غیر سرکاری تنظیموں کا آڈٹ

غیر سرکاری تنظیموں کا آڈٹ

  

قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے غیر ملکی امداد سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں اور باالخصوص کیری لوگر فنڈکے اربوں ڈالر کے متعلق حکومت سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے اس امر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں جو سرکاری فنڈز خرچ کر رہی ہیں ان پر حکومت کو کسی طرح کا کنٹرول حاصل نہیں ۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف ملک میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں(این جی اوز)کے کام کی موثر نگرانی کا طریق کارطے کرنا چاہئیے بلکہ ان کے فنڈز ، خواہ وہ دوسرے ممالک سے آ رہے ہوں یا بین الاقوامی امدادی اداروں سے، ان کی باقاعدہ جانچ پڑتال بھی کرنی چاہئیے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ ہفتے اکنامکس افیئرز ڈویژن، وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی کمیشن سے خصوصی طور پر ملک میں غیر ملکی امداد سے منصوبے چلانے والی غیر سرکاری تنظیموں کے متعلق بریفنگ لے گی۔ کمیٹی کے دوارکان نے خصوصی طور پر امریکہ کی ایجنسی یوایس ایڈ کے متعلق تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ کسی بھی متعلقہ حکومتی ادارے کی نگرانی کے بغیر مکمل طور پر آزادانہ طریقے سے کام کررہا ہے۔ کیری لوگر بل کے تحت جو رقم پاکستان کو ملتی ہے وہ سٹیٹ بنک آف پاکستان میں آتی ہے اور وہاں سے یوایس ایڈ کو مل جاتی ہے ۔ اس طرح اس رقم سے چلنے والے تمام ترقیاتی منصوبے بھی مکمل طور پر یوایس ایڈ کے ہاتھ میں ہیں، حکومت پاکستان کا ان منصوبوں پر قطعی کوئی کنٹرول نہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے یہ خیال ظاہر کیا کہ یہ بہت موزوں وقت ہے کہ حکومت ایسے تمام منصوبوں پر موثر کنٹرول حاصل کرے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ جو ایجنسیز حکومت سے رقم لیتی ہیں،آخر آڈیٹرز کو ان کا آڈٹ کرنے سے کس نے روکا ہے۔؟

پبلک اکا ﺅ نٹس کمیٹی کی طرف سے این جی اوز اور بیرونی امداد سے چلنے والی ایجنسیز کے کام اور فنڈز پر حکومتی کنٹرول کی ضرورت کا بجا طور پر احساس کیا گیا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ایک بے حد اہم اور حساس معاملہ ہے جو ہماری قومی سلامتی پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ جب تک ہماری حکومتیں کرپشن سے پاک اور مضبوط تھیں ہر طرح کی غیر ملکی امداد ہمارے اپنے متعلقہ سرکاری محکموں ہی کے ذریعے سے خرچ ہوتی تھی۔ ان کی طرف سے بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کا آڈٹ بھی کرایا جاتا تھا اور ان کی مکمل رپورٹس بھی تیار کی جاتی تھیں ، جو اعلیٰ سطح پر حکومت کے علاوہ بیرونی ایجنسیز کو بھی منصوبوں کی تکمیل کے مراحل سے آگاہ کرتی تھیں۔ سارا کام ہمارے اپنے محکموں کی طرف سے کرایا جاتا تھا۔ لیکن جب سرکاری اداروں میں کرپشن بڑھی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے بین الاقوامی ایجنسیز سے ملنے والی امداد کے نتائج مضحکہ خیز حد تک کم رہے تو اس سے ان ایجنسیز کو این جی اوز کے ذریعے اپنی رقم خرچ کرنے کا بہانہ ہاتھ آگیا۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ تیسری دنیا کی سرکاری مشینری کرپشن کی دلدل میں اتنی گہری دھنس چکی ہے کہ تمام سرکاری فنڈز اور بالخصوص امدادی رقوم کو شیر مادر سمجھ کر ہضم کرجانا اپنا حق سمجھتی ہے ۔ غریبوں کے لئے دی گئی تمام بیرونی رقوم حیلوں بہانوں سے اوپر بیٹھے منصوبہ سازوں اور بیوروکریٹس ہی کی جیب میں چلی جاتی ہیں۔

