لڑائیاں

لڑائیاں
لڑائیاں

  


ٹی وی ٹاک شوز میں ہونے والی دیسی لڑائیوں کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی کوچوٹ نہیںلگتی اور عوام جب چاہیں چینل تبدیل کر کے جان چھڑوا سکتے ہیںکیونکہ ان ٹاک شوز میں ہونے والی لڑائیاں الزام تراشی کی ایسی فہرست ہے جس کو ثابت کرنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ، یہ دو ہمسائیوں کی وہ لڑائیاں ہیں جن کا کبھی کوئی انجام نہیں ہوتا ،بس پانی کے بلبلہ ...اِدھر ٹپکا،اُدھر تڑخا!

ضمنی انتخابات کے بعد ان لرائیوں میں شدت آگئی ہے، جیتنے اور ہارنے والے دونوں اگلے معرکے سے قبل تقریری معرکے سر کرنا چاہتے ہیں تاکہ رائے عامہ کو اپنے حق میںکر سکیں ، دیکھئے کون کتنا زور لگاپاتا ہے!

ٹی وی ٹاک شوز میں ہونے والی لڑائیوں کو مہذب لوگوں کا غیر مہذب رویے کہا جا سکتا ہے، ان ٹاک شوز میں ٹاک کم اور ٹاکرا زیادہ ہوتا ہے،کبھی پی ٹی وی کے ٹاکرا پروگرام میں سوائے ٹاک کے کچھ نہ ہوتا تھا، یہ طے کرنا مشکل ہے کہ آیا آج کل کے ٹاک شوز کا مقصد محض لڑائی ہے یا کچھ اور ،تاہم یہ طے ہے کہ کمرشلز اسی کو ملتے ہیں جو زیادہ چونچیں لڑواتا ہے ، اگرچہ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ چند ایسے پروگرام بھی ہورہے ہیں کہ جن میں کوئی سیاستدان مہمان نہیں بنتا لیکن اس کے باوجود ان پروگراموں کی ویوئر شپ اور کمرشل ویلیو کمال کی ہے ، نجم سیٹھی صاحب کا پروگرام آپس کی بات اور جناب مجیب شامی صاحب کا پروگرام نقطہ نظر اس کی واضح مثالیں ہیں، ان دو صاحبان نے ثابت کیا ہے کہ کرنٹ افیئرزکے پروگرام کو contentکے زور پر بھی کامیاب بنایا جا سکتا ہے!

پاکستان کی سیاست کا المیہ ہی یہ ہے کہ اس کو ایشوز پر نہیں الزامات پر چلایا جاتا ہے، جتنا بڑا الزا م اتنا بڑا سیاستدان ، جیسے ذوالفقار علی بھٹو پر پاکستان توڑنے کا الزام،یہ اتنا بڑا الزام ہے کہ بھٹو پچھلے 44برسوں سے پاکستان کی سیاست میں relevant ہے،الزامات کا سلسلہ لیڈرشپ سے شروع ہوتا ہے اور ایک عام کارکن تک جاپہنچتا ہے، نتیجہ ایک ختم نہ ہونے والی لڑائی ہے، پاکستان کی ترقی معکوس کا سبب ہی شدید اختلاف رائے ہے، زرداری صاحب کی مفاہمت کی سیاست سے پاکستان کو کچھ افاقہ نہیں ہو ا،تو تو میں میں کی ایک تکرار ہے کہ ختم نہیں ہو رہی، کہیں یہ لڑائی مار کٹائی میں نہ تبدیل ہو جائے، شیخ رشید ایسی صورت حال کو خونی الیکشن سے تعبیر کرتے ہیں، صدر آصف علی زرداری نے ٹی وی اینکرز کو سیاسی اداکاروں کا خطاب دیا تھا ، عوا م کی اکثریت ٹی وی ٹاک شوز کو سیاسی ڈرامے سمجھ کر دیکھتی ہے، ان پروگراموں میں لڑائی کا مرکزی نکتہ یہ ہوتاہے کہ میں ٹھیک ہوں، میرا لیڈر ٹھیک ہے اور تم غلط ہو، تمھارا لیڈر غلط ہے، جس دن ہمارے سیاستدان یہ کہنا سیکھ گئے کہ میں غلط ہوں اور تم ٹھیک ہو ، اس دن لڑائی ختم ہو جائے گی اور ایشوز کی بنیاد پر گفتگو شروع ہوجائے گی!

