پاکستان اقتدار کی خواہش اور بھارت کی سازش نے توڑا: غلام مصطفی کھر

پاکستان اقتدار کی خواہش اور بھارت کی سازش نے توڑا: غلام مصطفی کھر
پاکستان اقتدار کی خواہش اور بھارت کی سازش نے توڑا: غلام مصطفی کھر

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دست راست اور پنجاب کے سابق گورنر غلام مصطفی کھر نے پاکستان ٹوٹنے اور بنگلہ دیش بننے کے حقائق بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان اقتدار کی ہوس اور بھارت کی سازش کا نتیجہ تھا جبکہ مغربی پاکستان بچانے میں امریکہ نے اہم کردار ادا کیا۔ دنیا نیوز کے پروگرام ’نقطہ نظر‘ میں ’مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش ‘ کی کہانی بیان کرتے ہوئے غلام مصطفی کھر نے بتایا کہ جس روز ڈھاکہ میں فوجیں آمنے سامنے آئیں اس وقت ذوالفقار علی بھٹو مجھ سمیت اپنے معتمد ساتھیوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ رات کو کھانے کے بعد اچانک ہر طرف فائرنگ شروع ہوئی اور فوج ہی فوج نظر آنے لگی اور ہم سمجھے کہ شائد فوج نے شورش کرنے والوں کے خلاف ایکشن شروع کر دیا ہے کیونکہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے بعض اراکین کا خیال تھا کہ فوج کو موجودہ حالات میں ایکشن لے لینا چاہئے اور معلوم نہیں وہ کیوں دیر کر رہی ہے۔ ہمارا یہ بھی خیال تھا کہ شائد بھارت نے حملہ کر دیا ہے تب ذوالفقار علی بھٹو نے تمام ساتھیوں (سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران) کو اپنے پاس بلایا اور سب سے ایک ہی سوال پوچھا کہ آخری ایکشن ہو گیا ہے اب سوچیں کہ کیا کرنا چاہئے۔ آپ کے خیال میں کیا پاکستان بچ گیا ہے یا اس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن اور رضا رفیع نے میری اس بات کی تائید کی کہ پاکستان محفوظ نہیں رہا جبکہ محمود رضا قصوری، جے اے رحیم اور دوسروں نے کہا کہ پاکستان کا اینڈ ہو گیا جس سے ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ آپ تینوں درست کہتے ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان حالات میں وہاں سے نکلنا کیسے ممکن ہوا تو غلام مصطفی کھر نے بتایا کہ ایک فوجی کرنل نے آ کر کہا کہ فوری طور پر تیاری کریں آپ کی واپسی کا انتظام کر دیا گیا ہے، ہنگامی حالات میں تیاری کی گئی ہم سب کو ایک بڑی بس میں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کو کالے رنگ کی ایک پرانی مرسڈیز میں بٹھایا گیا۔ ہمارے اردگرد فوجی ہی فوجی تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی گاڑی آگے تھی۔ جب ہم گزر رہے تھے تو اردگرد فوجیوں کو دیکھ کر محمود قصوری اور جے اے رحیم سمیت کچھ لوگوں نے بس کے شیشے سے باہر نکل کر تالیاں بجائیں اور پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگایا جس پر میں نے ڈاکٹر مبشر حسن سے کہا کہ یہ لوگ پاگل ہیں کہ ہم پاگل ہیں تو ڈاکٹر مبشر حسن نے جواب دیا کہ بس خاموش رہو۔ ائیرپورٹ سے روائتی راستے پر نہیں چل سکتے تھے لہٰذا سیلون اترے جہاں ذوالفقار علی بھٹو سے سخت کشیدگی رکھنے والے جنرل عمر بھی ساتھ تھے۔ ائیرپورٹ پر جنرل عمر اور بھٹو کی کچھ گفتگو بھی ہوئی اس کے بعد ہم کراچی پہنچ گئے۔ اس سوال پر کہ ڈھاکہ سے واپسی پر کراچی میں ذوالفقار علی بھٹو نے یہ کیوں کہا کہ پاکستان محفوظ ہے تو غلام مصطفی کھر نے جواب کیا کہ قومی مفاد میں بعض سچ نہیں بولے جا سکتے کیا یہ مناسب تھا کہ ہم یہ کہتے کہ پاکستان کے ساتھ کیا ہوا ہے، کیا ایسا کہنے سے وہاں لڑنے والی فوج بچ سکتی اور میں یہاں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح مشرقی پاکستان کے ساتھ بھارت جیسے مضبوط دشمن کی سرحد تھی اگر بلوچستان کے ساتھ بھی کسی ایسے ملک کی سرحد ہوتی جو اسے اسی طرح سپورٹ کرتی جس طرح بھارت نے مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کیا تھا تو بلوچستان کے ساتھ بھی مشرقی پاکستان جیسا معاملہ ہو چکا ہوتا۔ اس سوال پر کہ شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو کے وہ کون سے چھ نکات تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ تمام نکات پر اتفاق ہو گیا ہے اور صرف ایک آدھ پوائنٹ باقی ہے تو غلام مصطفی کھر نے وضاحت کی کہ متفق کبھی بھی نہیں ہوئے تھے اگر اتفاق ہو جاتا تو یہ مسائل ہی پیدا نہ ہوتے۔ اصل بات صوبائی خودمختاری تھی جو اندھا دھند نہیں دی جا سکتی تھی۔ اس مرحلے پر انہوں نے روئیداد خان اور ذوالفقار علی بھٹو کی سانحہ مشرقی پاکستان سے سات آٹھ ماہ پہلے کی ایک ملاقات کا حوالہ دیا جس میں بھٹو سے گفتگو کرتے ہوئے روئیداد خان نے کہا تھا کہ مسٹر بھٹو مشرقی پاکستان آپ کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اب کوئی اسے واپس نہیں لا سکتا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد امریکی صدر نکسن سے مدد لینے کا احوال بیان کرتے ہوئے غلام مصطفی کھر نے بتایا کہ اقتدار میں آنے کے چند روز بعد ہی کمانڈر انچیف گل حسن نے بریفنگ میں واضح کر دیا تھا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ہم دفاع نہیں کرسکتے البتہ اگر پوری افواج اور لاکھوں شہری مروا بھی دیں تو چھ روز تک روک سکیں گے اگر دفاع کرنا ہے تو پھر فوج کو ہتھیار چاہئیں، یہ اطلاعات بھی تھیں کہ بھارت مشرقی پاکستان کے بعد ماندہ پاکستان پر بھی حملہ کر سکتا ہے جس کے بعد مجھے ذوالفقار علی بھٹو نے خصوصی ایلچی بنا کر اپنے خط سمیت صدر نکسن کے پاس بھیجا تو اس وقت کے سیکرٹری خارجہ عزیز احمد نے اعتراض کیا کہ اس نوجوان کو خارجہ امور کا کوئی تجربہ نہیں تو ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں جواب دیا کہ یہ فوجی حکومت نہیں سول حکومت ہے اور یہ میرا دست راست ہے، مجھے اس پر اعتماد ہے اگر آپ کو یہ منظور نہیں تو استعفیٰ دے دیں۔ میں اور سیکرٹری خارجہ عزیز احمد صدر نکسن کے پاس پہنچے تو یہ مجھے جان کر حیرانگی ہوئی کہ اسے پاکستانی سیاستدانوں سے کہیں زیادہ ہمارے ملک کے بارے میں علم تھا، ہم بھٹو کے خط کے ساتھ مطلوبہ اشیاءکی لسٹ بھی لے کر گئے تھے۔ وہاں میٹنگ میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنے صدر سے کہا کہ آپ اگر یہ ہتھیار دینا بھی چاہیں تو اس لئے نہیں دے سکتے کہ پاکستان کو ہتھیار کی فراہمی پر پابندی ہے ایسی صورت میں امریکی عوام اور کانگریس کو جواب دینا پڑے گاتو نکسن نے ہنری کسنجر کو جواب دیا کہ میں امریکہ کا صدر ہوں اور یہ فیصلہ بطور صدر کر رہا ہوں، ایسی بات نہیں کہ بطور صدر فیصلہ کروں اور یہ دیکھوں کہ سب کچھ امریکی عوام کے اختیار میں ہے۔ اس کے بعد صدر نکسن نے لسٹ لی اور واضح کیا کہ ان پابندیوں کی وجہ سے ہم آپ کو براہ راست اسلحہ نہیں دے سکتے البتہ ایران کے راستے سپلائی دے سکتے ہیں۔ دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد جب ہنری کسنجر ہم سے ملا تو اس نے مبارکباد دی کہ مسٹر گورنر آپ کا مشن کامیاب رہا۔ میں نے فوری طور پر ذوالفقار علی بھٹو کو آگاہ کیا اور جب واپس پہنچا تو ایران سے اسلحے کے جہاز پاکستان پہنچ چکے تھے۔ بھٹو نے میرا منہ چوما اور کہا کہ پاکستان بچ گیا، ہم بچ گئے۔ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو میں پاور شیئرنگ کے سوال پر غلام مصطفی کھر نے بتایا کہ بھٹو صاحب چاہتے تھے لیکن اس کے راستے میں رکاٹ یحییٰ خان تھے۔ یہ پتہ بھٹو کو بھی تھا کہ اگر ہم نے پاور لینی ہے تو یحییٰ خان کی مدد کے بغیر نہیں لے سکتے۔اگر اس وقت یحییٰ خان اپنی پاور کو پش پشت رکھ لیتے تو کمپرومائیز کرا سکتے تھے ۔وہ صرف ایک سٹیٹمنٹ دے دیتے کہ میں قوم سے مخاطب ہوں اور قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی کشیدگی میں اور اس قسم کے الیکشن نتائج میں اس وقت تک اقتدار ٹرانسفر نہیں کر سکتا جب تک سیاستدان آئین پر عمل نہ کریں کیونکہ میں تاریخ اور قوم کو جواب دہ ہوں تو یہ کام24 گھنٹوں میں ہو جاتا، پاور شیئرنگ کی باتیں بھٹو صاحب نے کی تھیں لیکن ون ٹو ون کی تھیں، پھر انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ وہ یہ کہتا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا لیکن میں اپنے آپ کو مضبوط کر کے ساری چیزیں کر سکتا ہوں، اس وقت مجھے یہی کچھ کہنا چاہئے جو میں قوم سے کمٹ کر چکا ہوں۔ اس وقت ایجنسیوں کی یہ اطلاعات بھی تھیں کہ اگر مجیب الرحمان کو اقتدار دے دیا گیا تو وہ سٹیٹ بینک، پی آئی اے سمیت تمام ادارے لے جائے گا اور پھر کہے گا کہ خدا حافظ میرا تمہارا کوئی واسطہ نہیں۔بھٹو صاحب اور یحییٰ خان کے بہت مرتبہ رابطے ہوئے اور بہت دفعہ ٹوٹے جبکہ بعض دفعہ ایسے حالات بن گئے کہ یحییٰ خان بھٹو کے سخت خلاف ہو گئے اور انہی دونوں کی بات ہے (ویسے یہ ہماری،ذوالفقار علی بھٹو کی دلی خواہش تھی کہ یحییٰ خان کے ساتھ ہماری دوستی رہ جائے ورنہ وہ بھی اپنا نقصان دیکھتے اور ہم بھی ) بھٹو نے یحییٰ خان کو اپنے لاڑکانہ والے گھر میں دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی جس میں بھٹو کے بااعتماد ساتھی ممتاز بھٹو، حفیظ پیرزادہ، جے اے رحیم اور میں، ڈاکٹر مبشر حسن کا یاد نہیںکہ وہ موجود تھے یا نہیں، نواب آف جونا گڑھ اہلیہ کے ساتھ آئے تھے جن کے یحییٰ خان کے ساتھ گہرے مراستم تھے۔ وہاں یحییٰ خان بہت اچھی فضاءمیں بیٹھے، کھانا تیار ہوا اور شراب کی محفل چلی جو کافی دیر تک چلتی رہی۔ پھر گانے کا اہتمام کیا گیا جس کیلئے اس وقت کی مشہور فلم ایکٹریس مدعو تھی، وہاں تین چار گھنٹے گانا ہوا، اور پھر یحییٰ خان اتنے مست ہو گئے کہ جب کھانے کیلئے بلایا گیا تو یحییٰ خان نے ڈھولک لے کر اپنے گلے میں لٹکا لی اور گانا گاتے ہوئے میز کے اردگرد گھومنے لگے،وہ لیڈ کر رہے تھے اور ہم ان کے پیچھے پیچھے تھے، یحییٰ خان رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ پھر بیٹھ کر کھانا کھایا گیا۔ بھٹو صاحب کے جو حامی جنرلز میں تھے یا کم از کم بھٹو پرو تھے وہ جنرل پیرزادہ تھے اور کچھ حد تک جنرل گل حسن بھی تھے جبکہ جنرل عمر اور اور کئی دوسرے جنرلز بھٹو صاحب کی شکل نہیں برداشت کر سکتے تھے اور بار بار یحییٰ خان سے کہتے تھے کہ بھٹو سے کوئی واسطہ نہ رکھیں، تعلقات کبھی اچھے ہو جاتے تھے اور کبھی برے۔ مارشل لاءلگنے کے بارے میں پیشگی اطلاع کے سوال پر غلام مصطفی کھر کا کہنا تھا کہ ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا، مارشل لاءلگتے وقت میرا نہیں خیال کہ بھٹو صاحب کوئی بہت زیادہ ناراض تھے یا انہوں نے کہا کہ نہیں ہونا چاہئے تھے ففٹی ففٹی والی بات تھی لیکن کچھ عرصے بعد یحییٰ خان نے ٹوٹل رویہ بدل لیا اور پھر بھٹو صاحب اسے گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو یہ ہمارا دوست تھا اور اب ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔اس سوال پر کہ ”مارشل لاءکی صورتحال سے بچنے کے لئے کیا اقدامات کئے جانے چاہئیں تھے“ انہوں نے کہا کہ اگر یحییٰ خان اقتدار نہ چاہتے تو مارشل لاءنہ لگتا۔ اگر مجیب الرحمان، دولتانہ اور ولی خان سمیت بلوچ رہنماﺅں کو مل بیٹھنے کا موقع ملتاتو یہ سب بیٹھ کر معاملات طے کر لیتے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت بھٹو کو اقتدار سے ہٹایا گیا اگر اس وقت چند جر نیل اور ضیاءالحق مارشل لاءنہ چاہتے تو حکومت اور اپوزیشن میںسمجھوتہ ہو جاتا۔ جس معاملے میں فوج کا عمل دخل نہ رہاہے اس میں سیاسی رہنماءکچھ نہیں کر سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سیاست دانوں کو اقتدار کی لالچ تھی اور اصغر خان کو بھی طاقت کی طلب تھی اور وہ بھی فوج کے ہاتھ سے طاقت لینے کو تیار تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آ ج کل صدر زرداری فوج کو خوش چاہتے ہیں اسی طرح ذوالفقار بھٹو نے فوج کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مصطفی کھر نے بتایا کہ وہ اکثر ذو الفقار علی بھٹو کی باتو ں سے اختلاف کرتے تھے اور فوج سے متعلق پالیسی سے بھی اختلاف تھا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے کہا کہ ان کی اس پالیسی سے پارٹی کو بہت نقصان ہو گا جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کے لیے پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد بیورو کریسی اور فوج کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔

مزید :

قومی -