امریکہ ، اور دوسرے ملکوں کی بین الاقوامی ترقی کے لئے قائم کی گئی ایجنسیز اور اقوام متحدہ کے مختلف ترقیاتی اداروںسے بلا شبہ ہمیں بہت فنڈز ملے ۔ اس مرحلے پر پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کی طرف سے جن خدشات کا اظہار کیا گیاہے ۔ یہی سب کچھ بلکہ ان کے علاوہ بھی این جی اوز سے بہت سی شکایات پاکستان کے عوام کو رہی ہیں۔ ایک سطح پر ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں نے یہ شکایت بھی کی کہ یہ غیر ملکی امداد غیر ملکی طاقتوں کی طرف سے پاکستان میں فرقہ واریت ، علاقائی تعصب ، نسلی اور لسانی فساد برپا کرنے کے لئے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں ہم آج دہشت گردی کے جن سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ، جس طرح کسی ٹھوس جواز اور بنیاد کے بغیر ہر کوئی حکومت اور دوسرے گروہوں کے خلاف محاذ بنائے ہوئے ہے ، اس سلسلے میں یہ تو طے ہے کہ اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے۔ یہ امکانات بھی موجود ہیں کہ ہمارے ملک میں کسی طرح کی روک ٹوک کے بغیر کام کرنے والی غیر ملکی ترقیاتی ایجنسیز یا ان کے کچھ لوگ بھی ہمیں کمزور کرنے کے منصوبوں میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ لیکن اس کے علاوہ دوسرے بہت سے ایسے بڑے ذرائع بھی ہیں جن کے ذریعے ہمارے ہاں تخریب میں مصروف لوگوں کو رقوم فراہم ہوسکتی ہیں ۔ مثلاً غیر ملکی کاروباری ادارے اور غیر ملکی سرمایہ کار، ڈپلومیٹس، اور خود ہمارے بعض بیوروکریٹس جو مشکوک قسم کی این جی اوز کے لئے سرکاری فنڈز اور وسائل فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔ کمیٹی کو قومی سلامتی کے پیش نظر ان سب امکانات کا بھی جائزہ لینا چاہئیے۔

ہمارے ہاں سماجی تنظیموں اور کواپریٹو سوسائٹیز کے کام کی نگرانی اور آڈٹ وغیرہ کا ایک نظام موجود ہے۔ سوشل ویلفیئر کے ڈائریکٹوریٹ سے فلاحی کام کرنے والی تنظیموں کی رجسٹریشن کی جاتی ہے ۔ کواپریٹو سوسائٹیز کی رجسٹریشن اور ان کے ارکان کے حقوق کے تحفظ کے لئے رجسٹرار کواپریٹو سوسائٹیز قواعد و ضوابط کے مطابق رجسٹرڈ سوسائٹیز کے کام کی نگرانی اور شکایت ملنے پر ضروری کارروائی کر سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کے کام کی نگرانی کے لئے علحدہ ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے ، جو اپنے جامع قواعد و ضوابط کی روشنی میں ان کے ترقیاتی منصوبوں کے کام کی نگرانی کرے اور ان کے سالانہ آڈٹ کی ذمہ داری بھی نبھائے۔

اس طرح ایسے ادارے کے کام کا دائرہ تمام مدرسوں یا خیراتی اداروں تک بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔ عوام سے فنڈز جمع کرنے والے تمام فلاحی اداروں کے لئے یہ بھی لازمی قرار دیا جانا چاہئیے کہ وہ کوئی رقم بھی اپنے ادارے کے منظور شدہ اکاﺅنٹ کے نام چیک کے سوا کسی دوسرے طریقے سے وصول نہ کریں۔ ان کی تمام آمدنی ، عطیات اور اخراجات ان کی ویب سائٹ پر موجود ہوںاور وہ اس طرح کی شفافیت کے بغیر کام نہ کرسکیں۔ اس طرح جہاں چندے اور عطیات دینے والوں کو اپنی رقوم کے جائز اور درست استعمال کا اطمینان ہو سکے گا ، وہاں منفی اورتخریبی کاموں پر بھی یہ فنڈز استعمال نہیں ہو سکیں گے۔

