پنجاب حکومت نے ق لیگ کی پولیس مقابلوں کیلئے سپیشل سکواڈ بنانے کی تجویز رد کر دی

پنجاب حکومت نے ق لیگ کی پولیس مقابلوں کیلئے سپیشل سکواڈ بنانے کی تجویز رد کر ...
پنجاب حکومت نے ق لیگ کی پولیس مقابلوں کیلئے سپیشل سکواڈ بنانے کی تجویز رد کر دی

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس مقابلوں پر وزیراعلیٰ شہباز شریف پر تنقید کرنے والی مسلم لیگ ق نے صوبے میں جرائم پیشہ افرادکیخلاف پولیس مقابلوں کیلئے سپیشل ان کاؤنٹر سکواڈ بنانے کی تجویز پیش کردی ہے جو حکومت نے تسلیم نہیں کی تاہم پولیس کی استعداد میں اضافے کی یقین دہانی کرائی ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ جہاں پولیس کو مزاحمت ہوگی وہاں پولیس گولی ضرور چلائے گی۔ پنجاب اسمبلی میں یہ تجویز مسلم لیگ ق کے پارلیمانی لیڈر چودھری ظہیرالدین نے لاہور کی غالب مارکیٹ میں مبینہ مقابلے میں ایک ایک شخص احسان عباس کی ہلاکت پر بحث کے دوران پیش کی۔ اس نوجوان کی ہلاکت پر چودھری ظہیرالدین کے توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیرقانون رانا ثناءاللہ نے بتایا کہ احسان عباس ابتدائی تحقیقات کے مطابق معصوم شہری نہیں بلکہ ڈاکو تھا اور اصلی مقابلے میں مارا گیا ہے تاہم اس کی جوڈیشل انکوائری کرائی جا رہی ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ میڈیا تصویر کا ایسا رخ پیش کر رہا ہے جس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ ملزم مقابلے میں مارا گیا تو پولیس کانسٹیبل نے اس کے قریب سے پسٹل اٹھایا لیکن موقع پر موجود انسپکٹر نے اسے کہا کہ تم نے یہ پسٹل کیوں اٹھایا اور وہ کانسٹیبل پسٹل دوبارہ وہاں رکھنے گیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ ملزم نے موٹر سائیکل چھینی او رپولیس نے اس کا تعاقب کیا او ر وہ زخمی ہوا او روہ خالد کلینک میں علاج کے لئے گیا جہاں اس نے بتایا کہ وہ زخمی ہے لیکن پولیس اس کا تعاقب کرتی وہاں پہنچ گئی او رگلی میں پولیس مقابلے میں مارا گیا۔چوہدری ظہیرالدین نے کہا کہ پولیس پر بھی حملے کئے گئے ہیں جس میں پولیس اہلکاروں کی شہادتیں ہوئی ہیں اور ہم ان فرض شناس سپوتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں لیکن یہاں پہعوام تو کیا پولیس بھی غیر محفوظ ہے اسلئے مجرموں سے مقابلے کیلئے سپیشل انکاﺅنٹر سکواڈ بنایا جانا چاہئے جس پر وزیرقانون نے کہا کہ پنجاب میں پولیس مقابلوں کے لئے سپیشل ا ن کاﺅنٹر سکواڈ نہیں بنایا جا سکتا البتہ مجرموں سے نمٹنے کیلئے پولیس کی تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کر رہے ہیں ۔اس سے پہلے رانا ثنا ءاللہ نے کہا کہ جب مجرم پولیس پر گولی چلائیں گے تو پولیس بھی انہیں مارے گی ۔

مزید : انسانی حقوق


loading...