قائمہ کمیٹی نے نادرا کے ”ڈپٹی چیئرمین“ہٹانے کی ہدایت کردی ،آڈٹ نہ کرانے کا بھی نوٹس لے لیا

قائمہ کمیٹی نے نادرا کے ”ڈپٹی چیئرمین“ہٹانے کی ہدایت کردی ،آڈٹ نہ کرانے کا ...
قائمہ کمیٹی نے نادرا کے ”ڈپٹی چیئرمین“ہٹانے کی ہدایت کردی ،آڈٹ نہ کرانے کا بھی نوٹس لے لیا

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے نادرا میں دو ڈپٹی چیئرمینوں کو غیر قانونی طور پر تعینات کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں دو روز میں ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے نادرا میں دو ڈپٹی چیئرمینوں کو غیر قانونی طور پر تعینات کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں دو روز میں ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ پی اے سی کے اجلاس میں نادرا ، نیشنل پریس ٹرسٹ، پاک چائنہ فنانس اور ایگری بزنس سپورٹ فنڈ کی جانب سے آڈٹ نہ کروانے کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ نادرا آڈٹ کیوں نہیں کروا رہا جس پر نادرا حکام نے کہا کہ قانون میں نادرا کو نرمی دی گئی ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ یہ جس ایکٹ کا حوالہ دے رہے ہیں وہ 2001ءکا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد اب سارے ادارے آڈٹ کرانے کے پابند ہیں۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ آئین کے تحت کوئی ایسا ادارہ نہیں جس کا آڈٹ نہیں ہو سکتا۔ نادرا نے آڈٹ کروانے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ کمیٹی نے کہا کہ آڈٹ سے ملکر معاملات طے کریں ورنہ پی اے سی پنڈورا بکس کھولے گی۔ یاسمین رحمان نے کہا کہ کوئی ادارہ آڈٹ سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا جو بھی ٹیکس کی رقم سے چل رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کسی پر کوئی دھبہ لگے ہم قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ ہم سرکاری سطح پر ہونے والی چھوٹ سے چھوٹی رقم کے تبادلے کا آڈٹ کر سکتے ہیں۔ کمیٹی کو وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ نادرا میں2 ڈپٹی چیئرمینوں کی تعیناتی کا معاملہ عدالت میں ہے تاہم چیئرمینوں کی تعیناتی کی 24 اکتوبر کو نادرا بورڈ نے منظوری نہیں دی۔کمیٹی نے کہا کہ بورڈ کی منظوری کے بغیر یہ تعیناتی غیر قانونی ہے۔ایک ہفتے میں اس حوالے سے رپورٹ دیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...