”سپوتنک“ بنام امامؑ سلام و کلام

”سپوتنک“ بنام امامؑ سلام و کلام
”سپوتنک“ بنام امامؑ سلام و کلام

  

لاہور سے شائع ہونے والاماہانہ جریدہ ”سپوتنک“(SPUTINK) ایک ایسا منفرد رسالہ ہے جو ”کلاسیک“ کے آغا امیر حسین کے حُسنِ ذوق اور ذہنی اُپج کا غماز ہے۔ گزشتہ تئیس برس سے شائع ہونے والے اس جریدے کی اب انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی پوری کی پوری کتاب ایک ہی شمارے میں سمو دی جاتی ہے۔ یوں جو کتاب الگ سے کم از کم دو، تین سو روپے میں خرید کر پڑھنی پڑے وہ محض چالیس روپے میں سستے ایڈیشن کے طور پر دستیاب ہو جاتی ہے۔ آغا امیر حسین کے ماہ بہ ماہ حالاتِ حاضرہ پر شذرات اور چیدہ و چُنیدہ مضامین اس پر مستزاد ہیں۔ دسمبر 2012ءکا خصوصی شمارہ پیشِ نظر ہے۔ ایک پوری کتاب ”بنامِ امامؑ سلام و کلام“ کے عنوان سے اس میں شائع کی گئی ہے، جس کا مرتب یہ خاکسار ناصر زیدی ہے۔ ”عرضِ مرتب“ کے عنوان سے مرتب کا کہنا ہے:

”مدت سے آرزو تھی، تمنا تھی، خواہش تھی کہ عزائیہ کلام کا ایک انتہائی معیاری جامع اور ہر لحاظ سے منفرد انتخاب شائع کراو¿ں۔ یہ سعادت آغا امیر حسین کے اشاعتی ادارے ”کلاسیک“ کے توسط سے حاصل ہو رہی ہے۔ اس مجموعہء”سلام و کلام، بنام امام عالی مقام“ میں حضرت حسینؑ اور شہدائے کربلا کے ساتھ ساتھ مقتدر آئمہ کرام پر بھی اظہارِ عقیدت کی مسلسل رو نظر آئے گی۔ یہ قطار اندر قطار عقیدت و مو¿دت و محبت کے پھول ہیں، جن کی بھینی بھینی خوشبو سے یقیناً قارئین کے مشامِ جاں معطر ہو سکیں گے۔ اس انتخاب کے لئے خاصی محبت آمیز عرق ریزی ادب سے متعلق مختلف رسائل و جرائد اور اخبارات و کتب کو ممکنہ حد تک کھنگالا گیا ہے، تب جا کے گوہرِ مقصود نکالا گیا ہے۔ بطورِ خاص یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ عقیدے اور عقیدت کو چُھوتا ہوا یہ انتخاب کلام و سلام ہر ایک کے لئے یکساں محور و مرکزِ نگاہ بن سکے“!

خاکسار مرتب کا یہ دعویٰ، بے دلیل ہرگز نہیں۔ ”عقیدت گزاران“ کی فہرست پر ایک نظرِ غائر ڈالنے سے ہی بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کیسے کیسے مختلف مسالک کے مختلف العقیدہ، مقتدر شعرائے کرام کے کلام سے گُلہائے رنگا رنگ کو چُن کر ایک گلدستے کی شکل دی گئی ہے:انتخاب در انتخاب کی صورت میں کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:

نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد کافر ہے

رکھے امامؑ سے جو بغض کیا کہیں اس کو

مرزا غالب

جوانانِ حسینیؑ نے صفیں توڑیں پرے اُلٹے

نہ بُھولے گی قیامت تک لڑائی مرنے والوں کی

میر انیس لکھنوی

ہرچند جور و جبر نے چاہا یہ بارہا

ہو جائے محو یادِ شہیدانِ کربلا

باقی رہے نہ نام زمیں پر حسینؑ کا

لیکن کسی کا زور عزیزو! نہ چل سکا

عباسِؑ نامور کے لہو سے دُھلا ہوا

اب بھی حسینیت کا عَلم ہے کھلا ہوا

جوش ملیح آبادی

کہتی ہے سرخیءعارض کہ مبارک شبیرؑ!

آپ کا لال ہوا فدیہءدرگاہِ قدیر،

سُرخ رُو دینِ پیمبرؑ ہُوا، اِنا للہ!

علامہ جمیل مظہری

گھر لُٹانا، جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ لے

جانِ ما، تُم پر فِدا اے خاندانِ اہل بیت

مولانا حسن رضا خاں بریلویؒ

کر گئے اپنے عمل سے پرچم حق کو بلند

تا ابد اسلام پر باقی ہے احسانِِ حسینؑ

عرصہءمحشر میں جب ہو نفسانفسی کی پکار

ہو قمر کے ہاتھ میں اُس دن بھی دامانِ حسینؑ

خواجہ پیر محمد قمر الدین قمر (سیال شریف)

