاسی جماعتیں اس کا ادراک کر چکی ہیں، اُن کے لئے آنے والے انتخابات میں نئے امکانات سے اپنا حصہ نکال لینا ناممکن نہیں رہے گا، تاہم جو سیاسی جماعتیں صرف روائتی ووٹ بنک پر انحصار کر کے اس بڑی انتخابی طاقت کو فراموش کئے ہوئے ہیں وہ انتخابی نتائج میں خود کو دیوار سے لگا پائیں گی.... ہماری روایتی سیاست کے دو تین اجزائے ترکیبی ہیں۔ جماعتی وابستگی، برادری ازم، مذہبی مسلک اور علاقائیت.... اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں انہی عناصر نے ان میں اپنا کردار ادا کریا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں وہ آزادی اور کشادگی نظر نہیں آتی، جو جمہوریت کی دین ہوا کرتی ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ2013ءکے انتخابات میں بھی یہی اجزائے ترکیبی کلیدی کردار ادا کریں گے؟ خاص طور پر کیا برادری ازم، فقہی مسلک اور علاقائی وابستگی کی بنیاد پر ووٹ کا استعمال کیا جائے گا؟ مَیں جب اس سوال پر غور کرتا ہوں تو مجھے بہت سی باتیں اس کا جواب نفی میں دینے پر اکساتی ہیں۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو میری یہ باتیں عجیب لگیں اور کچھ یہ بھی کہیں کہ مَیں ہوا میں اندھے تیر چلا رہا ہوں.... تاہم مَیں یہ کہنے پرمجبور ہوں کہ آنے والے انتخابات میں نئی نسل کا ووٹ ان اجزاءسے بہت دور رہ کر کاسٹ ہو گا۔ اس حسن ِ ظن کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ ہماری نئی نسل میں برادری ازم، فقہی مسلک یا علاقے کی بنیاد پر سوچنے یا فیصلے کرنے کا رجحان اس طرح کا رجعت پسندانہ نہیں، جس طرح کا ہماری نسل کا رہا ہے۔

 آج یہ بات ہر گھر کی کہانی بن گئی ہے کہ بچے ایک طرف ہیں اور والدین اپنے پرانے سیاسی نظریات یا وابستگی کی وجہ سے دوسری طرف کھڑے ہیں۔ نئی نسل کے سوچنے کا پیمانہ بالکل منفرد اور مختلف ہے۔ اس کا خمیر روائتی تصورات سے نہیں، بلکہ موجودہ حالات و واقعات سے اُٹھا ہے۔ مَیں حیران ہوتا ہوں جب کوئی نوجوان یہ کہتا ہے :”سر ہم کب تک جانوروں جیسی زندگی گزارتے رہیں“۔ ایسی باتیں سن کر اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ ہماری نوجوان نسل اپنے آج سے کس قدر مایوس اور اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ ہماری نوجوان نسل اپنے آج سے کس قدر مایوس ہے اور اسے بدلنے کی کتنی خواہش رکھتی ہے۔ یہی خواہش درحقیقت وہ الٰہ دین کا چراغ ہے جو آنے والے انتخابات میں کسی بڑے معجزے کو جنم دے سکتا ہے۔

عمران خان جس سونامی کی بات کرتے ہیں، وہ یہی ہے۔ تین کروڑ ووٹوں کا یہ سونامی کسی طرف بھی جا سکتا ہے اور کوئی بھی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس کے آگے اب بند باندھنا ممکن نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے روائتی ووٹ بنک پر انحصار کرنے کی بجائے اب اس یوتھ ووٹ پر توجہ دینا ہو گی۔ سیاست کا روائتی تصور یا گدلا پن اب شاید مزید قائم نہ رہ سکے۔ عمران خان نے تو باقاعدہ نئی نسل کو اپنی سیاست کا ہر اول دستہ بنا رکھا ہے، تاہم رفتہ رفتہ اب مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کو بھی یہ احساس ہو رہا ہے کہ اگر نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ نہ کیا تو یہ طوفان اُن کی سیاست کو بہا لے جائے گا، لیکن کیا وہ اپنی سیاست کے روائتی سیٹ اپ میں نوجوانوں کو اُن کا مناسب حصہ دینے پر بھی تیار ہیں؟ سالہا سال سے کبھی ایک اور کبھی دوسری جماعت میں جانے والے امیدواروں کو ہی اگر سامنے لانا ہے، تو شاید نوجوانوں کو متوجہ کرنے کا خواب پورا نہ ہو سکے۔

 عمران خان نے تو25فیصد ٹکٹیں نوجوانوں کو دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ووٹروں کی تعداد سوا آٹھ کروڑ ہے، اس طرح اگر تین کروڑ ووٹ 18سال کی عمر کے نوجوانوں اور ایک کروڑ 18سے25 سال تک کے نوجوانوں کے ہوں، تو یہ تقریباً کل ووٹوں کا50فیصد بنتا ہے۔ نمائندگی کا اصول تو یہی ہے کہ اس کے مطابق حصہ دیا جائے۔ آج نہیں تو الیکشن مہم کے دوران یہ نکتہ ضرور اُٹھایا جائے گا کہ کس جماعت نے نوجوانوں کو زیادہ ٹکٹ دیئے ہیں اور وہی ایک ٹرننگ پوائنٹ بھی ثابت ہو سکتا ہے.... سوال پھر وہی ہے کہ آنے والے انتخابات کیا واقعی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوں گے؟ میرا جواب ایک بار پھر اثبات میں ہے۔ مجھے تو نئی نسل کے حوالے سے تبدیلی کی ہوائیں اپنے چاروں طرف محسوس ہو رہی ہیں اور یقین ہو چکا ہے کہ وہ مایوسی جو ووٹ کے ذریعے تبدیلی نہ آنے کے حوالے سے ہم پر گزشتہ65سال سے طاری رہی ہے، اب اس کے بادل چھٹنے والے ہیں، اگر کسی کو میری اس بات پر شک ہے، تو وہ چند ماہ بعد ہونے والے الیکشن نتائج کا انتظار کرے۔  ٭

مزید :

کالم -