پنجاب اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کی قرارداد پھر آگئی ، حکومت اور اپوزیشن کو ’چپ‘ لگ گئی، ہائیکورٹ کوخراجِ تحسین ، قومی مسئلہ سیاست کی نذر کیا گیا: ایم ایم اے

پنجاب اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کی قرارداد پھر آگئی ، حکومت اور اپوزیشن کو ...
 پنجاب اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کی قرارداد پھر آگئی ، حکومت اور اپوزیشن کو ’چپ‘ لگ گئی، ہائیکورٹ کوخراجِ تحسین ، قومی مسئلہ سیاست کی نذر کیا گیا: ایم ایم اے

  

لاہور (نواز طاہر سے) ملک کی تین اسمبلیوں میں شدید مخالفت کے بعد ایک بار پھر پنجاب اسمبلی میں کالا باغ ڈیم بنانے کی قرارداد لانے کی کوشش کی گئی جس دوران تمام جماعتوں کوچپ لگ گئی تاہم سپیکر نے فراست سے یہ معاملہ گول کردیا اور یہ آﺅٹ ٹرن پیش کرنے کی اجازت مانگنے والے ایم ایم اے کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر نورخان نیازی کی احتجاج کی دھمکی بھی نظر انداز کر دی جس سے یہ قرارداد باقاعدہ پیش نہ ہوسکی اور نہ ہی اس ضمن میں رائے دہی کی نوبت آسکی تاہم محرک نے قراداد پڑھ دی جس دوران مائک کھلا رہاجس سے یہ ایوان کی ریکارڈنگ کا حصہ بن گئی۔ لاہور کے بارش سے سرد موسم اور خوشگوار فضاءمیں پنجاب اسمبلی میں بھی تمام پارلیمانی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ماحول خوشگوار رہا اور ن لیگ و پیپلز پارٹی میں اقتدار کی ’طلاق ‘کے طویل عرصے بعد پہلی بار کسی بھی سیاسی جماعت کے قائد کیخلاف نعرہ نہیں لگایا گیا البتہ ہلکے پھلکے چٹکلے چلتے رہے یہاں تک کی پیپلز پارٹی کے سید حسن مرتضیٰ کی کاشتکاروں کے مسائل کی سنجیدہ نشاندہی بھی چٹکلوں کے طور پر لی گئی اور کاشتکاروں کی حمایت میں ان کا چند سیکنڈ کا احتجاجی دھرنا بھی چٹکلہ ہی سمجھا گیا لیکن وزیرقانون اور سپیکر نے اس معاملہ پر پیر کے روز کین کمشنر اور سیکرٹری خوراک کو طلب کرلیا ہے تاکہ گنے کے کاشتکاروں کی بروقت اور پوری ادائیگی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی فصل کی چالیس فیصد غیر قانونی کتوتی کا مسئلہ بھی حل کیا جاسکے۔ ایجنڈے کی پرامن کارروائی کے دوران متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر نور خاں نیازی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کالا باغ ڈیم کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے تاریخ ساز فیصلہ دیا ہے جس پرمیں عدالتِ عالیہ کو مخراجِ تحسین پیش کرتا ہوں تو سپیکر رانا محمد اقبال خاں نے وضاحت کی کہ عدالتوں کو اس طرح کے خراجِ تحسین کی ضرورت نہیں نہ ہی پیش کرنے کی ضرورت ہے تو علی حیدر نور نیازی نے کہا کہ اگر تنقید کی جائے تو درست ہے جس طرح کہ مختلف جماعتیں سیاست چمکانے کیلئے کر رہی ہیں ؟۔ ان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے مگر چند سیاسی جماعتوں نے سیاسی دکان چمکانے کیلئے سرد خانے میں ڈال دیا ہے جبکہ آج درپیش توانائی بحران، صنعتوں کی بندش اور بیروزگاری جیسے مسائل بھی اسی وجہ سے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح دوسری صوبائی اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم کیخلاف قراردادیں منظور کی ہیں، ہمیں بھی ایک قراداد منظور کرنی چاہئے جس میں وفاقی حکومت سے سفارش کی جائے کہ کالا باغ ڈیم بنانے کیلئے اقدامات کرے کیونکہ یہ سیاسی نہیں قومی مسئلہ ہے۔ اس مرحلے پر مسلم لیگ فاورورڈ بلاک کے شیخ علاﺅالدین نے مداخلت کرتے ہوئے ایم ایم اے کے پارلیمانی لیڈر کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے ایم ایم اے کے لیڈر مولانا فضل الرحمان کو تو منا لیں، اس کے بعد یہ قرار داد لے آئیں تو ق لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے شیخ علاﺅالدین پہلے چودھری شجاعت حسین کو تو منالیں جس پر وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئے اور علی حیدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھی اور اس ایوان کے معزز رکن کو یہی علم نہیں کہ مولانا فضل الرحمان سے میرا کوئی تعلق نہیں بلکہ میرا تعلق نوارنی گروپ سے ہے، میرا ضمیربھی زندہ ہے۔ انہوں نے سپیکر سے اجازت مانگی کہ انہیں آﺅٹ آف ٹرن قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے سپیکر کے بولنے سے پہلے ہی انہوں نے قرارداد پڑھنا شروع کردی جبکہ سپیکر انہیں قواعد ملحوظ کرنے کیلئے کہتے رہے مگر پوری قرارداد پڑھ کر انہوں نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ ان کی قراداد پیش کرنے کی اجازت دینے کیلئے ایوان کی رائے حاصل کی جائے لیکن سپیکر نے ایسانہ کیا خاموشی اختیار کئے رکھی جس دوران علی حیدر مسلسل اصرار کرتے رہے مگر سپیکر نے دوسرے ارکان کو فلور دیدیا تو نور نیازی نے اپنا مطالبہ جاری رکھا اور یہ پارلیمانی دھمکی بھی کہ ان کی قراداد پر رائے شماری نہ کرائے جانے کی صورت میں وہ احتجاجاً واک آﺅٹ کریں گے۔ اس مرحلے پروزیرقانون رانا ثناءاللہ خان سمیت مسلم لیگ کے تمام وزراءپارلیمانی سیکرٹری اور ارکان کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے ارکان مکمل طور پر’چپ‘ بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں سے بھی کسی نے کوئی بات نہ کی ۔ 

مزید :

لاہور -