ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد....؟

ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد....؟
ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد....؟

  

وہ مصر ہیں کہ سیاست نہیں کر رہے، نظام کی تبدیلی کے لئے عوامی ذہن تیار کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر سیاست ہی کرنا ہوتی تو اُن کے پاس ابھی تک پاکستان عوامی تحریک کا پلیٹ فارم موجود ہے۔ یہ کام تو منہاج القرآن کا ادارہ کر رہا ہے، جو ایک تبلیغی رفاہی ادارہ ہے۔ اسی منہاج القرآن کے ناظم اعلیٰ (سیکرٹری جنرل) ڈاکٹر رحیق عباسی مہربانی سے ہمارے دفتر تشریف لائے اور کافی دیر تک تبادلہ ¿ خیال کیا۔ درحقیقت سیاست نہیں، ریاست کے بچاﺅ کے نعرے کے تحت پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کینیڈا میں کئی سال مقیم رہے اور تالیف و تصنیف کا کام کرنے کے بعد اب پاکستان آ رہے ہیں۔ اُن کا اور اُن کی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے، البتہ جدوجہد کریں گے کہ سیاست کی جگہ ریاست مقدم رہے۔ اس کے لئے ان کے پروگرام میں یہ نعرہ ہے کہ موجودہ انتخابی نظام ریاست نہیں بجا سکتا .... ابھی تک اُن کی طرف سے متبادل نظام کا تفصیلی خاکہ سامنے نہیں آیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری ذہین شخص ہیں، وہ اچھے منتظم بھی ہیں۔ اس کا اندازہ منہاج القرآن کے پورے سیٹ اپ سے ہو جاتا ہے، وہ جس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، شاید اس میں وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے جدید نظام مواصلات (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کو اپنایا۔ ویڈیو ریکارڈنگ، انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع سے استفادہ کیا۔

 منہاج القرآن کے تحت تعلیمی شعبے کی طرف توجہ دی تو پھر منہاج القرآن یونیورسٹی تک قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ ہم بھی اس ادارے کی کارکردگی کے قائل ہیں، اسی لئے جب ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے سیاست میں آئے تو ہمیں کچھ اچھا نہ لگا اور ہم گاہے بگاہے ان سے گزارش کرتے رہے کہ ان کا تبلیغی اور تعلیمی مشن اور کام بہت اچھا ہے، یہ اُن کی پوری توجہ چاہتا ہے، اس لئے اُن کو سیاست چھوڑ کر ادھر توجہ دینی چاہئے۔ پھر وہ اتحادی سیاست کرتے رہے، الگ ہوتے اور پھر میدان میں آ جاتے، بالآخر اکیلے رکن قومی اسمبلی بن گئے۔ اس کھیل میں ان کو مزہ نہ آیا تو انہوں نے مستعفی ہونے کے علاوہ ایک بار پھر سیاست سے تائب ہونے کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس میں اپنے استعفا کا اعلان کیا تو ساتھ ہی ہمیں ”الزام“ دیا کہ یہ سب وہ ہمارے کہنے یا اکسانے پر کرنے جا رہے ہیں۔ بہرحال ہم نے اس فیصلے کی تائید کی اور کہا کہ تعلیمی اور دینی میدان میں وہ جو کام کر رہے ہیں، وہ بہت زیادہ عزت والا ہے۔ سیاست میں وہ زیادہ سے زیادہ کوئی وزیر اور اگر بالفرض وزیراعظم بھی بن جائیں، تو پروٹوکول تو مل جائے گا، لیکن عزت کے جس مقام پر وہ منہاج القرآن کے ادارے اور اپنے دینی، تعلیمی اور تخلیقی کام کے حوالے سے ہیں، اس جیسی عزت نہیں پا سکیں گے۔

  ڈاکٹر طاہر القادری جو اب شیخ الاسلام کے لقب کو بھی اپنے نام کا ہی حصہ جانتے ہیں، ملک سے باہر چلے گئے۔ کینیڈا میں مقیم تحقیقی کام میں مصروف ہو گئے اور کئی کتابیں تصنیف کرنے کے علاوہ قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کی۔ اس عرصے میں وہ پاکستان، یعنی لاہور کا ایک آدھ چکر لگا جاتے، ایک بار یوم عید میلاد النبی پر اور پھر رمضان المبارک کے آخر ی عشرے میں جب شہر اعتکاف بسایا جاتا، تاہم چند سال سے انہوں نے یہ بھی ترک کر رکھا تھا اور وہ یہ کام بھی ویڈیو لنک ہی سے لیتے رہے۔ اب یکایک اُن کا یہ فیصلہ آ گیا کہ وہ ریاست بچانے آ رہے ہیں۔ اُن سے پہلے تحریک انصاف کے عمران خان انقلاب لا رہے ہیں اور سونامی آ رہا ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے بہت بڑے فین اور سیکرٹری اطلاعات منہاج القرآن قاضی فیض الاسلام اخبار والوں سے رابطہ رکھتے ہیں۔ ان سے بات اور ملاقات ہوئی تو ہم نے ان کو سیاست سے دستبرداری والا قصہ اور زمانہ یاد کراتے ہوئے کہا کہ وہ پھر سے ہمارا پیغام عرض کر دیں کہ سیاست ڈاکٹر طاہر القادری کے لئے موزوں نہیں۔ انہوں نے پیغام پہنچانے کا وعدہ کیا، ساتھ ہی منہاج کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق عباسی سے ملاقات کے لئے بھی کہا۔ ہم نے حامی بھری تو انہوں نے اہتمام کر دیا، اسی کے مطابق ڈاکٹر رحیق عباسی ہمارے دفتر میں تھے اور ہم سے تبادلہ ¿ خیال ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر رحیق عباسی کا موقف یہی تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری سیاست کے لئے نہیں آ رہے۔ ہم نے اگر سیاست کرنا ہو تو پاکستان عوامی تحریک موجود ہے۔ ہم نے گزارش کی کہ انتخابی نظام بدلو.... ”سیاست نہیں، ریاست بچاﺅ“ بذات خود یہ نعرہ ہی سیاسی ہے تو ان کا جواب تھا، یہ اپنی جگہ ہو سکتا ہے، لیکن ڈاکٹر طاہر القادری اور ہمارا واضح اعلان ہے کہ ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

