فیئر ٹرائل بل اکثریت رائے سے ہی منظور ہو گا

فیئر ٹرائل بل اکثریت رائے سے ہی منظور ہو گا
فیئر ٹرائل بل اکثریت رائے سے ہی منظور ہو گا

  


قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ نے فیئرٹرائل بل 2012ءکثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے تحفظات کے حوالے سے اس کی مخالفت کی اور بنیادی اعتراض یہ کیا کہ اس امر کی ضمانت کون دے گا کہ یہ قانون انتقامی کارروائیوں کے لئے استعمال نہیں ہو گا۔ اس اعتراض کے جواب میں ایک پانچ رکنی نگران کمیٹی کی تجویز منظور کی گئی جو اس امر کا جائزہ لیتی رہے گی کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ ہو ۔ یہ قانون اب قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا جس کے بعد سینٹ سے بھی منظوری حاصل کرنا ہو گی۔ وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک نے توقع ظاہر کی کہ یہ بل منظور ہو کر قانون بن جائے گا اور دہشت گردی کے انسداد کا ذریعہ بنے گا ۔ قانون بن جانے کی صورت میں انٹرنیٹ، ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو اور پیغامات بھی بطور شہادت قبول کئے جا سکیں گے اور تفتیشی افسر کے سامنے اقبالی بیان بھی شہادت کے زمرے میں آئے گا ۔

اس قانون کی ضرورت اس لئے محسوس کی جا رہی تھی کہ طاقتور لوگ پکڑے جاتے اور اقبال جرم بھی کرلیتے ہیں مگر جب مقدمہ عدالت میں پیش ہوتا تو وہ اپنے بیان سے منحرف ہو جاتے۔ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں کہ تفتیشی افسر کے سامنے لیا گیا بیان قابل قبول نہیں ہوتا کہ ایسا دباﺅ کے تحت بھی کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح دستاویزی شہادت کے طور پر فون پر ہونے والی گفتگو اور ای میل وغیرہ بھی شہادت کا درجہ نہیں پاتیں جس کی وجہ سے ملزم بری ہو جاتے تھے کہ کوئی گواہ خوف کے مارے شہادت دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس طرح دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے جرائم کے مرتکب لوگ بھی بری ہو جاتے تھے۔ قانون شہادت میں اس تبدیلی کی ضرورت عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی جو اب کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حزب اختلاف کے اعتراضات بھی اپنی جگہ معقول ہیں کہ ہمارے ملک میں انتقاماً قوانین کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے۔ انہی تحفظات کو دور کرنے کے لئے نگران کمیٹی کی تجویز آئی ہے۔ حزب اختلاف کو اس عمل میں حصہ لے کر اس کمیٹی کو موثر اور قانون کا حصہ بنوانا چاہئے۔ موجودہ زمینی حالات میں یہ ترمیم ضروری ہو گئی تھی، اس سے جرائم ا ور دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کا استعمال احتیاط سے کرنا ہو گا۔

اس قانون کے علاوہ ایک اور قانون بھی عرصہ دراز سے زیر التوا ہے، یہ احتساب کا قانون ہے۔ اس پر بھی مسلم لیگ (ن) نے متعدد اعتراضات کر رکھے ہیں۔ اب وزیر قانون نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کے متعدد اعتراضات تسلیم کرکے مسودہ قانون میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ احتساب کا نیا ادارہ بننا ضروری ہے جو خود مختار بھی ہو ۔ ملک میں احتساب کا شفاف اور غیر جانبدار عمل بہت سے عیوب سے بچا ئے گا اور یہ لازمی ہے کیونکہ کرپشن کی کہانیاں بہت عام ہیں۔ اپوزیشن کے اعتراضات بجا ہیںاور حکومت کی اب بھی کوشش ہے کہ یہ بل اتفاق رائے سے منظور ہو، اس کے لئے مزید مشاورت اور مذاکرات کرنا پڑیں تو کوئی حرج نہیں۔ اس وقت احتساب کے حوالے سے موجود اداروں پر توعدم اعتماد ہو چکا ہے۔ حزب اختلاف کو بھی لچک دکھانی چاہئے تاکہ احتسابی نظام قائم ہو سکے۔

فیئر ٹرائل بل

مزید : تجزیہ


loading...