 ہمارے ٹی وی ٹاک شوز پر چور بھی کہے چور چور کی کہاوت صادق آتی ہے، اسی لئے ہمارے ٹاک شوز کو مرغوں کی لڑائی سے تعبیر کیا جاتا ہے،بس شور ہی شور، ہمارے ہاں ٹی وی ٹاک شوز کا کل مقصد مخالف کو نیچا دکھانا، اسے کرپٹ اور نااہل ثابت کرنا ہوتا ہے، امریکہ میں  ہمارے صدارتی انتخاب کے دوران مباحثے دنیا بھر میں دکھائے گئے، کہیں بھی محض الزام تراشی کو بنیا د نہیں بنایا گیا بلکہ عوام کے مسائل کو موضوع گفتگو بنایا گیا، ہمارے ہاںکوئی بھی منشور پر گفتگو کے لئے تیار نہیں، بس نواز شریف، آصف زرداری اور عمران خان موضوع بحث ہیں اور یہی لیڈران لڑائی کا سبب ہیں ، یہ لڑائیاں ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ تک بس کے سفرکے دوران دو مسافروں کے درمیان ہونے والی وہ تکرارہے جس کا سر ہوتا ہے نہ پیر ، بس وقت گزاری!

عالم یہ ہے کہ سیاستدان کسی پروگرام میں شرکت سے قبل پوچھتے ہیں کہ ان کے علاوہ کس کو مدعو کیا ہے، اپنے پائے کا پینل نہ ہو تو بیٹھنے سے صاف انکار کردیتے ہیں، اور چھوٹے چینلوں پر تو جانا پسند ہی نہیں کرتے، جو جتنا بڑا لڑاکا ہے ، اتنے ہی بڑے چینل کو ترجیح دے گا، اسی طرح سے جو اینکر بہتر طریقے سے لڑواسکتا ہے ، اسے اتنا ہی پرائم ٹائم ملتا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ لڑائی ذاتی نہیں دھڑے کی ہوتی ہے، عوام کی نہیں خواص کی ہوتی ہے، ان ٹاک شوز میں آنے والے گفتگو کے دھنی ہوتے ہیں، پاٹ دارآواز کے مالک اور دلائل کی گانٹھیں کمر پر لادے ہوئے ، ذرا فیصل رضا عابدی کو تصور میں لائیے جو کاغذات، اخباری تراشوں اور فائلوں کا انبار لے کر ٹی وی پروگراموں میں بیٹھا کرتے تھے، آج کل ہر سیاسی پارٹی نے خواتین کی ایسی فوج تیار کرلی ہے جو ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر اپنی اپنی پارٹی کا دفاع کرتی ہیں، شروع شروع میں تو بعض نے ایک دوسرے کے پوتڑے بھی پھول دیے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوتا!

یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ سیاستدان پروگراموں کی بریک کے دوران نہیں لڑتے، جونہی کیمرے آن ہوتے ہیں ان کے دماغ فیو ز ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں، لیکن ایسا نہیں کہ آف کیمرہ گفتگو بے کار ہوتی ہے ، وہ بھی اگر نشر ہو جائے جیسا کہ ایک مرتبہ ہو گئی تھی تو دیکھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے، یوٹیوب ایسے بہت سے چھوٹی سی بریک کے دوران کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہونے والے مناظر سے بھری ہوئی ہے جس میں بڑے بڑے عالم فاضل الف ننگا نظر آتے ہیں، یہی وجہ ہے ہمارے ہاں بہت سے خبرناک شو آہستہ آہستہ خطرناک شو بنتے جا رہے ہیں

مزید : کالم


loading...