ہمارے بنک کھاتوں کا موجودہ نظام اور اس کے ساتھ نادرا کا ڈیٹا بنک ایسی نعمت ہیں کہ ٹیکس چوری کے علاوہ کسی طرح کے جرائم کرنے والوں تک ان کے بنک اکاﺅنٹس کے ذریعے پہنچنا ممکن ہو گیا ہے۔ اب کرپشن اور دوسرے سنگین جرائم اور ان کے خاتمہ کے درمیان اگر کوئی چیز حائل ہے تو وہ سیاسی عزم کی عدم موجودگی ہے۔

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی طرف سے ملک میں کروڑوں اربوں ڈالر کے اہم اور کسی حد تک مشکوک کام میں بلا روک ٹوک مصروف تنظیموں اور ان کے کام پر بلا شبہ بجا طور پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کے کام کو کسی ضابطے ، حکومتی نگرانی میں لانے اور ان کا آڈت کرانے سے ان کے کام میں شفافیت اور باقاعدگی پیدا ہوگی اور قوم جو عرصہ سے اس سلسلے میں کچھ کرنے کے لئے تڑپ رہی ہے مطمئن ہو سکے گی۔ امید کرنی چاہئیے کہ کمیٹی نے جس کام کا آغاز کیا ہے وہ اسے قومی امنگوں کے مطابق کسی انجام تک پہنچائے گی۔

ہسپتالوں کی ویسٹ، ری سائیکل

خبر بڑی ہے،اشاعت سنگل کالم کے طور پر اندرونی صفحات میں ہوئی۔اس میں بتایا گیا ہے کہ شاہدرہ اور کھوکھر ٹاﺅن کی دو فیکٹریوں پر چھاپہ مارا گیا اور وہاں سے ہسپتالوں کی ویسٹ پکڑی گئی جسے ری سائیکل کیا جارہا تھا،یہ کتنا بڑا ظلم ہے اس کا اندازہ طب کے ماہر حضرات سے بات کرکے ہی کیا جا سکتا ہے۔ہسپتالوں کی ویسٹ کو ضائع کرنے کے لئے خصوصی برقی بھٹیوں کا کوئی اہتمام نہیں کیاجاتا، لاہور کے ایک ہسپتال میں یہ نظام ہے اور دوسرے ہسپتالوں نے اس کے ساتھ معاہدے کئے ہوئے ہیں، لیکن کبھی تو یہ بھٹی خراب ہوتی ہے اور دوسرے ہسپتال اپنی ویسٹ یہاںنہیں بھیجتے۔

ہسپتالوں کی ویسٹ میں ہر بیماری کے جراثیم ہوتے ہیں، ایسے امراض والے بھی جو مرتے ہی نہیں اور صحت مند انسانوں کے لئے نقصان کا باعث بنتے ہیں، یہ ویسٹ عام کوڑے کی طرح پھینک دی جاتی ہے اور اس میں سے پولی تھین،شیشے اور گتے کوڑا اٹھانے والے لے جا کر بیچ دیتے ہیں، لیکن یہ مسئلہ توپوری ویسٹ کا ہے جوری سائیکلنگ کے لئے بیچ دی جاتی ہے۔اس سے پہلے استعمال شدہ سرنجوں کا مسئلہ تھا، اس کے لئے تھوڑی محنت کی گئی تو سرنج کاٹ کر پھینکی جانے لگی لیکن اب بھی اکثر نجی کلینکوں میں ایسا نہیں کیا جاتا اور استعمال شدہ سرنجیں بھی جوں کی توں کوڑے میں ڈال دی جاتی ہیں جہاں سے کوڑا اٹھانے والے لے جا کر بیچ دیتے اور یہ دوبارہ استعمال کے قابل بنا دی جاتی ہیں اس طرح امراض کے پھیلاﺅ کا سبب بنتی ہیں۔

یہ سلسلہ جاری ہے۔ذمہ دار محکمے کوئی دھیان نہیں کرتے، شہر میں جگہ جگہ کوڑا بھی جلایا جاتا ہے ، نہ تو ماحولیات والے، نہ ہی ٹاﺅن اور شعبہ صفائی والے کوئی کارروائی کرتے ہیں، امراض بڑھ رہے ہیں، ہسپتالوں میں ہجوم ہے۔حکومت کو ایسے امور پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔

مزید :

اداریہ -