جنٹلمین جج، عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس

جنٹلمین جج، عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس
جنٹلمین جج، عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس

  

افتخار محمد چودھری اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے ہیں ۔ان کے دور عدلیہ نے صحیح معنوںمیں ایک مضبوط ریاستی ستون کا کام کیا۔ ا±نہوںنے بیوروکریسی ،نیب ، ایف آئی اے اور سیاست دانوں کوجہاں نکیل ڈالی، افتخارمحمد چودھری کی آمر کے آگے ایک ”نہ“ نے عدلیہ کو کمزور سے ایک مضبوط ادارہ بنادیا۔ ان کے جوڈیشل ایکٹوازم سے جہاں عام آدمی کی داد رسی ہوئی وہاں حکمرانوں کی نیندیں بھی حرام ہوئیں۔ قوم ان کی جرات ، منصفانہ فیصلوں، عوامی خزانے کی لوٹ مارکرنے اور خود کو آئین اور قانون سے بالا تر سمجھنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے تاریخی کاموں کو کبھی نہیں بھولے گی۔

نئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، جو اپنے عہدے پر فائز ہو ئے ہیں، انہیں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں میں انتہائی احترام کا مقام حاصل ہے۔آئندہ سال 6جولائی کو اپنی ریٹائرمنٹ تک چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے کام کریں گے۔ ریٹائرڈجسٹس افتخار محمد چودھری نے فل کورٹ ریفرنس ،اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے ظہرانے اورسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی کے عشائیے سے خطاب کے دوران کہا کہ نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی میرے قریب ہیں، مَیں سپریم کورٹ کی باگ ڈور محفوظ ہاتھوں میں دے کر جا رہا ہوں“۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنی اور ساتھی ججوں کی جانب سے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے کہا کہ نئے چیف جسٹس کے طور پر مَیں امید کرتا ہوں کہ پاکستان کا عدالتی نظام آپ کے چھوڑے ہوئے شاندار ورثے سے فائدہ اٹھائے گا۔

وہ 1983ءمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل کی حیثیت سے انرول ہوئے۔انہیں انرولمنٹ کے دس سال بعد، یعنی 1993ءمیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات کیا گیا، جبکہ 7اگست 1994ءکو انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف لیا۔ 31جولائی 2004ءکو سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے۔ اس کے تین سال بعد 3 نومبر2007ءکی ایمرجنسی میں انہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تو غیر فعال کر دئیے گئے، تاہم ستمبر 2008ء میں انہیں بحال کر دیا گیا۔ جمہوریت کی بحالی کے بعد انہوں نے دوبارہ کام شروع کیا۔ انہیں رواں سال ہی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھی تعینات کیا گیا تھا۔

 نامزد چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ آئین نے عدلیہ کو دیگر اداروں کے غیر آئینی اقدامات روکنے کا اختیار دیا ہے،محض آئینی لفاظی عدلیہ کی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتی۔ از خود نوٹسزکے معاملے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، آرٹیکل 184(3) کے تحت جعلی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے،آئین نے یہ اختیارگڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لئے دیا ہے، جسے آئین کی حدود میں استعمال کیا جائے گا۔از خود نوٹس کا اختیار استعمال کرتے وقت اختیارات کی تقسیم کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اختیارکے استعمال میں شفاف ٹرائل کے حق کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہئے۔ یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیارکر جاتا ہے۔

 جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری معزول تھے ، تو جسٹس تصدق حسین جیلانی اس بنچ کے رکن تھے، جس کے روبرو صدارتی ریفرنس کے خلاف ان کی درخواست زیر سماعت تھی۔ 17 جولائی 2007ءکو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اسلام آبادکچہری میں خطاب کرنا تھا، لیکن ان کے خطاب سے تھوڑی دیر پہلے دھماکا ہو گیا، جس پر خوف و ہراس پیدا ہوا۔ بنچ کے ایک سینئر رکن نے چند روزکے لئے مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے کا کہا۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جواب دیا: ” بالکل نہیں، انہیں عدالت اڑانے دیں، ہم شارع دستور پر اپنا فیصلہ سنا دیں گے“۔جسٹس جیلانی نے فاضل جج سے کہا کہ یہ میری سوچ ہے، اس سلسلے میں بنچ کے کسی اور رکن کی رائے بھی لے لی جائے، اس پر ہم جسٹس ناصر الملک کے پاس گئے، لیکن ان کا جواب بھی یہی تھا۔ اس کے 3 روز بعد ہم نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کر دیا۔

 جسٹس تصدق حسین جیلانی نرم خو، مگر قانون پر سختی سے عمل درآمد کرنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ فوزیہ گیلانی کے ماموں ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی گئی تو انہوں نے اس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، جن کا دیانت اور صلاحیت کے حوالے سے سب ہی اچھے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں، اپنے پیش رو کی قائم کردہ روایات کو آگے بڑھائیں گے۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی سے عوام کو یہ بھی امید ہے کہ ماتحت عدالتوں کی سطح پر انصاف کو سستا ، تیز اور آسان بنانے کے لئے جو کام جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور میں نہیں ہوسکا، وہ اس پر توجہ دیں گے۔ امن و امان قائم کرنے کے سلسلے میں موجودہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں بھی سنجیدہ نظر آ رہی ہیں۔ دہشت گردی ، بھتہ خوری ، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ پر جلد یا بدیر قابو پالیا جائے گا۔ تھانہ اور پٹوار کلچر بھی کمپیوٹر کے اس زمانے میں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا ،لیکن ماتحت عدالتوں کے ذریعے عام آدمی کو انصاف کی فوری فراہمی ماتحت عدالتوں کی نگرانی اور احتساب کے کسی موثر نظام کے بغیر ممکن نہیں۔     ٭

مزید :

کالم -