صدارتی ریفرنس کیس، ججوں کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی رائے حتمی ہے: سپریم کورٹ

صدارتی ریفرنس کیس، ججوں کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی ...
صدارتی ریفرنس کیس، ججوں کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی رائے حتمی ہے: سپریم کورٹ

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ ججوں کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی رائے حتمی ہوگی ، صدراپنے صوابدیدی اختیارات استعمال نہیں کرسکتے ´جبکہ اٹارنی جنرل کاکہناتھاکہ کسی شخص کی ڈگری جعلی ہو تو صدر اس کی تقرری روک سکتا ہے، عدالت کو صدر کے اقدام پر فیصلہ دینے کا اختیار نہیں۔ جسٹس خلجی عارف کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی عدم تعیناتی پر دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت کررہاہے ۔ دوران سماعت وسیم سجاد نے کہاہے کہ سیریل نمبر کے لحاظ سے سنیارٹی دی جاتی ہے جس پر عدالت نے کہاکہ ایسے ہائپر سوال نہ اُٹھائیں ۔وسیم سجاد نے کہا کہ عدالت پارلیمانی کمیٹی کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے،کمیشن کے پاس جج سنیارٹی کے تعین کا اختیار نہیں۔ عدالت نے کہا کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے اعتراضات پر پٹیشن آجاتی ہے،کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جج قانون نہیں جانتے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ججز تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی رائے حتمی ہو گی، صدر صوابدیدی اختیارات استعمال نہیں کر سکتے۔اٹارنی جنرل عرفان قادرنے دلائل میں کہاکہ آئین صدر کو صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، آئین کے آرٹیکل 48 ون کے تحت صدر کا صوابدیدی اختیار واضح ہے ،کسی شخص کی بد کرداری یا بد عنوانی میں ملوث ہونے کی اطلاع پر بھی صدر تقرری روک سکتا ہے ، اگر ججوں کی تقرری کے عمل میں آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو صدر تقرری سے انکار کر سکتا ہے تاہم وجہ تحریر کرنا ہو گی۔اُنہوں نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن کے پاس ججوں کی سینیارٹی کے تعین کا اختیار نہیں،اگر بطور سربراہ مملکت صدر کوئی آئینی سقم دیکھے تو کیا پھر بھی تقرری کر دے، صدر ججوں کے تقرر کرنے والی اتھارٹی ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ صدر کو کمیشن اور کمیٹی کے فیصلے کی کوئی غلطی نظر آئے تو وہ کیسے عمل کر سکتا ہے۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو اختیار ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کو سفارشات دوبارہ غور کے لیے بھجوادے۔ جسٹس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ ضروری سمجھتی تو صدر کو ججوں کی تقرر میں کردار دے دیتی۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ عدالت آئین کے کسی حرف یا کوما کو بھی تبدیل نہیں کر سکتی ، آئین کے آرٹیکل 175 اے کو کیسے تبدیل کر دیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...