نیشنل جوڈیشل پالیسی کیخلاف وکلاءکی ہڑتال ، سائلین خوار

نیشنل جوڈیشل پالیسی کیخلاف وکلاءکی ہڑتال ، سائلین خوار
نیشنل جوڈیشل پالیسی کیخلاف وکلاءکی ہڑتال ، سائلین خوار

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل جوڈیشل پالیسی کے خلاف پاکستان بار کونسل کی اپیل پرملک بھر میں کہیں مکمل اور کہیں جزوی ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے سائلین کو مشکلات کا سامناکرناپڑااور وہ تاریخیں لے کر مایوس واپس لوٹتے رہے ۔ لاہور ہائی کورٹ بار میں وکلا کی جزوی ہڑتال جبکہ ماتحت عدالتوں میں وکلا کی اکثریت پیش نہ ہوئی۔ ادھر سندھ میں وکلاءکی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں احتجاجی جنرل باڈی اجلاس منعقد ہوا۔لاہور ہائی کورٹ بارکی طرف سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے استدعا کی گئی کہ ہڑتال کے باعث عدالتی کام روک دیا جائے تاہم عدالت نے استدعا مسترد کر دی اور عدالتی کام جاری رکھا۔ماتحت عدالتوں میں وکلا کی اکثریت کے پیش نہ ہونے سے ہزاروں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وکلاءرہنماوں کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالتوں میں زیر التواءمقدمات جنوری 2013ءسے قبل نمٹانا ممکن نہیں ،عدلیہ اور وکلاءعزت کے رشتے کیساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں اور زیر التواءمقدمات صرف ماتحت عدالتوں میں ہی نہیں بلکہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی موجود ہیں جس کو جلداز جلد حل کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھاایا جارہا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کی جانب سے اکتیس دسمبر تک پرانے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے حکم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہڑتال کی کال دی تھی جس کی پنجاب بار کونسل نے بھی حمایت کا اعلان کیا۔

مزید :

اسلام آباد -