 ہم نے گزارش کی کہ آپ عوام کو یہ باور نہیں کرا سکتے، کون یقین کرے گا؟ انہوں نے جواب دیا، ہمارا عمل ہماری شہادت دے گا۔ ڈاکٹر رحیق عباسی نے عوامی مسائل کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ موجودہ انتخابی نظام کے تحت کوئی بھی اہل اور قابل آدمی اپنی اہلیت اور قابلیت کی وجہ سے اسمبلی تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی حکومت کر سکتا ہے۔ اب اگر یہی نظام رہتا ہے تو چہرے بھی یہی رہیں گے۔ ہم نے پوچھا پھر کون سا نظام ہونا چاہئے؟ اس مسئلے پر بات نہ ہوسکی کہ چند اور احباب آ گئے اور بات دوسری طرف نکل گئی۔ بہرحال ہماری گزارش تو یہی تھی کہ یہ سیاست ہی ہے اور پھر ہم نے منہاج القرآن کے کام کی تعریف کی کہ وال چاکنگ اور بینرز کے ذریعے پروپیگنڈہ اور مہم اچھی ہے۔ ہم نے لاہور کے علاوہ دوسرے شہرں میں بھی دیکھی ہے، چونکہ یہ جلسہ یا استقبال پورے پاکستان سے آنے والوں نے کرنا ہے، اس لئے یقینا یہ بڑا اور موثر اجتماع ہو جائے گا، لیکن اصل بات پھر وہی ہے۔

 جواب ملا، انشاءاللہ یہ آگے بھی بڑھے گا۔ اچھی ملاقات تھی جو نامکمل سی رہی۔ بعد میں ڈاکٹر طاہر القادری نے پھر ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیا کے حضرات سے بات چیت کی، اُن کا موقف بھی یہی تھا کہ اس وقت مسئلہ سیاست کا تو ہے ہی نہیں، ریاست کا ہے اور ریاست کا تحفظ موجودہ نظام انتخاب سے ممکن نہیں۔ اس بات کا جواب نہیں تھا کہ اگر یہی موقف ہے تو پھر ”یہ“ نظام تبدیل کیسے ہو گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے ماننے والے بہت مستعدی سے اپنے کام میں لگے ہیں، دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، اس طرح وہ ایک اچھا استقبال کرانے میں یقینا کامیاب رہیں گے، لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر سیاست یا انتخابات میں حصہ نہیں لینا تو پھر نظام کیسے بدلے گا؟ نظام کی تبدیلی کے لئے تو اختیار چاہئے اور موجودہ حالات میں یہ اختیار انتخابی عمل میں حصہ لے کر اوراکثریت حاصل کرنے ہی سے ممکن ہے، اگر آپ انتخابی عمل سے باہر رہتے ہیںتو پھر آپ کس طرح نظام تبدیل کر لیں گے؟اس سے تو یہی احساس ہو گا کہ آپ بھی ان قوتوں کی معاونت کر رہے ہیں جو خلفشار پیدا کرتی ہیںتاکہ........!

جہاں تک ہمارا یقین ہے تو ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد اور استقبال ہی سیاست میں عملی حصہ لینے کا اعلان یا ذریعہ بنے گا، اگر نہیں تو پھر ہمارے لئے یہ معمہ ہی ہے۔ اس سے بہتر عمران خان ہیں جو انقلاب اور تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں تو اس کا ذریعہ انتخابی اور جمہوری عمل ہی بیان کرتے ہیں۔ یوں کوئی ابہام تو نہیں، لیکن جہاں تک ڈاکٹر طاہر القادری کا تعلق ہے، تو وہ منطقی شخصیت ہیں اور نئی بات کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں کیسا نعرہ ہے....”سیاست نہیں ریاست بچاﺅ“.... دوسرے معنوں میں ڈاکٹر طاہر القادری بھی ان سیاست دانوں کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں جو سیاست اس ملک میں کرتے اور عزت کماتے ہیں،اسی سیاست کے بل پر اقتدار چاہئے، لیکن دن رات ملک ٹوٹنے کی بات کرتے رہتے ہیں، (نعوذ باللہ).... ہمیں تو ان نعروں سے خوف آتا ہے جو ملک توڑنے کے حوالے سے لگائے جاتے ہیں۔ اللہ ہم پر اور ملک پر رحم کرے اور ان لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عنائت فرمائے۔ ٭

مزید :

کالم -