بغداد میں، عراق میں، خیبر میں شام میں

تھے جمع قتلِ شہءکو ستمگر کہاں کہاں؟

مرزا دبیر

آئیں گے اُن کی زیارت کو بھی قبروں میں حسینؑ

اور کیا مرتبہ اب چاہئے زواّروں کو؟

میر مونس لکھنوی

دل غمِ سرورؑ کی گرمی میں پگھلتے ہی رہے

تھے یہ بے روغن چراغ ایسے کہ جلتے ہی رہے

علامہ آرزو لکھنوی

یہ عنایتوں کی جزا ملی یہ ہدایتوں کا صلہ دیا

وہ چراغ قبرِ نبی کا تھا جسے کربلا میں بجھا دیا

علامہ نجم آفندی

الوہیت، رسالت اور امامت ماننے والا

اُٹھے گا حشر کے دن بے خطر دل پر علیؑ لکھ کر

شفا اُس کے لئے ناظرِ مقدر ہو ہی جاتی ہے

مریض دل کو دیتا ہوں مَیں جب نادِ علی لکھ کر

الحاج سید ناظر حسین شاہ ناظر زنجانیؒ

آبروئے عاشقاں تائب شہیدِؑ کربلا

افتخارِ فاتحِ خیبر حسینؑ ابنِ علیؑ

حفیظ تائب

وفائے حضرتِ عباسؑ پر تحیر کیا

ہوئے تھے دہر میں پیدا ہی یہ وفا کے لئے

مرے رسول نے کیا کیا چراغ چھوڑے ہیں

کوئی نجف کے لئے کوئی کربلا کے لئے

صبا اکبر آبادی

جو خالقِ گلشن تھے وہی وقفِ خزاں تھے

دریاو¿ں کے مالک تھے مگر تشنہ وہاں تھے

جو خون کا قطرہ تھا، وہ تاریخ کی لو تھا

نیزوں پہ جو سر تھے وہ ابدیت کا نشاں تھے

احمد ندیم قاسمی

بیداریءضمیرِ دو عالم کے واسطے

سورج بھی مانگتا ہے ضیا تیرے خون کی

مظفر وارثی

اے ساکنانِ گنج شہیداں سلام ہو

اے حاملانِ سطوتِ ایماں سلام ہو

اے دُودمانِ فخر رسولاں سلام ہو

اے وارثانِ سُنت و قرآں سلام ہو

رخسارِ حق کا غازہ تمہارا لہو ہُوا

تم سُرخرو ہوئے تو یہ دیں سرخرو ہوا

تابش دہلوی

کون تڑپایا گیا کرب و بلا کی خاک پر

کس کا ماتم، ماتمِ تاریخِ انساں ہوگیا

آغا شورش کاشمیری

کچھ بھی کر لو یا علیؑ کہنا پڑے گا دوستو!

یہ وظیفہ شرط ہے ردِ مصیبت کے لئے

ہرزمانے میں ملی ہے قصرِ شاہی کے قریب

مُفتیوں کی کھیپ فتوو¿ں کی تجارت کے لئے

اُمید فاضلی

ہر درد کا علاج ہے ذکرِ ابوترابؑ

حلالِّ مشکلات ہے نامِ علیؑ ولی

محمد افضل طور

لباس ہے پھٹا ہوا، غبار میں اَٹا ہوا

تمام جسمِ ناز نہیں چِھدا ہوا کٹا ہوا

یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہسوار ہے

کہ ہے ہزار قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا

یہ بالیقیں حسینؑ ہے

نبی کا نُورِ عین ہے

ابوالاثر حفیظ جالندھری

حسینؑ تیرا، حسینؑ میرا

حسینؑ اُن کا حسینؑ اِن کا

حسینؑ جگ کا حسینؑ رب کا

حسینؑ سب کا

مشیر کاظمی

جو پوچھو کفر پر کس نے کیا اسلام کو غالب؟

کہیں گے ہم، ابوطالب، ابو طالب، ابو طالب

سید ظہور حیدر جارچوی

پہلے سوئے تو کوئی چھاو¿ں میں تلواروں کی

اتنا آساں تو نہیں نفسِ پیمبر ہونا

ہوش ترمذی

غمِ حسینؑ سے زخمی ہیں جن کے قلب و جگر

وہ ماتمِ شہِ عالیؑ مقام کرتے ہیں

پروفیسر باقر رضا زیدی

جلا رہے تھے لہو سے چراغِ عزم و یقیں

دلوں میں روشنی ترسیل کر رہے تھے حسینؑ

اعجاز رحمانی

مظہر حق و صداقت جلوئہ ایماں حسینؑ

وہ امامِ حق پسنداں وہ نبی کا نورِ عین

چیف جسٹس(ر) رانا بھگوان داس بھگوان

سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت

مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہے

افتخار عارف

راہِ خدا میں لائے تھے بس اک پسر خلیلؑ

کُنبہ تمام اپنا لُٹایا، حسینؑ نے

جسٹس(ر) محمد الیاس

تاروں کی دھڑکتی چھاتی سے ، مہتاب کے داغ سے روشن ہے

شبیرؑ کا ماتم چاند میں ہے، شبیرؑ کا ماتم تاروں میں

انوار قمر

دل میں جو بغض پنجتن رکھے

وہ کہے بھی تو کب حسینؑ کا ہے؟

ناصر زیدی

”مُشتے نمونہ از خروارے“۔ آخر کہاں تک؟ اور کب تک؟

مشک آنست کہ خود بہ بُوید نہ کہ عطار بگوید“.... ”سپوتنک“ خرید کر پڑھ لیجئے۔ اس کے دامن میں ابھی اور بھی ہے کیا کیا کچھ؟

مزید :

کالم -